Wednesday , July 26 2017
Home / مذہبی صفحہ / ابو زاہد سید وحید اللہ حسینی قادری

ابو زاہد سید وحید اللہ حسینی قادری

مابعد رمضان مسلمانوں کی ذمہ داریاں
انسان جسم و روح کا مرکب ہے۔ جسم کی توانائی غذائی اجناس، پھل وغیرہ پر منحصر ہے جبکہ روحانی آسودگی و کشفی قوتوںمیں اضافہ کا انحصار عبادات و احکامات الہیہ بجالانے پر ہے۔ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو نہ صرف بیک وقت جسم و روح دونوں کو قوت و توانائی عطاء کرتا ہے بلکہ روحانی مدارج طے کرواکر بندہ کو اللہ تعالی کا محبوب بناکر جنت کا حقدار بنادیتا ہے۔ اللہ تعالی کا ہم مسلمانوں پر احسان عظیم ہوا کہ اس نے ہمیں اس عظیم عبادت کو بجالانے کیلئے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ عطا فرمایا جس کامقصدحصول تقوی ہے۔ روزہ کے مقاصد کو وہی شخص حاصل کرسکتا ہے جو ایمان و احتساب کے ساتھ روزے رکھکر اپنے آپ کو کامل اور مخلص بندوں کے زمروں میں شامل کرلینے میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔ تفسیر روح البیان و دیگر تفاسیر میں برصیصا کا واقعہ تفصیل سے لکھا ہوا کہ یہ بنی اسرائیل کا نیک اور عبادت گزار بندہ تھا جس نے تقریباً ستر سال اللہ رب العزت کی عبادت خلوص کے ساتھ بجالائی جس کے باعث اللہ تعالی نے اسے مستجب الدعوات بنادیا ۔اس کی دعاء میں یہ تاثیر دی کہ مہلک امراض میں مبتلا مریض اور پریشان حال لوگوں کے حق میں وہ دعا کرتا تو اللہ تعالی مریض کو دوبارہ صحت و سلامتی عطا فرماتا اور پریشان حال لوگوں کو مصیبتوں سے نجات دے دیتا۔ ایک دفعہ کچھ لوگ ایک خوبصورت مریض خاتون کو اس کے پاس لائے تاکہ وہ اس کے حق میں دعاء کرے۔ شیطان اسی وقت اس عابد کے دل میں گناہ کرنے کا وسوسہ ڈالا اور وہ عابد شیطان کے دام فریب میں پھنس گیااور اس لڑکی کے ساتھ ظلم عظیم کا نہ صرف ارادہ کیا بلکہ اس کو عملی جامہ بھی پہنچادیا ۔ کچھ عرصہ بعد اس لڑکی کا حمل ظاہر ہوگیا اس پر اس عابد نے اس لڑکی کو قتل کردیا اور دفنا دیاتا کہ اس کی نیک نامی متاثر نہ ہو ۔شیطان نے لوگوں پر یہ بات ظاہر کردی جب یہ معاملہ بادشاہ کے دربار میں پہونچا تو امیرِ شہر نے تفتیش و تحقیق کے بعد عابد کو قصور وار پایا اور اسے پھانسی پر لٹکانے کا حکم دیدیا گیا جب اسے تختہ دار پر لٹکایا گیا تو شیطان اس عابد کے پاس پھر آیا اور کہامیری بات مانو میں تمہیں موت سے بچالوں گا۔ عابد نے کہا کیا حکم ہے شیطان نے کہا مجھے سجدہ کرو۔ عابد نے کہا تم جانتے ہو کہ تختہ دار پر لٹکے ہوئے آدمی کیلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ زمین پر جھک کر سجدہ کرسکے۔ شیطان نے کہا اشارہ ہی سے سجدہ کردو میں تمہیں اس مصیبت سے بچالوں گا۔ عابد نے اشارہ سے شیطان کو سجدہ کیا شیطان نے کہا کہ تو نے اپنے رب کا انکار کردیا میں تجھ سے بری ہوں میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ اسی وقت برصیصا کی روح قفص عنصری سے پرواز کر گئی اس طرح ایک نہایت نیک اور عبادت گزار بندہ کفر کی حالت میں فوت ہوگیا اور دنیوی و اخروی ذلت و رسوائی اس کا مقدر بن گئی۔ شیطان کا ہمیشہ سے ہی یہ دستور رہا ہے کہ وہ پہلے خیر خواہ کے روپ میں آتا ہے پھر انسان کو انواع و اقسام کے گناہوں کے ارتکاب کی طرف مائل کرتا ہے جب انسان کفر کامرتکب ہوجاتا ہے تو شیطان ان حساس لمحات میں انسان کو وسط میدان میں بے یار و مددگار چھوڑ رفو چکر ہوجاتا ہے جیسا رب فرماتا ہے ترجمہ: ’’منافقین اور یہود کی مثال شیطان کی سی ہے جو (پہلے) انسان کو کہتا ہے کہ انکار کردے (تاکہ تیری مشکلات حل ہوجائیں) اور جب وہ انکار کردیتا ہے تو شیطان کہتا ہے میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں میں تو ڈرتا ہوں اللہ سے جو عالمین کا پروردگار ہے ‘‘ (سورۃ الحشر آیت ۱۶)۔
تاریخ انسانیت شاہد ہے جو لوگ خدائی احکام اور انبیا و مرسلین کے فرامین کی مخالفت کرتے ہیں، نفس و شیطان کے زیر اثر آجاتے ہیں اور اطاعتِ حق کے حلقہ سے باہر نکل جاتے ہیں ان کا انجام بڑا تلخ اور عبرت ناک ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے رمضان المبارک کی برکتوں، سعادتوں اور فضیلتوں سے سرفراز فرماکر ہم پر رحم فرمایا، ہمارے گناہوں کی بخشش فرمادی اور ہمیں جہنم سے آزادی کا پروانہ عطا کیا اور ہمیں جنت کا مستحق بنادیا۔اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جہنمیوں کی صفات سے اجتناب کرتے ہوئے اس نعمت کی حفاظت کریں۔ رمضان المبارک ہمیں جنت کے پر نعمت اور باعظمت باغوں کا مستحق بننے کا موقع عنایت کرگیا اور ہم ایسے اعمال قبیحہ اختیار کررہے ہیں جو ہمیںجہنم میں لے جانے والے ہیں ۔ لہٰذا بحیثیت مسلمان ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ہر چھوٹے اور بڑے گناہوں سے اپنے آپ کو، اپنے اہل و عیال کو، مسلمانوں کو اور تمام انسانوں کو بچنانے کی حتی المقدور سعی و کوشش کریں۔ تب ہی ہم رمضان المبارک کے باعث حاصل شدہ نعمتوں کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہوں گے۔آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفی ﷺ ماہ صیام میں جس مقصد عظیم یعنی صفت تقوی کے حصول کے لئے ہم کوشاں تھے اس مقصد کو مقصد حیات بنالینے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یٰسٓ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT