Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھرا پردیش کے ججس کا تلنگانہ میں تقرر

آندھرا پردیش کے ججس کا تلنگانہ میں تقرر

حیدرآباد ہائی کورٹ کے وکلاء کا احتجاج ، عدالتوں کا بائیکاٹ
حیدرآباد۔/9جون، ( سیاست نیوز) ہائی کورٹ کی تقسیم میں تاخیر اور آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے ججس کے تلنگانہ میں تقررات کے خلاف حیدرآباد ہائی کورٹ کے وکلاء کا احتجاج جاری ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں بھی وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاج میں حصہ لیا۔ تلنگانہ ایڈوکیٹس جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے تلنگانہ کیلئے الاٹ کردہ ججس کی جائیدادوں پر آندھرائی ججس کے تقررات کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں فوری واپس طلب کرنے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آپشن کے نام پر آندھرائی ججس کو تلنگانہ میں تقرر کیا جارہا ہے جو تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی ہے جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ ایڈوکیٹس اسوسی ایشن کے صدر جی رام موہن راؤ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ناانصافیوں کا فوری ازالہ کرے۔ وکلاء نے ہائی کورٹ کے روبرو احتجاج منظم کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔ اس احتجاجی پروگرام میں وکلاء جے اے سی کے کنوینر ایم راجندر ریڈی، جی رگھوناتھ، ایس ستیم ریڈی، ہائی کورٹ ایڈوکیٹس اسوسی ایشن کے عہدیدار، گوپی ریڈی چندر شیکھر ریڈی، ارون کمار، جناردھن گوڑ، اوپیندر کرشنا ریڈی، وینکٹیشور راؤ اور دوسروں نے حصہ لیا۔ وکلاء کے نمائندوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کی تقسیم اور تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے باوجود ہائی کورٹ کی تقسیم میں تاخیر کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم میں تاخیر سے نہ صرف مقدمات کی یکسوئی میں تاخیر ہورہی ہے بلکہ عوام کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ ہائی کورٹ کی تقسیم کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت نے ایک سے زائد مرتبہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزرائے داخلہ و قانون سے نمائندگی کی لیکن صرف تیقنات دیئے گئے۔ اسوسی ایشن نے دھمکی دی کہ اگر مطالبات پر فوری عمل نہیں کیا گیا تو احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT