Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / آٹو رکشا اسکیم، تمام اہل امیدواروں میں عنقریب آٹوز تقسیم

آٹو رکشا اسکیم، تمام اہل امیدواروں میں عنقریب آٹوز تقسیم

غریبوں کے چہرے پر خوشی دیکھنا حکومت تلنگانہ کا مقصد ، ڈپٹی چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد۔/8ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اعلان کیا کہ حیدرآباد اور رنگاریڈی میں آٹو رکشا اسکیم کیلئے جن 1700 امیدواروں کو اہل قرار دیا گیا تھا ان تمام کو آٹو رکشا جاری کئے جائیں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے آج حج ہاوز میں منعقدہ تقریب میں قرعہ اندازی کے ذریعہ 992 افراد کا انتخاب کیا جو اس اسکیم کیلئے مستحق قرار پائے ہیں۔ عیسائی طبقہ کے 7 اور سکھ طبقہ کی ایک درخواست کو قرعہ اندازی کے بغیر منتخب قرار دیا گیا ہے اس موقع پر انہوں نے کہا کہ باقی 700 درخواست گذاروں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے وہ تمام کو آٹو رکشا منظور کرانے کیلئے چیف منسٹر سے نمائندگی کریں گے اور اندرون ایک ہفتہ اس سلسلہ میں احکامات جاری کردیئے جائیں گے۔ اس اعلان کا تقریب میں موجود آٹو ڈرائیورس کی جانب سے زبردست خیرمقدم کیا گیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حیدرآباد و رنگاریڈی سے اس اسکیم کا آغاز ہوا ہے اور ہر ضلع میں اسے توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں 500آٹو رکشا جاری کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس طرح جملہ 4500آٹوز غریب خاندانوں کیلئے جاری کئے جائیں گے تاکہ ان خاندانوں کی معاشی پسماندگی دور ہوسکے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اعلان کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ غریبوں کی فلاح و بہبود کیلئے کئی اسکیمات کا منصوبہ رکھتے ہیں اور آئندہ مالیاتی  سال بعض نئی اسکیمات کے آغاز کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر غریب کے چہرے پر خوشی دیکھنا اور سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کے سی آر کا اہم مقصد ہے جس کیلئے وہ دن رات کام کررہے ہیں۔ محمود علی نے آٹو رکشا اسکیم کیلئے کانگریس دور حکومت میں ایم ایل سی کی حیثیت سے کی گئی نمائندگی کا حوالہ دیا اور کہا کہ اسوقت کے وزیر اقلیتی بہبود سے اس اسکیم کے سلسلہ میں بارہا نمائندگی کی گئی تھی لیکن کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ٹی آر ایس برسراقتدار آنے کے بعد اس اسکیم کا آغاز کیا جارہا ہے جو کے سی آر حکومت کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی سب سے پہلے آٹو رکشاؤں پر ٹیکس معاف کرنے کے احکامات جاری کئے گئے جس کے تحت 73کروڑ روپئے کے بقایا جات معاف کئے گئے اور سالانہ 53 کروڑ کی آمدنی سے حکومت نے دستبرداری اختیار کرلی۔ چندر شیکھر راؤ کو غریب پرور اور اقلیتوں کا ہمدرد قائد قرار دیتے ہوئے محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ میں 1130کروڑ روپئے اقلیتی بہبود کا بجٹ ہے اور اسے مکمل خرچ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس دور حکومت میں راشن کارڈ پر چاول کی سربراہی محدود تھی لیکن کے سی آر نے خاندان کے ہر رکن کیلئے 6کیلو چاول کی سربراہی کا آغاز کیا۔ ’شادی مبارک‘ اسکیم کے تحت ابھی تک 21800 غریب خاندانوں کو امداد دی گئی ہے۔ انہوں نے اس اسکیم پر کامیاب عمل آوری کیلئے عہدیداروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ اسٹاف کی کمی کے باوجود اقلیتی بہبود کے عہدیدار بہتر طور پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب اقلیتی طلباء کو بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کیلئے 10لاکھ روپئے کی امداد فراہم کرنے کا منفرد اقدام کیا گیا اور پہلے مرحلہ میں 210 طلباء کو منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے 14برس تک پُرامن جدوجہد کے ذریعہ تلنگانہ حاصل کیا اور کے سی آر نے مرن برت رکھا تھا جس کے بعد مرکز نے تشکیل تلنگانہ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں ایک لاکھ 60ہزار روپئے میں آٹو رکشا خریدے گئے تھے لیکن فی الوقت ایک لاکھ 40 ہزار میں آٹو خریدا گیا ہے۔ محمد محمود علی نے گریٹر حیدرآباد میں 6 لاکھ غریب خاندانوں کو 418کروڑ روپئے کے برقی اور آبرسانی کے بقایا جات کی معافی کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکومت کا یہ اقدام غریبوں کی بھلائی میں کے سی آر کی سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے۔ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن نے بی شفیع اللہ نے بتایا کہ اسکیم کے تحت 2500درخواستیں داخل کی گئی تھیں جن میں 900درخواستیں مسترد کردی گئیں۔ 7 عیسائی طبقہ کی درخواستیں اور سکھ طبقہ سے ایک درخواست موصول ہوئی جنہیں قرعہ اندازی کے بغیر منتخب کرلیا گیا ہے۔ 992 افراد کا قرعہ اندازی کے ذریعہ انتخاب کیا گیا۔ اس اسکیم میں کارپوریشن 50فیصد رقم بطور سبسیڈی فراہم کرے گا جبکہ آٹو کی مالیت کی 50فیصد رقم بینک بطور قرض جاری کرے گا۔ تقریب میں سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل ، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر، ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور اور جوائنٹ کمشنر ٹرانسپورٹ ٹی رگھوناتھ اور دوسرے شریک تھے۔ منتخب افراد کو اندرون ایک ہفتہ چیف منسٹر کے ہاتھوں آٹو رکشا حوالے کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT