Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ائمہ و مؤذنین کو ماہانہ اعزازیہ کے اعلان کا ایک سال مکمل

ائمہ و مؤذنین کو ماہانہ اعزازیہ کے اعلان کا ایک سال مکمل

درخواست گذار اعزازیہ سے محروم، بیوہ خواتین کو بھی وقف بورڈ سے وظیفہ نہیں ملا

حیدرآباد۔ 27۔ مئی  ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ائمہ اور مؤذنین کیلئے گزشتہ سال رمضان المبارک کے موقع پر ماہانہ اعزازیہ اسکیم کا اعلان کیا تھا لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود درخواست گزار ائمہ اور مؤذنین اعزازیہ سے محروم ہے۔ اب جبکہ رمضان المبارک کے آغاز کو 10 دن باقی ہے، ابھی تک ائمہ اور مؤذنین اعزازیہ کے سلسلہ میں وقف بورڈ کے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ ایک سال سے بیوہ خواتین وقف بورڈ سے وظیفہ سے محروم ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے بیواؤں کے وظائف کی اجرائی کیلئے بجٹ جاری کردیا ہے۔ تاہم بیوہ خواتین وقف بورڈ کے دفتر پہنچ کر مایوسی سے واپس لوٹ رہی ہیں۔ ائمہ اور مؤذنین کی اسکیم پر جس طرح ایک سال میں عمل آوری نہیں کی گئی ، اسی طرح غریب بیوہ خواتین بھی ایک سال سے وظیفہ سے محروم ہے۔ مطلقہ خواتین کو فیملی کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ وظیفہ وقف بورڈ کی جانب سے دیا جاتا ہے  اور ایسی خواتین کی تعداد تقریباً 500 تک ہے۔ زیادہ سے زیادہ 8000 اور کم سے کم 1200 روپئے ماہانہ وظیفہ جاری کیا جاتا ہے جو بیوہ خواتین کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ 13 ماہ سے وظیفہ جاری نہیں کیا گیا اور متعلقہ سیکشن میں مارچ 2016 ء تک ادائیگی کی تیاری کرلی ہے جس کے تحت 71 لاکھ 26 ہزار 632 روپئے جاری کئے جائیں گے ۔ غریب بیوہ خواتین کو وقف بورڈ سے یکمشت امداد کی روایت کو بھی ختم کردیا گیا۔ اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے ایس اے ہدیٰ نے اس روایت کا آغاز کیا تھا جس میں غریب خواتین کو یکمشت طور پر 500 تا 1000 روپئے امداد دی جاتی تھی۔ شیخ محمد اقبال اور جلال الدین اکبر نے اس روایت کو برقرار رکھا تھا لیکن موجودہ عہدیدار مجاز نے اس روایت کو ختم کردیا ہے جس سے کئی غریب خواتین امداد سے محروم ہوچکے ہیں۔ ائمہ اور مؤذنین کے ماہانہ ایک ہزار روپئے اعزازیہ کے سلسلہ میں ابھی تک صرف ایک ہزار ائمہ اور مؤذنین کو بقایہ جات کے ساتھ رقم جاری کی گئی۔ حیدرآباد میں پہلے مرحلہ میں 451 اور محبوب نگر میں 448 ائمہ اور مؤذنین کو رقم جاری کی گئی۔ حیدرآباد میں دوسرے مرحلہ کے تحت 300 درخواستوں کی یکسوئی کی گئی جبکہ حیدرآباد سے جملہ 1498 درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ درخواستوں کی جانچ کے سلسلہ میں اضلاع کے عہدیداروں کا رویہ انتہائی سست ہے اور وہ دیگر ذمہ داریوں کے سبب ائمہ اور مؤذنین کی درخواستوں کی جانچ سے قاصر ہے۔ گزشتہ سال جولائی میں اس اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا اور حیدرآباد و محبوب نگر میں 10 ماہ کے بقایہ جات جاری کئے گئے جبکہ دیگر اضلاع کے درخواست گزار ابھی تک محروم ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسٹاف کی کمی درخواستوں کی یکسوئی میں اہم رکاوٹ ہے۔ اس اسکیم کے تحت جملہ 8934 درخواستیں داخل کی گئیں جن میں 4033 مؤذن اور 4901 امام ہیں۔ حکومت نے 10,000 ائمہ اور مؤذنین کو ماہانہ اعزازیہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے 12 کروڑ روپئے وقف بورڈ میں جمع کئے گئے ۔ اب جبکہ رمضان المبارک قریب ہے۔ اسکیم پر عمل آوری میں ناکامی سے محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی پر سوال اٹھتے ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو ایک سال کے بقایہ جات شائد آئندہ سال ادا کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT