Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ائمہ وموذنین کو مشاہرہ ، اسکیم پر مایوس کن ردعمل

ائمہ وموذنین کو مشاہرہ ، اسکیم پر مایوس کن ردعمل

ادخال درخواست کی آخری تاریخ 30 دسمبر مقرر ، صرف پانچ سو درخواستیں وصول
حیدرآباد۔ 28 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ائمہ اور موذنین کیلئے ماہانہ مشاہرہ کی جس اسکیم کا اعلان کیا ہے، اس پر مایوس کن ردعمل دیکھا گیا۔ اگرچہ 27 نومبر سے اسکیم کیلئے آن لائن درخواستوں کے ادخال کا آغاز کیا گیا، تاہم ابھی تک ریاست بھر سے 500 درخواستیں داخل نہیں کی گئیں۔ جبکہ حکومت 5,000 مساجد کے ائمہ اور مؤذنین کو ماہانہ 1,000 روپئے اعزازیہ ادا کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے اس اسکیم پر عمل آوری کی جارہی ہے جس کے لئے 12 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ حکومت نے رمضان المبارک کے موقع پر اس اسکیم کا اعلان کیا تھا، لیکن شرائط و ضوابط کی تیاری میں تاخیر کے سبب عمل آوری نہیں کی جاسکی۔ سیکریٹری اقلیتی بہبود نے وقف بورڈ کو اسکیم پر عمل آوری کی ذمہ داری دی اور باقاعدہ رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے۔ محکمہ نے درخواست گذاروں کیلئے بعض شرائط میں نرمی کی ہے، اس کے باوجود ائمہ اور مؤذنین کی جانب سے عدم دلچسپی کے رویہ سے وقف بورڈ کے عہدیدار پریشان ہیں۔ اس اسکیم کیلئے درخواستوں کے ادخال کی آخری تاریخ 30 ڈسمبر مقرر کی گئی۔ اس طرح صرف دو دن باقی ہیں لیکن پانچ ہزار کی جگہ صرف 500 درخواستوں کے ادخال نے اسکیم پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ حکومت کو اُمید تھی کہ ریاست بھر سے ہزاروں درخواستیں داخل کی جائیں گی لیکن دینی مدارس اور جامعات کی جانب سے اسکیم کی مخالفت کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ بھی سرکاری اعزازیہ کے حصول کے خلاف ہے اور اسے مساجد کے اُمور میں مداخلت تصور کرتا ہے۔ حکومت نے اسکیم کی کامیابی کیلئے جامعہ نظامیہ سے فتویٰ حاصل کیا جس میں سرکاری اعزازیہ کے حصول کو ’’مباح‘‘ قرار دیا گیا جو اختیاری کے معنوں میں آتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ درخواستوں کے ادخال کی تاریخ میں توسیع کرے گا تاکہ مزید درخواستیں داخل کی جاسکیں۔ اسکیم پر عمل آوری اور درخواست گذاروں کی رہنمائی کیلئے وقف بورڈ میں ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے جس کے نگران کار کی حیثیت سے ناظرالقضاۃ قاضی محمد اکرام اللہ کو مقرر کیا گیاہے۔

TOPPOPULARRECENT