Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ائمہ و مؤذنین کا اعزازیہ اور مذہبی مقامات کیلئے گرانٹ اِن ایڈ پر عمل میں تاخیر

ائمہ و مؤذنین کا اعزازیہ اور مذہبی مقامات کیلئے گرانٹ اِن ایڈ پر عمل میں تاخیر

حیدرآباد۔/14نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے ائمہ اور مؤذنین کو اعزازیہ کی ادائیگی کیلئے حکومت نے وقف بورڈ کو 12کروڑ روپئے جاری کئے لیکن بجٹ کی اجرائی کے 3 ماہ گذرنے کے باوجود آج تک اس اسکیم کے رہنمایانہ خطوط طئے نہیں کیا گیا۔ اسی طرح ریاست میں مساجد، قبرستانوں اور دیگر مذہبی اداروں کی تعمیر و مرمت کے سلسلہ میں حکومت نے گرانٹ اِن ایڈ کی رقم جاری کی تھی جو کئی اضلاع میں ضلع کلکٹرس کے پاس محفوظ ہے لیکن اسے جاری نہیں کیا گیا۔ حکومت نے ان دونوں اسکیمات کے آغاز میں تاخیر سے متعلق وقف بورڈ سے وضاحت طلب کی ہے۔ وقف بورڈ کو ہدایت دی گئی کہ وہ اندرون ایک ہفتہ ائمہ و مؤذنین کیلئے اعزازیہ کی ادائیگی سے متعلق اعلامیہ جاری کردے۔ حکومت نے تلنگانہ کی 5000 مساجد کے ائمہ و مؤذنین کیلئے ماہانہ ایک ہزار روپئے اعزازیہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ اعزازیہ رمضان المبارک کے موقع پر دیا جانا تھا لیکن اسکیم کی تفصیلات طئے کرنے میں تاخیر کے سبب یہ کام تین ماہ سے زیر التواء ہے ۔ وقف بورڈ کے پاس 12کروڑ روپئے محفوظ ہیں لیکن افسوس کہ آج تک اس اسکیم کے قواعد مدون نہیں کئے گئے۔ محکمہ اقلیتی بہبود اس اسکیم کے بارے میں مختلف مذہبی شخصیتوں اور اداروں سے تجاویز حاصل کررہا ہے۔ حکومت ائمہ اور مؤذنین کو اعزازیہ کی رقم راست بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنا چاہتی ہے لیکن بعض گوشوں نے اس کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ائمہ اور مؤذنین بسا اوقات ملازمت ترک کردیتے ہیں ایسی صورت میں حکومت کا اعزازیہ ان کے اکاؤنٹ میں ہی منتقل ہوتا رہے گا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود 6 ماہ کیلئے اعزازیہ کی رقم اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی تجویز رکھتا ہے۔ 6ماہ گذرنے کے بعد ائمہ و مؤذنین کو اسی مسجد میں ملازمت جاری رکھنے سے متعلق صداقت نامہ پیش کرنا ہوگا۔ اس طرح ہر چھ ماہ کو ائمہ و مؤذنین سے حلف نامہ حاصل کیا جائے گا۔ اسکیم میں تاخیر کی مسلسل شکایات کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود نے وقف بورڈ کو جلد سے جلد قواعد طئے کرنے کی ہدایت دی ہے۔ درخواستوں کے ادخال کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا جائے گا۔ دوسری طرف مساجد میں وضو خانے اور ٹائیلٹس کی تعمیر ومرمت اور قبرستانوں کی حصار بندی و دیگر ضروری کاموں کیلئے گرانٹ اِن ایڈ کی اجرائی کیلئے حکومت نے جاریہ سال بجٹ کے پہلے سہ ماہی کے تحت 25کروڑ 50لاکھ روپئے جاری کئے۔ وقف بورڈ نے 10اضلاع کے ضلع کلکٹرس کو فی کس 50لاکھ روپئے جاری کئے تاکہ متعلقہ اضلاع میں مستحق مساجد اور قبرستانوں کیلئے امداد جاری کی جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ بیشتر اضلاع میں یہ رقم ابھی تک خرچ نہیں کی گئی۔ اس سلسلہ میں تمام ضلع کلکٹرس سے تفصیلات طلب کی جارہی ہیں۔ گزشتہ سال اس اسکیم کے تحت 50 اوقافی اداروں کو 8کروڑ 25لاکھ روپئے جاری کئے گئے تھے۔ شہر اور اضلاع میں وقف بورڈ سے گرانٹ اِن ایڈ کے حصول کیلئے مختلف مساجد اور قبرستانوں کی کمیٹی کے عہدیدار وقف بورڈ کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT