Thursday , September 21 2017
Home / جرائم و حادثات / ابراہیم یافعی نے آتشیں اسلحہ استعمال نہیں کیا

ابراہیم یافعی نے آتشیں اسلحہ استعمال نہیں کیا

چندرائن گٹہ حملہ کیس میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر فارنسک لیباریٹری ڈاکٹر وینکٹیشورلوکی جرح

حیدرآباد۔/17جنوری، ( سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی جاری سماعت میں فارنسک لیباریٹری کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر نے عدالت میں حاضری دی جہاں پر اس سے وکیل دفاع نے جرح کی۔ ایڈوکیٹ جی گرومورتی کی جانب سے کی گئی جرح کے دوران ڈاکٹر وینکٹیشورلو نے بتایا کہ 20سال کی سرویس میں انہوں نے اب تک 2000 کیسیس میں اشیاء کا تجزیہ کیا ہے لیکن تمام کیسوں میں انہوں نے گواہی نہیں دی بلکہ اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پیشہ سے بیالسٹک ماہر ہیں اور انہیں اسوقت کے ڈائرکٹر فارنسک لیباریٹری مسٹر گاندھی نے تقرر کیا تھا۔ جرح میں گواہ نے یہ بھی بتایا کہ مہلوک ابراہیم بن یونس یافعی نے حملہ کے دوران کسی بھی قسم کے آتشیں اسلحہ کا استعمال نہیں کیا تھا اور انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی رائے دی تھی۔اگر کوئی شخص آتشیں اسلحہ استعمال کرتا ہے تو اس کی ہتھیلی یا ہاتھ پر دھماکو مادہ کے اثرات پائے جاتے ہیں لیکن ابراہیم یافعی کے ہاتھ یا جسم پر دھماکو مادہ کا کوئی اثر نہیں تھا۔ گواہ نے بتایا کہ سی سی ایس کے اسسٹنٹ کمشنرپولیس کی جانب سے موصولہ سوالنامے کی بنیاد پر انہوں نے رپورٹ تیارکی اور جملہ 70 اشیاء کے تجزیہ کے بعد اپنی رائے دی تھی۔ اکبر الدین اویسی کے ملبوسات ( جینس پائنٹ اور جوتے ) کا بھی تجزیہ کیا تھا اور جینس  پائنٹ میں گولی لگنے سے ہوئے سوراخ موجود ہونے کی رپورٹ دی تھی۔ دو گھنٹے کی جرح کے بعد ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج نے جرح کو کل تک کیلئے ملتوی کردیا۔

TOPPOPULARRECENT