Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش و تلنگانہ میں ایس سی ، ایس ٹی طرز پر ماینارٹیز ایکٹ کی تیاری

آندھرا پردیش و تلنگانہ میں ایس سی ، ایس ٹی طرز پر ماینارٹیز ایکٹ کی تیاری

ریاستی اقلیتی کمیشن سے آج خانگی بل کی اجرائی ، تشدد اور ظلم کے واقعات کے تدارک کی تجاویز
حیدرآباد۔12نومبر ( سیاست نیوز) ایس سی ‘ ایس ٹی ایکٹ کے طرز پر مائناریٹیز ایکٹ کی تیاری ریاستی اقلیتی کمیشن آندھراپردیش و تلنگانہ نے مکمل کرلی ہے ۔ 13نومبر کو کمیشن کی جانب سے زائد از ایک سال کی جدوجہد کے ساتھ تیارکردہ یہ خانگی بل جاری کیا جائے گا تاکہ اس پر عوامی رائے حاصل کرتے ہوئے ترامیم کے ساتھ اسے حکومت کو پیش کیا جاسکے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی اقلیتی کمیشن نے اقلیتوں ‘دلت اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کیلئے ” The Minorities ,Dalits and other Marginalised Section ( Prevention of Atrocities) Act, 2015 ” تیار کیا ہے جو کہ ایس سی ‘ ایس ٹی طبقات کی طرح اقلیتوں و پسماندہ طبقات کو حقوق فراہم کرے گا ۔ اس مسودہ قانون کو حکومت کے ذریعہ منظور کروانے کیلئے کئے جانے والے ان اقدامات سے اقلیتی طبقات کو اپنے حقوق کے تحفظ کی راہیں ہموار ہوگئیں۔ ایس سی ‘ ایس ٹی ایکٹ میں ان طبقات کو جو حقوق فراہم کئے گئے ہیں اُن کے مطابق اگر وہ ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں ہراساں کرنے والوں کے خلاف فوجداری کارروائی کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ اسی طرح ہندوستان میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو مختلف بنیادوں بالخصوص مذہبی بنیاد پر ہراسانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے اقلیتی کمیشن نے ایک سال قبل مسودہ قانون تیار کرنے کا اعلان کیا تھا اور اطلاعات کے مطابق اس مسودہ کی تیاری مکمل ہوچکی ہے جسے آج جاری کیا جائے گا ۔ ریاست تلنگانہ میں پیش آئے مختلف واقعات جیسے کشن باغ فائرنگ واقعہ ‘ مہدی پٹنم گیریژن میں مصطفیٰ نامی معصوم لڑکے کو نذرآتش کرنے کے واقعہ کے علاوہ رنگاریڈی اور نظام آباد میں پولیس ہراسانی کے واقعات اور آلیر انکاؤنٹر میں پانچ مسلم نوجوانوں کو ہلاک کرنے جیسے واقعات پر اس قانون کے ذریعہ کنٹرول ممکن ہوسکتا ہے ۔ اقلیتوں کو ہراسانی اور ناانصافیوں جیسے مسائل سے نجات دلانے کیلئے یہ قانون انتہائی کارکرد ثابت ہوسکتا ہے ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب مسودہ قانون میں اقلیتوں کو ہراساں کرنے والے عہدیداروں کے خلاف فوجداری کارروائی کی گنجائش فراہم کی گئی ہے ۔ علاوہ ازیں مذہبی بنیادوں پر ناانصافیوں اور ہراسانیوں کے مرتکب ہونے والوں کے خلاف بھی غیرضمانتی دفعات کے تحت کارروائی کی گنجائش فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ جناب عابد رسول خان صدر نشین ریاستی اقلیتی کمیشن آندھراپردیش کی جانب سے تیارکردہ اس قانون کو عوامی حمایت حاصل ہوتی ہے اور حکومت کو یہ قانون بطور خانگی بل پیش کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا جاسکے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست آندھراپردیش و تلنگانہ دونوں حکومتوں کو کمیشن کی جانب سے یہ مسودہ عوامی رائے حاصل کرنے اور کی جانے والی ترامیم کے ساتھ روانہ کرتے ہوئے اس بات کی خواہش کی جائے گی کہ حکومت اس پر غور کرتے ہوئے اسے اسمبلی میں پیش کرے اور اس خانگی بل کو منظور کرتے ہوئے ریاست میں رہنے والے اقلیتوں و پسماندہ طبقات کے حقوق و مفادات کو محفوظ کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT