Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / آہ! یہ سڑک حادثات

آہ! یہ سڑک حادثات

فیض محمد اصغر
حالیہ عرصہ کے دوران شہر حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں سڑک حادثات کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ ان حادثات میں ہونے والے اکثر نوجوان طالب علم رہے ۔ حال ہی میں پرگی کے قریب حیدراباد کے دو نوجوان علماء کرام کے حادثہ میں جاں بحق ہونے پر غم کا ماحول پایا جاتا ہے ۔ ویسے بھی شہر میں پیش آئے سڑک حادثات میں ہر روز کم از کم 2 ہلاکتیں ہوتی ہیں ۔ ان میں مضافاتی علاقوں میں اکثر نوجوان اپنی زندگیوں سے محروم ہورہے ہی ں۔ شاید نوجوانوں کو یہ اندازہ نہیں کہ وہ ملک و ملت کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔ والدین سے لیکر ملت اور ساری قوم کو ان کی صلاحیتوں سے کئی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں ۔ وہ ماں باپ کے ارمانوں کی امیدیں اور توقعات کا محور ، بھائی بہنوں کی خوشیوں کا مرکز اور بیوی بچوں کی آرزوؤں کا ذریعہ ہوتے ہیں ۔ ماں باپ انھیں بڑی چاہتوں سے پاس پوس کر بڑا کرتے ہیں ۔ اگر اولاد کی آنکھوں میں آنسو رواں ہوجائیں تو ان کا دل دہل جاتا ہے وہ ان کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے اور ایک ایسا وقت بھی آتا ہے ۔ جب انھیں شادی کی سوغات سے نوازتے ہیں لیکن یہی بچے کسی حادثے میں جاں بحق ہوجاتے ہیں تو ماں باپ کا کیا حال ہوتا ہوگا ۔ ان کے رنج و الم کی کیا کیفیت ہوتی ہوگی اس بارے میں کوئی کبھی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ۔ دنیا کا شاید سب سے کٹھن مرحلہ ماں باپ کا اپنی اولاد کی موت کا صدمہ برداشت کرنا ہوتا ہے اور خاص طور پر وہ منظر بڑا کربناک ہوتاہے ۔ جب کوئی باپ اپنے محنت جگر نور نظر کے جنازہ کو کاندھا دیتا ہے ۔ہم نے یہ منظر حال ہی میں حضرت مولانا سید محمد صدیق حسینی قبلہ سجادہ نشین حضرت خواجہ محبوب اللہ کے فرزند دلبند مولانا حافظ سید محی الدین حسین قادری محبوب بابا و حافظ و قاری محمد فہیم الدین قادری کی عمریں ہی کیا تھیں ۔ یہی کوئی 25 یا 28 سال یہ تو ان کے ہنسنے کھیلنے کے دن تھے لیکن زندگی نے کہاں سے وفا کی ہے ’’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے‘‘ ۔ ایسے ہی دردناک مناظر 2011 میں دیکھے گئے ۔ جب ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہر الدین کے جواں سال فرزند ایاز الدین اور ان کے بھانجے اجمل الرحمن آوٹر رنگ روڈ پر سڑک حادثہ کا شکار ہو کر اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے ۔ ایاز الدین کے جنازہ کو ان کے حالیہ اظہر الدین اور اجمل الرحمن کے جنازہ کو خلیق الرحمن کاندھا دیتے ہوئے اس وقت ان کے دلوں کی کیا حالت تھی ۔ اس بات میں ہم تصور ہی ہی کرسکتے ہیں تقریباً دو ماہ قبل سابق ڈائرکٹر جنرل پولیس پی راملو کے دو نوجوان نواسے ایک بھانجہ سڑک حادثہ میں مارے گئے ۔ یہ نوجوان بھی اعلی تعلیمیافتہ تھے ان سے ان کے خاندان بالخصوص ماں باپ کو کئی امیدیں وابستہ تھیں لیکن تیز رفتار ڈرائیونگ نے ان کی زندگی کی رفتاری ختم کردی اگر صرف حیدرآباد میں ہی سڑک حادثات میں ہورہی ہلاکتوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ہر روز شہر میں دو اور مضافاتی علاقوں میں کم از کم تین جانیں جارہی ہیں ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر حادثات کیوں پیش آتے ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں حادثات اکثر تیز رفتار ڈرائیونگ اپنی یا دوسروں کی غلطیوں ، گاڑی چلانے والوں کی بے حسی ، جلد سے جلد اپنے مطلوب مقام پہنچنے کی کوشش یا پھر والدین کی غلطیو ںکے باعث پیش آتے ہیں ۔ اگر نوجوان ڈرائیونگ کے دوران اعتدال پسندی کی راہ اختیار کرتے ہوئے گاڑیاں تیز رفتار چلانے سے گریز کریں تو بڑے بڑے حادثات ٹل سکتے ہیں  ۔ قیمتی جانوں کا اتلاف رک سکتا ہے بعض مرتبہ دوسروں کی غلطیوں کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے ۔ اس لئے جتنا ممکن ہوسکے ڈرائیونگ میں اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے ۔ اکثر نوجوان بڑے بے چین ہوتے ہیں وہ جلد سے جلد اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کے خواہاں رہتے ہیں ۔ نتیجہ میں ان حادثات کا شکار ہو کر زندگی سے منہ موڑلیتے ہیں اگر یہ نوجوان سکون اطمینان کے ساتھ گاڑیاں چلائیں تو بڑے بڑے حادثات سے بچا جاسکتا ہے ۔ جہاں تک والدین کی غلطی کا سوال ہے اکثر ماں باپ اپنے بچوں کی ضد پر 18 ، 19 سال کے نوجوانوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دیتے ہیں ۔ لیکن یہ نوجوان ان دنوں ہیوی موٹر بائکس اور کاریں چلانے لگیں تو حادثات کا خدشہ رہتا ہے ۔ حیدرآباد جیسے شہر میں جہاں بے ہنگم ٹریفک ہوتی ہے تیز رفتار گاڑیاں چلانا خطرے سے خالی نہیں ۔
ان حالات میں ماں باپ کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ بتائیں کہ زندگی بہت قیمتی ہوتی ہے ۔ اسے سڑک حادثات وغیرہ میں ضائع نہیں کیا جاسکتا ۔ خاندانوں ملک و ملت کی تقدیر منوانے میں نوجوان نسل کا اہم رول ہوتا ہے ۔ یہاں یہ بات عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہماری ریاست خاص کر حیدرآباد میں اصلاح معاشرہ کے لئے چلائی جانے والے مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں علمائے کرام ، مشائخ عظام ، مختلف تنظیموں نے جو اہم کردار ادا کررہے ہیں اسی طرح ائمہ کرام ، خطیب صاحبان ، نماز جمعہ کے خطبات کے دوران نوجوانوں کی اصلاح کے لئے اہم معلومات فراہم کریں تاکہ قوم ملک و ملت کے سرمایہ حیات نوجوان اپنی کوتاہیوں ، غلط صحبتوں و نماز سے دوری کو ختم کریں کیونکہ عام دنوں میں مساجد میں مصلیان کی تعداد کم ہوتی ہے اگر جمعہ کے خطبات میں امت مسلمہ کو دیگر ضروری باتوں کے ساتھ ساتھ انکی اصلاحی پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے تو امت کا بڑا فائدہ ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT