Monday , September 25 2017
Home / مضامین / اب کیا ہوگا پاکستان میں

اب کیا ہوگا پاکستان میں

 

امتیاز متین،کراچی
نا اہل نواز شریف کی اب ایک ہی خواہش رہ گئی ہے کہ وہ کسی طرح مظلوم پاکستان اور شہید سیاست کا درجہ حاصل کر لیں، وہ بچ جائیں اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات نہ کھولے جائیں۔ شاید ان کی یہ خواہش ہے کہ فوج حرکت میں آئے اور انہیں پکڑ کر لے جائے، اگر یہ کرنا ہوتا تو ڈان لیکس کے معاملے میں کچھ اہم لوگوں کی گرفتاریاں ہو چکی ہوتیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔
گزشتہ ہفتے میاں نواز شریف نے وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت کی بھرپور مدد کے ساتھ اپنا جو جلوس نکالا ہے اس کا بنیادی نکتہ یہی نظر آتا تھا کہ کسی طرح تصادم ہو جائے، ادارے اشتعال میں آ جائیں، لیکن کوئی اشتعال میں نہیں آیا بلکہ عمران خان نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو واضح ہدایت دے دی تھی کہ تحریک کا کوئی کارکن ریلی کے راستے میں نہ آئے۔ تمام تر سرکاری وسائل خرچ کرنے کے باوجود ریلی کی ابتدا میں عوام زیادہ تعداد میں جمع نہیں ہو سکے تاہم گوجرانوالہ میں ایک بڑا اجتماع نظر آیا۔ میاں نواز شریف اپنی ہر تقریر میں اعلیٰ عدلیہ اور ان پانچ ججوں کو آڑے ہاتھوں لیتے رہے جنہوں نے انہیں ایوان وزیر اعظم سے نکال کر رائے ونڈ کا راستہ ناپنے پر مجبور کیا ہے۔ گویا وہ اپنی ہر تقریر میں توہین عدالت کے مرتکب ہوتے رہے، معلوم نہیں انہیں کس نے مشورہ دیا تھا کہ ایسی تقریروں سے انہیں کوئی سیاسی فائدہ ہوگا یا لاہور پہنچتے پہنچتے سپریم کورٹ کے پانچ جج عوامی دبائو پر اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ لیکن اس کے بھی کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ البتہ یہ ضرور لگتا ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کے بعض وزرا آئندہ دنوں میں توہین عدالت کے مقدمے ضرور بھگتیں گے۔
آئندہ چند دنوں میں نواز شریف اور ان کے بچوں اور رشتہ داروں کے خلاف نیشنل اکائونٹبلیٹی بیورو (NAB) کے ریفرنس کھلنے والے ہیں جن ان کی معصومیت کا مزید پول کھل جائے گا جس کا وہ اپنی ہر تقریر میں دعویٰ کرتے اور عوام سے یہ سوال کرتے رہے تھے کہ مجھے بتایا جائے کہ میرا قصور کیا ہے جو مجھے پانچ ججوں نے ایک فیصلہ سنا کر گھر بھیج دیا۔ میرے خلاف سازش ہوئی ہے۔ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے الزام میں برطرف کر دیا گیا۔ بظاہر یہ الزام بہت معمولی سا ہے کہ نواز شریف وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے ایک سال بعد بھی متحدہ عرب امارات میں قائم اپنے بیٹے کی کمپنی کے ملازم رہے۔ ملک کے بہت سے دوسرے وفاقی اور صوبائی وزرا کے پاس دوسرے ملکوں کے اقامے موجود ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ حکمرانوں کی مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کے اقاموں میں دلچسپی کی اصل وجہ منی لانڈنگ ہے جس کی وجہ سے سوئس بینک وغیرہ انہیں پاکستانی کے بجائے متحدہ عرب امارات کا رہائشی تصور کرکے ان کا بھیجا ہوا سرمایہ بہت آرام سے ادھر ادھر کر دیتے ہیں۔ ابھی تو جے آئی ٹی رپورٹ کا ڈبہ نمبر دس نہیں کھولا گیا لیکن عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں صرف اتنا اشارہ دیا ہے کہ اس میں نواز شریف کی بھارت میں سرمایہ کاری کے بھی شواہد موجود ہیں۔
تا حیات نا اہلی کے بعد نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو اگلا وزیر اعظم بنانے کا اعلان کر تو دیا تھا لیکن بعد کے دنوں میں یہ تجویز خارج کر دی گئی اور جیسا کہ پہلے قیاس کیا جا رہا تھا کہ نواز شریف کو کسی پر اعتماد نہیں ہے اس لیے وہ اپنی جگہ اپنی بیوی بیگم کلثوم نواز کو ملک کا وزیر اعظم بنوائیں گے، اب لاہور کے حقلہ این اے 120 سے نواز شریف کی قومی اسمبلی کی جو نشست خالی ہوئی ہے اس پر بیگم کلثوم نواز انتخاب لڑیں گی، جن کی خراب صحت کے بارے میں کئی سوال اٹھ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود لیگی رہنما انہیں شاہد خاقان عباسی کی جگہ وزیر اعظم منتخب کریں گے۔ گو کہ اس حلقے سے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کیے لیکن چونکہ لاہور مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے لہٰذا ان کی کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ بیگم کلثوم نواز کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر انتخاب کی صورت میں ہی نواز شریف حکومت اور اپنی جماعت پر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھ پائیں گے ورنہ الیکشن کمیشن انہیں پارٹی کی رکنیت سے بھی نا اہلی کا نوٹیفکیشن جاری کر چکا ہے۔ میاں شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر کرنے کے بعد اب شاید پارٹی کی صدارت سے بھی دور رکھا جائے گا کیونکہ نواز شریف یہ بالکل نہیں چاہیں گے کہ اقتدار ان کے گھرانے سے نکل کر ان کے بھائی کے گھرانے میں چلا جائے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ شریف خاندان بھی شدید داخلی انتشار کا شکار ہے جبکہ میاں نواز شریف کی فیئر ویل ریلی میں مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت کی عدم موجودگی پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ریلی میں ’’باجی ٹوئیٹی‘‘ مریم نواز کی کابینہ کے وزرا موجود ہیں جبکہ خود مریم نواز ریلی میں شامل ہونے کے بجائے حسب معمول گھر بیٹھ کر ٹوئیٹر پر اپنے بیانات جاری کر رہی ہیں۔
قبل ازیں تحریک انصاف کی ممبر قومی اسمبلی عائشہ گلا لئی جانب سے عمران خان پر انہیں گندے میسیجز بھیجنے کے الزامات کے بعد الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا میں جو لیگی اور تحریکی کارکنوں نے ایک دوسرے پر کیچڑ باری شروع کی تھی اس کا سلسلہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے صاحبزادے کی ایک مبینہ بیوی عائشہ احد کے سامنے آنے کے تھما۔ عائشہ گلا لئی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسے مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما نے بھاری رقم کا لالچ دیا تھا لیکن یہ فلم چند ہی دنوں میں فلاپ ہو گئی اور حکومت اپنے دشمن کے خلاف جو کارروائی کرنا چاہتی تھی اس میں اسے کوئی کامیابی نہیں ملی۔
دریں اثنا ایک تعجب خیز بات یہ ہوئی کہ نیا قائد ایوان بھاری اکثریت سے چننے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایم کیو ایم سے مدد مانگی گئی، یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے ایم کیو ایم سے مدد کیوں مانگی اور انہیں نئے وزیر اعظم کو ووٹ دینے کا کیا فائدہ ہوا جبکہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے تعلقات میں سنگین دراڑیں پڑتی رہی ہیں۔ ممکن ہے کہ اپنے نا اہل سربراہ کی تقاریر سننے کے بعد مسلم لیگیوں کو اب یہ نظر آنے لگا ہو کہ میاں نواز شریف بھی الطاف حسین کی کشتی میں سوار ہونے والے ہیں۔
قومی سطح پر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) میں میثاق جمہوریت کے نام پر پس پردہ مفاہمت کے لیے جو کوششیں کی جا رہی تھیں وہ بھی بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس کے بعد ختم ہوتے ہوئے نظر آنے لگے ہیں جس میں انہوں نے کھل کر یہ کہا ہے کہ جب میاں صاحب اقتدار میں ہوتے ہیں تو انہیں میثاق جمہوریت یاد نہیں آتا۔ اگر مسلم لیگ (ن) کی طرف سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کا جواب نہیں دیں گے اور نہ ہی ان کا فون سنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کو کوئی خطرہ نہیں ہے البتہ نواز شریف مشکل میں ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا موقف اس لحاظ سے درست معلوم ہوتا ہے کہ اب سیاسی منافقت اور لوٹ مار کی باہمی مفاہمت کی سیاست کا دور اب ختم ہو رہا ہے اگر انہوں نے مفاہمت کی یہ سیاست جاری رکھی تو پھر شاید ان کا گھرانہ بھی پیپلز پارٹی کی قیادت سے محروم ہو جائے گا۔ یہ صحیح ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے ’’اگلی باری زرداری‘‘ کے نعرے لگنا شروع ہو گئے ہیں جسے پیپلز پارٹی کے کارکنان آصف علی زرداری کی اقتدار کی باری قرار دیتے ہیں لیکن مخالفین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے بعد اب آصف علی زرداری کی باری ہے۔ ممکن ہے کہ نواز شریف کے سیاسی منظر سے ہٹ جانے کے بعد آصف علی زرداری بھی قومی سیاست سے باہر ہو جائیں، ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو تو پہلے ہی اصلی کے بعد سیاسی طلاق ہو چکی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے حامیوں کی خواہش ہے کہ عمران خان کسی بھی صورت میں وزارت عظمیٰ کے منصب تک نہ پہنچنے پائیں۔ کیا معلوم آئندہ دنوں میں زیادہ تر پرانے سیاسی کردار منظر سے غائب ہو جائیں اور ان کی جگہ نئے لوگ آ جائیں۔
گزشتہ چند ہفتوں سے ٹیلی وژن اسکرینز پر جاری سیاسی شو بازی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی ورداتوں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی چھوٹی چھوٹی خبریں اپنے اندر بڑے معنی لیے ہوئے ہیں۔ ایک طرف وہ حکمراں ہیں جو اپنے اقتدار اور دولت کو بچانے کے لیے سیاسی شعبدے بازیوں میں مصروف ہیں اور دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو اس ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اپر دِیر کے علاقے میں ایک میجر سمیت چار فوجیوں کی شہادت اور کراچی میں خاص طور پر ٹریفک پولیس اہلکاروں پر ڈیوٹی کے دوران دہشت گردوں کے ہلاکت خیز حملے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ کراچی کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں سرکاری وردی پہن کر گھر سے نکلنا ایک خطرناک کام بن چکا ہے لیکن اس کے باوجود ہزاروں اہلکار ہر روز وردی پہن کر شہر کی سڑکوں پر نکلتے ہیں اور شہر کا نظام چلانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ حالات ایک بار پھر تقاضہ کر رہے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر حکومت اپنے حصے کا کام کرے۔ شاید نئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اپنے مختصر ایام اقتدار میں کچھ کام کر جائیں ورنہ بعض مخالفین کے نزدیک تو یہ نظام سقہ کی حکومت ہی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ فوج اور سول حکومت کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ ایک طرف جہاں نواز شریف عدالتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی جانب سے یہ واضح اشارے آ رہے ہیں کہ وہ آئین، قانون اور عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ خارجی محاذ پر یہ اختلاف حکومت کی افغان اور بھارت پالیسی پر رہا ہے، خاص طور پر بھارتی جاسوسی کمانڈر کلبھوشن جادھیو عرف حسین مبارک پٹیل کے معاملے پر نواز شریف کی مکمل خاموشی ملٹری اسٹیبلشمنٹ ناخوش رہی ہے۔ داخلی محاذ پر نیشنل ایکشن پلان پر حکومت کی بے عملی اور عدم دلچسپی پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ فوج کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پنجاب میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کیے بغیر ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا لیکن سندھ حکومت کی طرح پنجاب حکومت بھی اپنے صوبے میں کسی آپریشن کی اجازت دینے سے گریز کرتی رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو کراچی آپریشن بھی سپریم کورٹ کے حکم پر ہوا ہے جو اس نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے کراچی بد امنی کیس کی سماعت کی اور اداروں کو کارروائی کا حکم دیا ورنہ یہاں آج بھی ڈاکوئوں، بھتہ خوروں اور گینگز کا راج ہوتا جن کی سیاسی سرپرستی بھی کی جا رہی ہوتی۔ نواز شریف جی ٹی روڈ پر تقریریں کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ میں نے کراچی میں امن قائم کیا اور ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ وہ اب بھی ادھورے حقائق بتا کر بیانیہ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے میں بچوں اور ٹیچرز کی شہادت کو لوگ بھولے نہیں ہیں۔ یہ وہ دن تھے جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری، حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیے بیٹھے تھے۔ عمران خان کا کہنا یہ تھا کہ نواز شریف کی پارٹی انتخابات میں دھاندلی کر کے کامیاب ہوئی ہے لہٰذا چار حلقوں کے ووٹوں کی دوبارہ جانچ کروائی جائے جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری پنجاب حکومت کی ماڈل ٹائون لاہور میں پولیس گردی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، حکومت پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ پولیس کی وردیوں میں غنڈوں کو سامنے لائی تھی جن کی فائرنگ اور بہیمانہ تشدد سے خواتین کارکنان سمیت 14 افراد جاں بحق اور 80 سے زیادہ کارکن زخمی ہوئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT