Monday , August 21 2017
Home / مضامین / آہ …عبدالستار ایدھی

آہ …عبدالستار ایدھی

ابو معوذ
پاکستان میں جب بھی دہشت گردوں کے حملے ، بم دھماکے، نسلی تشدد، مسلکی مار پیٹ، قتل و غارت گری، سیلاب و زلزلوں کی تباہ کاریاں، کمزور و ناتوانوں پر طاقتوروں کے ظلم و بربریت کے واقعات پیش آتے تو ان واقعات کے ساتھ ایک نام ضرور جڑا نظر آتا ہے پاکستان کے ممتاز فلاح کار اور انسانیت نواز شخصیت عبدالستار ایدھی اور ان ’’ ایدھی فاؤنڈیش‘‘کا نام بم دھماکوں کے دوران نعشوں کے ڈھیروں میں اس فاؤنڈیشن کے کارکن گھس جاتے ہیں اور انھیں ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولنسوں میں ڈال کر اسپتال منتقل کرتے ہیں، اسی طرح زخمیوں کو فوری طبی امداد بہم پہنچانے کیلئے اس فاؤنڈیشن کا طبی عملہ فوری حرکت میں آجاتا ہے۔سیلاب و دیگر آفات سماوی کی صورت میں بھی عبدالستار ایدھی فاؤنڈیشن سرکاری ایجنسیوں سے بھی آگے آگے دکھائی دیتا ہے۔ اپنی زندگی مجبور انسانیت کیلئے وقف کردینے والے 88سالہ مولانا عبدالستار ایدھی اپنی  بلقیس کے ساتھ اپنی عمر کے اس حصہ میں بھی زخموں سے کراہتی انسانیت کی مرہم پٹی اور اس کی دلجوئی میں لگے ہے،

ان کے سر پر صرف خدمت خلق کا جذبہ ایک جنون کی حد تک سوار رہا کرتا تھا۔ مولانا عبدالستار ایدھی پاکستان کے کروڑہا مجبوروں، بے کسوں و یتیموں، یسیروں، غریبوں، مفلسوں، بیماروں، معذوروں، لاچاروں، سماج کے ہاتھوں لٹی پٹی خواتین، والدین کے گناہوں کا خمیازہ بھگتنے والے معصوم بچوں، ذہنی طور پر معذور و مفلوج مرد و خواتین، منشیات کی لعنت و لت کا شکار نوجوانوں یہاں تک کہ ملک کی مختلف ایجنسیوں کی اُمیدوں کا مرکز بنے رہے۔ انھوں نے مصیبت زدہ عوام کی بہبود کیلئے اپنی ساری زندگی وقف کردی ۔ مولانا عبدالستار ایدھی کے فلاحی و خیراتی کام صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ انھوں نے خدمت خلق کے شعبہ میں سرحدوں کو بھی پار کردیا ہے۔ لبنان میں 1983ء کی خانہ جنگی ہو یا غزہ میں فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے مظالم یا پھر بنگلہ دیش میں خطرناک طوفان کی تباہ کاریاں ایدھی فاؤنڈیشن کے کارکن مصیبت زدگان و متاثرین کی مدد کرتے ہوئے آپ کو ضرور نظر آئیں گے۔ ان کی سرگرمیاں صرف ایشیائی ممالک تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ آفریقہ، مشرق وسطیٰ، علاقہ قصقاص کے ممالک، مشرقی یوروپ اور امریکہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔

سال 2005ء میں امریکہ کے اورلبہنس میں طوفان نے جو زبردست تباہی مچائی تھی اس وقت پاکستان کی اس انسانیت دوست شخصیت نے وہاں کے مصیبت زدہ انسانوں کو بھرپور امداد فراہم کی تھی۔ مولانا عبدالستار ایدھی کے چلائے جارہے فاؤنڈیشن کو دنیا کی سب سے بڑی ایمبولنس خدمات چلانے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ گینس بک آف دی ورلڈ ریکارڈس میں بھی اسے شامل کیا گیا ہے۔ کسی اعزاز، انعام و اکرام یا صلہ کی تمنا کئے بغیر مولانا عبدالستار ایدھی اپنے فاؤنڈیشن کے ذریعہ مفت نرسنگ ہومس، یتیم خانے، کلینکس، بے سہارا اور حالات کی ستائی ہوئی خواتین کیلئے ’ آسرا گھر ‘  منشیات کی لت میں مبتلا افراد اور ذہنی و جسمانی طور پر معذور لوگوں کیلئے مراکز بازآبادکاری چلاتے رہے جس کا سلسلہ اشارۃً آئندہ بھی جاری رہے گا۔ پاکستان بلکہ دنیا کی اس غیر معمولی و عظیم شخصیت کی سادگی، کفایت شعاری اور جذبہ خدمت خلق کا جواب نہیںتھا۔ پاکستان کی پیدائش یعنی قیام کے ساتھ ہی ایدھی فاؤنڈیشن کی فلاحی و خیراتی سرگرمیاں ایک طرح سے شروع ہوچکی تھیں۔1928ء میں ہندوستانی گجرات کے علاقہ بنٹوا میں پیدا ہوئے عبدالستار ایدھی 1947ء میں اسوقت پاکستان منتقل ہوئے جب تقسیم کے باعث دونوں جانب معصوم عوام کا قتل عام جاری تھا۔ تاریخ کے اس دردناک اور انسانیت سوز دور میں لاکھوں افراد کا قتل کیا گیا، خواتین کی عصمتیں لوٹی گئیں، حد تو یہ کہ ہزاروں خواتین و لڑکیوں کو زبردستی اُٹھاکر اپنے گھروں میں رکھ لیا گیا۔ ہندوستان و پاکستان میں آج بھی اس طرح کی خواتین موجود ہیں جو اس قسم کے ناقابل فراموش سانحہ سے گذر چکی ہیں۔ مولانا عبدالستار ایدھی دراصل میمن طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، وہ 11سال کے ہی تھے کہ ان کی ماں فالج کا شکار ہوگئیں

اور بعد میں ذہنی عارضہ میں مبتلا ہوکر تقریباً 8سال تک فَریش رہنے کے بعد اس دار فانی سے کوچ کرگئیں۔ اس وقت عبدالستار ایدھی کی عمر 19سال تھی۔ ماں کی موت نے انھیں دہلاکر رکھ دیا تھا، تب ہی نوجوان ایدھی نے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ زندگی بھر ذہنی طور پر معذور لوگوں کی خدمت کریں گے اور دُکھتی انسانیت کے درد کا مداوا کریں گے۔ کراچی آمد کے موقع پر ان کی جیب میں ایک پائی تک نہیں تھی، جیسے تیسے کرکے انھوں نے پھر پھر کر میوہ فروخت کرنا شروع کیا اور بعد میں کراچی کی ہول سیل کپڑا مارکٹ میں کمیشن ایجنٹ بن گئے لیکن چونکہ اُن کے ذہن و دل پر خدمت خلق کا جذبہ چھایا ہوا تھا، اپنی میمن کمیونٹی کے قائم کردہ فلاحی و خیراتی ٹرسٹ میں رضاکارانہ طور پر کام شروع کردیا۔لیکن وہاں انھیں یہ دیکھ کر کافی تکلیف ہوئی کہ ان خدمات کو صرف میمن برادری تک ہی محدود رکھا گیا تھا۔ ایدھی چاہتے تھے کہ ہرضرورت مند کی مدد کی جائے کیونکہ مصیبت، دردوالم، بیماریوں، غربت و افلاس کا کوئی مذہب، کوئی مسلک اور کوئی طبقہ یا فرقہ نہیں ہوتا۔ بعد میں انھوں نے اپنے ذاتی مصارف سے ایک مفت ڈسپنسری قائم کی اور ’’ ایدھی ٹرسٹ‘‘ کے  نام سے ویلفیر ٹرسٹ قائم کردیا۔ یہ ایک ایسا بھی دور تھا جب مولانا عبدالستار ایدھی ایمبولنس کی خریدی کیلئے کراچی کی سڑکوں کے کنارے ٹہرے بھیک مانگا کرتے تھے۔ ان کے فلاحی کام بعض عناصر کو بہت بُرے لگے، یہاں تک کہ اُن کی زندگی کو خطرہ تک پیدا ہوگیا۔ ایسے میں عبدالستار ایدھی یوروپ کے دورہ پر روانہ ہوئے، وہاں بھی انھوں نے اپنے ٹرسٹ کی سرگرمیوں کیلئے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائے۔ انھیں لندن میں بہترین ملازمت کا پیشکش بھی کیا گیا لیکن اس ولی صفت شخصیت نے یہ کہتے ہوئے معذرت خواہی کرلی کہ مجھے مجبور و بے بس کیلئے بہت کچھ کرنا ہے۔ عبدالستار ایدھی رات دیر گئے اپنے قائم کردہ کلینکس کے سامنے مٹی کے چبوترہ پر سوجاتے تھے تاکہ رات دیر گئے آنے والے ضرورت مند کی مدد کی جاسکے۔ انھوں نے فلاحی خدمات جاری رکھتے ہوئے اپنا گھر بسانے کی کوشش بھی کی لیکن کم از کم سات خواتین نے اُن کے پیام کو ٹھکرادیا تھا۔ تاہم ایدھی ٹرسٹ کے کلینک میں کام کرنے والی جذبہ خدمت خلق سے سرشار ایک نرس بلقیس نے 1965ء میں اُن سے شادی کی اور اس جوڑے کو دو لڑکے ، دو لڑکیاں ہیں۔ بلقیس ایدھی‘ ’’ ایدھی فاؤنڈیشن‘‘ کے ہیڈکوارٹر کراچی میں مفت میٹرنٹی ہوم چلاتی ہیں اور ناجائز تعلقات سے پیدا ہوئے ان بچوں کی پرورش کرتی ہیں جنہیں ان کی بدنصیب ماؤں نے کسی کوڑے دان میں ڈال دیا تھا یا کہیں چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ رامن میگسسے ایوارڈ، لینین امن انعام، متحدہ عرب امارات کے حمدان ایوارڈ فار ہیومانٹیرین اینڈ میڈیکل سرویسس ۔ روٹری انٹر نیشنل فاؤنڈیشن کا پال ہیریس فیلو ، پاکستان کے سب سے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’ نشان امتیاز ‘ کے بشمول کئی قومی و بین الاقوامی ایوارڈس بھی عبدالستار ایدھی کو دیئے گئے جبکہ پاکستان اور بیرون پاکستان کئی یونیورسٹیوں کی جانب سے مولانا کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں بھی عطاء کی گئیں۔ خود مولاناعبدالستار ایدھی اپنی سرگرمیوں کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ان کی زندگی کا واحد مقصد ہی خدمت خلق ہے، وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان میں غریب بیماریوں سے کراہتے رہیں‘ لاوارث نعشیں تجہیز و تکفین کی منتظر رہیں‘ اور سڑکوں پر حادثات و خودکش بم دھماکوں اور تشدد کے زخمی تڑپ تڑپ کر جان دے دیں۔ایک اندازے کے مطابق ایدھی ٹرسٹ نے اب تک 2-5لاکھ لاوارث میتوں کی تدفین عمل میں لائی ہے۔ اس کے یتیم خانوں میں لاکھوں بچوں کیلئے قیام و طعام کے ساتھ تعلیم کا بہترین بندوبست کیا گیا ہے۔ عبدالستار ایدھی اور ان کی اہلیہ ان بچوں کو اپنی جانوں سے زیادہ اہمیت دیا کرتے، ان کی مسکراہٹیں ہی ان دونوں کی زندگی بن گئی تھی۔

’’ ایدھی فاؤنڈیشن‘‘ کی اہمیت اور عوام میں اس کی قدرومنزلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مجرمین کی ٹولیوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی کے دوران جب  ایدھی ٹرسٹ کی ایمبولنس پہونچتی ہے تو گولیاں چلنی اچانک بند ہوجاتی ہیں، جیسے ہی ٹرسٹ کے کارکن نعشوں اور زخمیوں کو ایمبولنس میں ڈال کر روانہ ہوتے ہیں‘ پھر لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔ مولانا عبدالستار ایدھی نے اب تک 50 ہزار تا دیڑھ لاکھ تک ناجائز بچوں کی پرورش کی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ وہ اپنے کام میں اتنے مگن رہا کرتے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی میں بھی شرکت نہ کرسکے۔ ایشیاء میں لاوارث نعشوں کو غسل دے کر ان کی بڑے پیمانے پر تجہیز و تکفین کا سلسلہ شروع کرنے کا کریڈٹ بھی مولانا ایدھی کو جاتا ہے۔ مولانا ایدھی ان کی اہلیہ بلقیس اور بچوں کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن کے کارکن جس جدوجہد کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں اس کیلئے  ان کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔ مولانا ایدھی نے زندگی بھر غریبوں ، یتیموں ،بے بسوں، بے کسوں ، مریضوں ، بے سہارا بچوں و خواتین اور بھوکوں کی مدد کو اپنا شیوہ بنایا۔ بم دھماکے، بندوقوں کی گولیاں، غنڈہ عناصر کی لاٹھیاں ، سیاستدانوں کی مکاریاں، عہدیداروں کی چالبازیاںبھی ان کا راستہ نہیں روک سکیں۔ وہ سادگی ، دیانتداری ، سخت محنت اور پابندی وقت کا ایک اعلیٰ نمونہ تھے لیکن ایسی ولی صفت شخص کو خود پاکستان میں وہ مقام حاصل نہ ہوسکا جس کے وہ مستحق تھے۔ عالمی سطح پر بھی ان سے سخت ناانصافی کی گئی۔ امن کے نوبل انعام کیلئے ان سے کوئی زیادہ مستحق نہیں تھا۔ اس کے باوجود مولانا عبدالستار ایدھی کو نوبل انعام سے محروم رکھا گیا ۔ اگر یہ انعام مولانا ایدھی کو دیا جاتا تو وہ خود نوبل انعام کیلئے ایک اعزاز ہوتا۔ مولانا ایدھی گردوں کے عارضہ میں مبتلا رہ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کے ساتھ لاکھوں یتیموں ، بیواؤں اور بے سہارا لوگوں کی دعائیں ہیں۔ ان کی زندگی اور موت دونوں عوام اور خاص طور پر پاکستانی سیاستدانوں کیلئے ایک مثال ہے ۔ آج نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا کو مولانا عبدالستار ایدھی جیسی عظیم شخصیتوں کی ضرورت ہے جو اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کیلئے جیتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT