Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / ابراہیم شفیق

ابراہیم شفیق

میرا کالم مجتبیٰ حسین
کوئی آٹھ دن پہلے ابراہیم شفیق میرے ایک اور عزیز دوست ہادی رحیل کے ساتھ میرے دفتر پر ملنے آئے۔ سوچا کہ یونہی ملنے آئے ہوں گے مگر ہادی رحیل کو ابراہیم شفیق کے ساتھ دیکھا تو میرا ماتھا ٹھنکا کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے کیوں کہ ہادی رحیل کسی ادیب یا شاعر کے ساتھ اُسی وقت نظر آتے ہیں جب وہ ادیب یا شاعر ’’صاحبِ کتاب‘‘ بننے کی تیاریاں کررہا ہوتا ہے۔ وہ اُس ادیب کی اُس وقت تک متواتر مدد کرتے ہیں جب تک کہ وہ ادیب مجبور ہوکر ’’پیش لفظ‘‘ میں اُن کا شکریہ نہیں ادا کردیتا۔ اب تک کئی کتابوں کے ’’پیش لفظوں‘‘ یا ’’پیش الفاظ‘‘ میں وہ مختلف ادیبوں سے اپنا شکریہ ادا کرواچکے ہیں۔ میری کتاب کی اشاعت کے وقت بھی اُنھوں نے میری مدد کی تھی مگر میں نے جان بوجھ کر اپنی کتاب کے ’’پیش لفظ‘‘ کو ہادی رحیل کے شکریہ سے محفوظ رکھا تھا۔ وہ ناراض ہوگئے تو میں نے سمجھایا کہ بھئی پیش لفظوں کے ذریعہ ادب میں داخل ہونے کی عادت کچھ اچھی نہیں ہے۔ ادب میں آنا ہی ہے تو دھڑلّے سے چلے آؤ … تمہیں کس نے روکا ہے۔ ہادی رحیل بہت دور اندیش آدمی ہیں۔ اتنے دور اندیش کہ اُنھوں نے آج سے دس برس پہلے ہی اپنے لئے ایک تخلص کا انتخاب کرلیا ہے۔ میں نے ایک دن پوچھا ’’جب تم شعر کہتے ہی نہیں ہو تو تخلص کیوں رکھتے ہو؟‘‘

وہ بولے ’’بھئی انسان کا کیا بھروسہ ہے۔ کسے معلوم کہ ایک دن اچانک مجھ سے کوئی غزل سرزد ہوجائے۔ ایسے وقت میں تخلص کو ڈھونڈنے کہاں جاؤں‘‘۔ ہادی رحیل کا ذکر تو صرف ایک طویل جملہ معترضہ تھا اور اُن کا ذکر میں نے صرف یہ بتانے کے لئے کیا ہے کہ ابراہیم شفیق کو ہادی رحیل کے ساتھ دیکھتے ہی میں تاڑ گیا تھا کہ ابراہیم شفیق جو کل تک اچھے بھلے تھے، سب سے ہنس بول رہے تھے، بیٹھے بٹھائے صاحب کتاب بن رہے ہیں۔
(پس نوشت: میرے 65 برس پہلے کے سینکڑوں دوستوں میں اب صرف ہادی رحیل اور اکرام جاوید ہی بقید حیات رہ گئے ہیں ۔ ہادی رحیل اب تک سرگرم عمل ہیں۔ البتہ اکرام جاویدنے گوشہ نشینی اختیار کر رکھی ہے ۔ خدا انہیں تادیر سلامت رکھے ۔ مجتبیٰ حسین)
ابراہیم شفیق کے بارے میں جب بھی بہت کچھ لکھنے کی کوشش کی تو صرف ایک ہی جملہ میرے ذہن میں بار بار آتا رہا کہ ’’ابراہیم شفیق بڑا معصوم آدمی ہے‘‘۔ اُن کی معصومیت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ اُنھوں نے اپنی شخصیت کے بارے میں مجھ سے مضمون لکھنے کی خواہش کی حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں اُنھیں کم و بیش پندرہ برسوں سے جانتا ہوں اور پندرہ برسوں میں ایک آدمی کی نظر دوسرے آدمی کی خوبیوں پر سے گزر کر اُس کی خرابیوں کو تلاش کرنے میں مصروف ہوجاتی ہے۔پندرہ برس پہلے جب میں آرٹس کالج میں پڑھتا تھا تو ابراہیم شفیق سائنس کالج میں پڑھتے تھے۔ میری اُن سے پہلی ملاقات میرے ایک اور افسانہ نگار دوست اکرام جاوید نے آرٹس کالج کے ریلوے اسٹیشن پر اس حالت میں کرائی تھی جب ابراہیم شفیق اپنے دوستوں کو اپنا کوئی افسانہ سنارہے تھے۔ افسانہ سناتے سناتے ابراہیم شفیق نے ایک لمحہ کے لئے مجھ سے مصافحہ کیا اور پھر افسانہ سنانے میں مصروف ہوگئے۔ آدھے گھنٹہ بعد جب افسانہ ختم ہوا تو میری طرف دیکھ کر بولے ’’آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی‘‘!
میں نے کہا : ’’مگر آپ کو بڑی دیر سے خوشی ہوئی‘‘۔
جھینپ کر بولے ’’وہ دیکھئے نا ! جب آپ آئے تو افسانہ کلائمکس پر پہنچ چکا تھا‘‘۔میں نے پوچھا ’’میرے آنے کی وجہ سے آپ کا افسانہ کلائمکس پر پہنچایا میرے آنے سے پہلے ہی پہنچ چکا تھا‘‘۔ اس کے جواب میں ابراہیم شفیق غالباً ہنس کر خاموش ہوجانا چاہتے تھے کہ اکرام جاوید نے اُن کی مدد کو آتے ہوئے کہا ’’ابراہیم شفیق بڑے اچھے افسانہ نگار ہیں۔ سائنس کالج میں بی ایس سی کے پہلے سال میں پڑھتے ہیں مگر ادب سے بڑی گہری دلچسپی رکھتے ہیں‘‘۔ میں نے پھر ابراہیم شفیق سے پوچھا ’’تو گویا آپ سائنسی افسانے لکھتے ہیں؟‘‘
میرے اس سوال کے جواب میں ابراہیم شفیق نے مسکرادیا۔ اُس دن کے بعد سے اب تک میں نے ابراہیم شفیق سے مختلف موضوعات پر لاتعداد سوالات پوچھے ہیں اور مجھے اپنے ہر سوال کا جواب ابراہیم شفیق کی مسکراہٹ سے ہی ملا ہے۔ اب یہ ایک آدمی کی شرافت نہیں تو اور کیا ہے کہ وہ پندرہ برسوں سے ہر نامعقول سوال پر صرف مسکرائے جارہا ہے۔ چاہے یہ سوال میں کروں یا زندگی۔ یہ بات ابراہیم شفیق کی شخصیت کے ایک خاص پہلو کی نمائندگی کرتی ہے۔

اُن دنوں عثمانیہ یونیورسٹی ’’شعر و ادب‘‘ کے معاملہ میں واقعی ایک یونیورسٹی نظر آتی تھی۔ یونیورسٹی کا ہر دوسرا طالب علم یا تو شعر کہتا تھا یا افسانہ لکھتا تھا۔ مجھ جیسے طلباء کی تعداد بہت کم تھی جو صرف ہوٹنگ کیا کرتے تھے۔ ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں شعراء اور افسانہ نگار یونیورسٹی میں ڈھالے جاتے تھے۔ آرٹس کالج کے ریلوے اسٹیشن کے آس پاس بڑی بڑی چٹانیں تھیں جن پر بیٹھ کر طلبہ ٹرینوں کی آمد کا انتظار کیا کرتے تھے۔ یہ چٹانیں مختلف ناموں سے مشہور تھیں۔ ایک چٹان ’’افسانہ نگاروں کی چٹان‘‘ کہلاتی تھی۔ دوسری چٹان جو سائز میں ذرا بڑی تھی ’’شعراء کی چٹان‘‘ کے نام سے پکاری جاتی تھی۔ درمیان میں ایک اور چٹان بھی تھی جس پر مجھ جیسے طلبہ بیٹھا کرتے تھے اور یہ ’’ہوٹرس کی چٹان‘‘ یا ’’نقادوں کی چٹان‘‘ کے نام سے بدنام تھی۔ اُن دنوں ادب سے میرا تعلق بالکل ناجائز سا تھا یعنی صرف ہوٹنگ کے ذریعہ ہم لوگوں نے ادب سے اپنا تعلق قائم کر رکھا تھا۔ ویسے میرا ذاتی خیال ہے کہ ہوٹنگ کرنے کے لئے آدمی کو جتنا ادبی ذوق رکھنا پڑتا ہے غالباً اُتنا ادبی ذوق خود شعر کہنے یا افسانہ لکھنے کے لئے درکار نہیں ہوتا۔ میں اکثر اوقات ’’افسانہ نگاروں کی چٹان‘‘ کی جانب بھی چلا جایا کرتا تھا۔ اس لئے کہ پیاسے کو کنوئیں کے پاس جانا ہی پڑتا ہے۔ اکرام جاوید اور ابراہیم شفیق کو میں نے ہمیشہ اسی چٹان پر ایک دوسرے کو افسانے سناتے ہوئے دیکھا۔ ان دونوں کے ساتھ اور بھی بہت سے افسانہ نگار ہوا کرتے تھے۔ پندرہ برس پہلے صرف ابراہیم شفیق اور اکرام جاوید کی نہ صرف عمریں ہی کم نہ تھیں بلکہ خود اُردو افسانہ کی عمر بھی ذرا کم ہی تھی۔ اُن دنوں جذباتی اور انقلابی افسانوں کا دور دورہ تھا۔ چنانچہ یونیورسٹی کے اکثر افسانہ نگار ایسے شدید جذباتی افسانے سنایا کرتے تھے کہ انھیں سنادینے کے بعد ہم لوگ بڑی دیر تک متعلقہ افسانہ نگار کو سنبھالنے کیلئے مضبوطی سے پکڑے رہتے تھے۔ کوئی افسانہ نگار کے منہ پر پانی کے چھپاکے مارتا تھا۔ کوئی پنکھا جھلتا تھا اور کوئی افسانہ نگار کے کانوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر اُس کی پیشانی کو دبانے لگتا تھا۔ یہ عمل اس لیے کیا جاتا تھا کہ افسانہ نگار کے تنے ہوئے اعصاب ذرا ڈھیلے پڑجائیں۔ ان افسانہ نگاروں میں ایسے افسانہ نگار بھی تھے جن کے افسانوں کے یونیورسٹی بھر میں افسانے مشہور ہوجاتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یونیورسٹی کے ایک افسانہ نگار کے افسانہ میں سے ہم لوگوں نے منجملہ ’’چار سو زندگیاں‘‘ برآمد کی تھیں۔ یعنی اس افسانہ میں جو بڑی مشکل سے تین صفحوں کا ہوگا ’’زندگی‘‘ کا لفظ کوئی چار سو مرتبہ آیا تھا۔ اس کے جملے کچھ اس طرح تھے ’’آہ زندگی ۔ زندگی تو کہاں ہے۔ میری زندگی بتادے کہ کیا میری بھی کوئی زندگی ہے۔ اس زندگی سے تو موت اچھی ہے۔ انسان کی زندگی بھی بڑی عجیب زندگی ہے۔ آہ ۔ زندگی ۔ زندگی ۔ زندگی‘‘۔
اُن دنوں افسانہ الفاظ سے نہیں بلکہ ڈیشس Dashes کی مدد سے لکھا جاتا تھا۔ خود میں نے ابراہیم شفیق سے ایسے کئی افسانے سنے تھے جو ڈیشس کی مدد سے لکھے گئے تھے۔ افسانوں کے عنوان بھی عجیب و غریب ہوا کرتے تھے۔ اُن دنوں شولو خوف کا ناول ’’اورڈان بہتا رہا‘‘ ادبی حلقوں میں بہت مقبول تھا اور اسی ناول کے وسیلہ سے اُردو میں افسانوں کے ایسے عنوانات کا رواج چل پڑا تھا کہ ’’اور ٹرین چلتی رہی‘‘ ’’اور سیما روتی رہی‘‘ ’’اور زندگی ہنستی رہی‘‘ ’’اور انسان مرتا رہا‘‘ ’’اور زلزلہ آتا رہا‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ابراہیم شفیق اور اکرام جاوید ہمیشہ ایک دوسرے کے سایہ کی طرح ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے۔ ہم لوگوں نے ان دونوں کی دوستی کو بھی ایک عنوان دے رکھا تھا۔ اور وہ عنوان تھا ’’اور ابراہیم شفیق افسانے لکھتا رہا اور اکرام جاوید افسانے سنتا رہا‘‘۔ یونیورسٹی کے افسانہ نگار سب کے سب طلبہ تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ اس میدان میں مبتدی تھے۔ اس لیے اُن سے بڑی دلچسپ غلطیاں سرزد ہوجایا کرتی تھیں۔ مثلاً ایک افسانہ نگار کا افسانہ اس جملہ پر ختم ہوتا تھا … ’’اور بیچارہ بوڑھا ۔ رات کو بارہ بجے اُس کا ہارٹ فیل ہوا اور صبح میں اُس کا انتقال ہوگیا‘‘۔ گویا افسانہ کے ہیرو کا ہارٹ فیل ہوجانے کے باوجود اُسے مزید چھ چھ گھنٹوں تک زندہ رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ ابراہیم شفیق ابتدا میں بے حد جذباتی افسانے لکھا کرتے تھے اور آپ تو جانتے ہیں کہ شدت جذبات میں آدمی اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ ان دنوں خود افسانہ نگاری کے معاملہ میں وہ حد سے زیادہ جذباتی تھے۔ اگرچہ وہ سائنس کے طالب علم تھے لیکن کرشن چندر کے ناول پر ’’مبادی حیاتیات‘’ کا ٹائٹل اور راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کے مجموعے پر ’’اطلاقی کیمیا‘‘ کا ٹائٹل چڑھایا کرتے تھے۔ ابراہیم شفیق اور اکرام جاوید یا تو افسانے سنانے میں مصروف رہتے تھے یا افسانے پڑھنے میں۔ ہم لوگ اکرام جاوید کو ’’ظالم افسانہ نگار‘‘ کہا کرتے تھے۔ وہ اس لیے کہ اکرام جاوید اپنے افسانوں کے ہیروئنوں کو یا تو ہمیشہ ہلاک کردیتے تھے یا اُنھیں اس دنیا میں بے یار و مددگار چھوڑ کر اپنا افسانہ ختم کردیتے تھے۔ ظلم و ستم کے لحاظ سے ابراہیم شفیق دوسرے نمبر پر تھے۔ ذرا موقع ملتے ہی وہ اپنی ہیروئن کا کام تمام کردیتے تھے۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے افسانہ لکھنا تو ایک بہانہ ہے۔ اصلی مقصد تو ہیروئن کو ہلاک کرنا ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی جب اپنا افسانہ سنانے کی خواہش ظاہر کرتا تو ہم لوگ پوچھتے ’’پہلے یہ بتاؤ ہیروئن زندہ ہے یا مرگئی؟‘‘۔ اگر جواب ملتا ’’مرگئی ہے‘‘ تو ہم کہتے ’’کسی اور کو یہ افسانہ سناؤ۔ ہمیں تو زندہ ہیروئن چاہیے۔ مری ہوئی ہیروئن کو لے کر ہم کیا کریں گے‘‘۔

پھر کالج کے دن ختم ہوگئے، ساری رنگینیاں بکھر گئیں اور ہم اپنے خوابوں کو بیچ بیچ کر تلخ حقیقتیں خریدنے پر مجبور ہوگئے۔ ابراہیم شفیق اور اکرام جاوید دونوں ہی محکمہ ڈاک میں ملازم ہوگئے اور یہیں سے ابراہیم شفیق کی کہانیوں میں مجھے سنجیدگی نظر آنے لگی۔ بہت دنوں بعد ہم تینوں کی ملاقات ہوئی تو میں نے کہا : ’’یار ! تم دونوں نے محض اچھے اچھے ادبی رسالوں کو حاصل کرنے کی خاطر غالباً محکمہ ڈاک میں ملازمت اختیار کر رکھی ہے‘‘۔
ابراہیم شفیق نے کہا : ’’تمہیں کیا معلوم کہ محکمہ ڈاک نے کتنے بڑے بڑے ادیبوں کو جنم دیا ہے۔ خود راجندر سنگھ بیدی کی مثال تمہارے سامنے موجود ہے‘‘۔
میں نے کہا۔ ’’’ اور آئن اسٹائن بھی تو محکمہ ڈاک ہی سے تعلق رکھتا تھا۔‘‘
اس پر اکرام جاوید نے ہنستے ہوئے کہا۔ ’’ آئن اسٹائن تو کُجا دیوآنند جیسا اداکار بھی محکمہ ڈاک سے وابستہ تھا۔‘‘
اُس دن ہم بڑی دیر تک اپنے ماضی کو یاد کرتے رہے۔ ہمارے بہت سے خواب بِک چکے تھے اور ہماری جھولیوں میں اس سودے کے عوض چند تلخ حقیقتیں جمع ہوگئی تھیں۔ کالج سے نکلنے کے بعد ابراہیم شفیق کے افسانے بڑی تیزی سے ہندوستان اور پاکستان کے رسالوں میں چھپنے لگے۔ میں اُنھیں پڑھ کر انجان بن جاتا مگر کبھی ابراہیم شفیق کا مذاق اُڑانے کو جی نہ چاہا۔ اس لیے کہ ابراہیم شفیق کے اندر ایک بڑا مخلص اور بڑا شریف آدمی بیٹھا ہوا ہے۔ اس شریف آدمی کی میں نے ہر طرح آزمائش کی ہے اور ہر آزمائش کے بعد یہ آدمی مجھے اور بھی شریف نظر آیا ہے۔ یوں بھی میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ہر شریف آدمی افسانہ نگار بن جاتا ہے اور جو شریف نہیں ہوتا اس کے لیے تو شاعری اور مزاح نگاری کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ کالج کے زمانہ میں بھی ابراہیم شفیق کم گو تھے اور آج بھی کم گو ہیں۔ وہ صرف اپنے افسانوں میں گفتگو کرسکتے ہیں۔

افسانہ کے باہر وہ صرف مسکراتے ہیں اور لگاتار مسکراتے ہیں۔ ابراہیم شفیق ان لوگوں میں سے ہیں جن سے دوستی کرکے آدمی صرف فائدہ اُٹھا سکتا ہے کبھی نقصان نہیں اُٹھا سکتا۔ زندگی کے اس سفر نے ابراہیم شفیق کو اور بھی سنجیدہ بنادیا ہے۔ ہم لوگ کالج کے زمانہ میں اُن کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ یہ سائنس کے طالب علم ہیں اور افسانے لکھتے ہیں۔ یقیناَ یہ اپنے ہر افسانے کو امتحانی نلی میں سے گزارتے ہوں گے یا اسے شکنجہ میں کس کر اس کا سائینسی تجربہ کرتے ہوں گے۔ اس پر میرا دوست نقی تنویر کہتا ’’ یار! میرا تو خیال ہے کہ خود ابراہیم شفیق کو کسی شکنجہ میں کس دینا چاہیئے۔‘‘
اور ابراہیم شفیق کو آج سچ مچ شکنجے میں کس دیا گیا ہے۔ زندگی کے شکنجے میں اور زندگی کے اسی شکنجے میں کس دیئے جانے کے بعد ابراہیم شفیق کو وہ شعور حاصل ہوا ہے جو افسانہ کی تخلیق کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اُنھوں نے اپنے ایک افسانہ میں یہ جملہ لکھا ہے۔ ’’ میں خود اپنے اندر ایک صلیب سے لٹکا پھررہا ہوں۔ ‘‘ ابراہیم شفیق کو اس صلیب کا ممنون ہونا چاہیے جو اُن کے اندر موجود ہے۔ اسی صلیب نے اُنھیں درد، رچاو، نغمگی اور انسان دوستی کی اُس منزل پر پہنچایا جہاں وہ دوسروں کی صلیبوں کو بھی اُٹھانے کے قابل بن سکے ہیں۔ آج بھی اُن کے افسانوں کی ہیروئنیں مرتی ہیں مگر مجھے اُن کی موت پر ہنسی نہیں آتی۔ آج ابراہیم شفیق صرف سطحی جذباتیت کے تحت اپنے افسانوں کی ہیروئنوں کو تفریحاً نہیں مارتا بلکہ وہ عقل اور منطق کی بنیادوں پر اُنھیں ضرورتاً ہلاک کرتا ہے۔ پرانا ابراہیم شفیق اپنے افسانے کی ہیروئن کے ساتھ خود بھی مر جاتا ہے۔ نہ جانے کتنے افسانوں میں وہ کتنی بار مرچکا ہے اور نہ جانے کتنی بار اپنے ہر نئے کردار کے ساتھ زندہ ہوتا رہے گا۔میں اپنے پرانے دوست ابراہیم شفیق کو اُن کے افسانوں کے مجموعہ ’’ ایک ہوا اور چلے ‘‘ کی اشاعت پر مبارکباد دیتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ ہوا ابراہیم شفیق کو ادب میں بہت دور تک اُڑا لے جائے گی۔
(1970 ء)

TOPPOPULARRECENT