Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش کی تقسیم پر مودی کا بیان پارلیمنٹ کی توہین کے مترادف

آندھرا پردیش کی تقسیم پر مودی کا بیان پارلیمنٹ کی توہین کے مترادف

400 کروڑ کے خرچ سے امراوتی فلم، چندرا بابو پر تنقید: پی سدھاکر ریڈی
حیدرآباد /23 اکتوبر (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل پی سدھاکر ریڈی نے 400 کروڑ روپئے خرچ کرکے ناکام امراوتی فلم دکھانے کا چیف منسٹر آندھرا پردیش پر الزام عائد کیا۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امراوتی کی سنگ بنیاد تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے چیف منسٹرس کی ستائش کی، مگر تقسیم ریاست بل میں آندھرا پردیش اور تلنگانہ سے جو وعدے کئے گئے تھے، ان پر عمل آوری کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی اعلان نہ کرکے تلگو عوام کو مایوس کیا۔ سستی شہرت کے لئے اپنی اپنی ریاست کے مفادات کے تحفظ کے معاملے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنے والے چندر شیکھر راؤ اور چندرا بابو نائیڈو نے بھی وزیر اعظم سے بل پر عمل آوری کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی وزیر اعظم نے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ انھوں نے وزیر اعظم کی جانب سے آندھرا پردیش کی تقسیم کو تکلیف دہ عمل قرار دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی نے پارلیمنٹ کی توہین کی ہے، لہذا انھیں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے ملک کے عوام سے معذرت خواہی کرنی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اس ریمارک کے وقت کے سی آر بھی شہ نشین پر موجود تھے، لیکن انھوں نے احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی میڈیا کے ذریعہ اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ انھوں نے کہ کہ راجیہ سبھا میں تلنگانہ بل پیش کرنے کے دوران وینکیا نائیڈو نے آندھرا پردیش کو دس سال تک خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن مرکزی وزیر ہونے کے باوجود اس سلسلے میں حکومت پر دباؤ ڈالنے میں ناکام ہو گئے۔

TOPPOPULARRECENT