Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / اتراکھنڈ سپریم کورٹ کی جواب کیلئے مرکز کو کل تک مہلت

اتراکھنڈ سپریم کورٹ کی جواب کیلئے مرکز کو کل تک مہلت

K. M. Joseph Chief Justice of Uttarakhand High Court during the inauguration of Joint Conference of Chief Ministers and Chief Justices at Vigyan Bhavan in New Delhi on Sunday. Pic. By- Neeraj Priyadarshi.240416

صدر راج برخاست کرنے والے اتراکھنڈ کے چیف جسٹس جوزف کا آندھراپردیش تبادلہ
نئی دہلی ۔ 4 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج مرکز کی درخواست قبول کرلی کہ اتراکھنڈ ایوان اسمبلی میں طاقت کی آزمائش اس کے زیرنگرانی کروانے کی تجویز پر اس کا جواب داخل کرنے کیلئے اسے دو دن کی مہلت دی جائے۔ جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس شیوا کیرتی سنگھ نے مقدمہ کی سماعت جمعہ کے دن مقرر کردی جبکہ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا کہ انہوں نے پوری ذمہ داری کے ساتھ عدالت کو اطلاع دی ہیکہ اس تجویز پر حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ بنچ نے اٹارنی جنرل کا یہ بیان بھی درج کرلیا کہ یونین آف انڈیا سنجیدگی سے عدالت کی دی ہوئی تجویز پر غور کررہی ہیکہ ایوان اسمبلی میں طاقت کی آزمائش کروائی جائے تاکہ تنازعہ کا خاتمہ ہوسکے جس کے نتیجہ میں یہ مقدمہ قائم ہوا ہے۔ بنچ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ برطرف چیف منسٹر ہریش راوت کے مشیران قانونی کپل سبل اور ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا ہیکہ اگر حکومت یہ تجویز قبول کرلیتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ بنچ نے نوٹ کیا کہ اگر حکومت تجویز قبول کرلے تو بالواسطہ طور پر یہ جمہوریت کے کاز کی خدمت ہوگی۔ مقدمہ کی سماعت 6 مئی کو مقرر کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل نے اس تجویز پر ہدایات حاصل نہیں کیں تو مقدمہ کی سماعت کا آغاز کردیا جائے گا۔

اس امکان کی نشاندہی بھی کی گئی کہ تفصیلی سماعت کے لئے مقدمہ دستوری بنچ کے سپرد بھی کیا جاسکتا ہے۔ بنچ کا یہ موقف تھا کہ بیشتر مقدمات صدر راج کے نفاذ کے بارے میں دستوری بنچ سے سماعت کیلئے ماضی میں رجوع کئے جاچکے ہیں۔ تاہم کپل سبل اور سنگھوی نے اعتراض کیا کہ ایسے حکمنامے کے اندراج کا مطلب یہ ہیکہ ایوان میں طاقت کی آزمائش ہریش راوت کے بارے میں خط اعتماد کے مماثل ہے۔ اسے کسی بھی صورت میں تحریک عدم اعتماد پررائے دہی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم کانگریس کے بیان پر مکل روہتگی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ راوت اعتماد کا ووٹ خود کو چیف منسٹر کی حیثیت سے پیش کرتے ہوئے حاصل نہیں کرسکتے جبکہ صدر راج سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ریاست میں نافذ ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اتراکھنڈ کی صورتحال ایسی ہے جس میں دونوں پارٹیوں کو ایوان میں اپنی اکثریت کا ثبوت دینا ہوگا۔ سنگھوی نے کہا کہ ایوان میں طاقت کی آزمائش کسی پارٹی کی نہیں ہوسکتی جو برسراقتدار نہیں ہے اور نہ اس شخص کی ہوسکتی ہے جسے اپنی اکثریت ثابت کرنا ہو۔ سوائے اس کے کہ وہ چیف منسٹر ہو۔ ان مباحث کے دوران بنچ نے کہا کہ جوں کی توں حالت برقرار رکھنے کی خواہش نہیں کی جائے گی کیونکہ اس سے راوت کی اکثریت خطرہ میں پڑ جائے گی۔ دریں اثناء دہرہ دون سے موصولہ اطلاع کے بموجب ریاست میں صدر راج کا نفاذ برخاست کرنے کا حکم دینے والے اتراکھنڈ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ایم جوزف کا حیدرآباد میں آندھراپردیش ہائیکورٹ کو تبادلہ کیا جاچکا ہے۔ جسٹس جوزف نے چیف جسٹس اتراکھنڈ کا عہدہ جولائی 2014ء میں سنبھالا تھا۔ وہ گورنمنٹ لا کالج ارناکلم کے سابق طالب علم ہیں۔ دریں اثناء سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے دن مقدمہ کی سماعت مرکز کی درخواست پر 6 مئی تک ملتوی کردی۔ سپریم کورٹ نے تجویز پیش کی کہ اتراکھنڈ میں اکثریت کی آزمائش کیلئے جھارکھنڈ کے نمونے پر عمل کیا جائے جبکہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے اپنی اکثریت ثابت کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT