Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش و تلنگانہ وقف بورڈس کی تشکیل کے ساتھ ہی سیاسی مداخلت کا آغاز

آندھرا پردیش و تلنگانہ وقف بورڈس کی تشکیل کے ساتھ ہی سیاسی مداخلت کا آغاز

فرض شناس اور اصول پسند عہدیدار نشانہ ، مقامی سیاسی جماعت کا حکومت پر دباؤ
حیدرآباد ۔ 26۔ اکتوبر (سیاست نیوز) آندھراپردیش وقف بورڈ کی تقسیم اور تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کے ساتھ ہی اوقافی امور میں سیاسی مداخلت کا آغاز ہوچکا ہے اور فرض شناس اور اصول پسند عہدیداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کے ساتھ ہی مقامی سیاسی جماعت اور وقف لابی کے دباؤ کے تحت تلنگانہ حکومت نے گزشتہ ایک سال سے خدمات انجام دینے والے عہدیدار مجاز ایم جے اکبر کو اچانک ذمہ داری سے سبکدوش کردیا۔ ان کی اچانک تبدیلی اور سکریٹری اقلیتی بہبود کو کم رتبہ کی زائد ذمہ داری سے محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ کے عہدیدار و ملازمین حیرت میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی سیاسی جماعت نے ان کی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے سے انکار پر عہدیدار مجاز کی تبدیلی کا حکومت پر دباؤ بنایا۔ اب ان کا اگلا نشانہ موجودہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر ہیں جن کی خدمات محکمہ مال سے بطور خاص حاصل کی گئی ہیں۔ مذکورہ دونوں عہدیداروں نے اوقافی امور کے سلسلہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی سیاسی دباؤ کے آگے خود کو جھکایا۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی جماعت نے حکومت پر اثرانداز ہوتے ہوئے تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کے ساتھ ہی عہدیدار مجاز کو سبکدوش کردیا ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل خود بھی حکومت کے اس فیصلے سے حیرت میں ہیں جس کا اظہار انہوں نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس نئی   ذمہ داری کے بارے میں لاعلم تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اعلیٰ عہدیدار کو کم رتبہ کی ذمہ داری دی گئی لیکن وہ حکومت کے احکامات کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد عہدیدار مجاز وقف بورڈ کی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائیں۔ کیونکہ موجودہ صورتحال سے وہ اپنے فیصلوں کے خود نگرانکار ہیں۔ عہدیدار مجاز کی حیثیت سے وہ جو فیصلے کریں گے ان کا جائزہ انہیں سکر یٹری کی حیثیت سے لینا ہے ۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ ان کا کوئی فیصلہ وقف ایکٹ کے خلاف نہ ہو۔ ایک سوال کے جواب میں سکریٹری اقلیتی بہبود نے کہا کہ بعض وجوہات کے سبب حکومت کو یہ فیصلہ لینا پڑا۔ تاہم انہوں نے وجوہات کی وضاحت نہیں کی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایم جے اکبر کی سبکدوشی کی اہم وجہ ان کے اصول پسندانہ فیصلے اور وقف بورڈ میں بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کے خاتمہ کیلئے سخت اصلاحی اقدامات ہیں۔ اگر ایم جے اکبر اس عہدہ کے اہل نہ ہوتے تو انہیں حکومت دوسری مرتبہ میعاد میں توسیع نہ کرتی۔ 6 ماہ کی تکمیل کے بعد انہیں مزید 6 ماہ کیلئے اسپیشل آفیسر مقرر کیا گیا تھا ۔ درمیان میں جب ہائیکورٹ نے اسپیشل آفیسر کے تقرر کو کالعدم قرار دیا تب حکومت نے دوبارہ ایم جے اکبر کو عہدیدار مجاز کی حیثیت سے وقف بورڈ پر فائز کیا تھا ۔ اس طرح تقریباً ایک سال تک انہوں نے وقف بورڈ میں نمایاں خدمات انجام دیں اور اس مدت کے دوران انہوں نے کئی ایسے اہم قدم اٹھائے جن سے اوقافی جائیدادوں کا تحفظ اور بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ بھی مقامی سیاسی جماعت کی آنکھوں میں کھٹک رہے ہیں اور انہیں اس عہدہ پر برقرار رکھنے کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ مقامی اور وقف لابی کے دباؤ کے نتیجہ میں حکومت نے آج تک ان کے تقرر کے احکامات جاری نہیں کئے ۔ حالانکہ تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کے ساتھ ہی نئے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کا تقرر ضروری ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے جمعہ کے دن اعلان کیا تھا کہ پیر تک احکامات جاری کئے جائیں گے لیکن آج تک احکامات جاری نہیں کئے گئے ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت پر زبردست دباؤ ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو وقف بورڈ میں کوئی بھی ایماندار اور دیانتدار عہدیدار خدمات انجام دینے کیلئے راضی نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT