Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / اتراکھنڈ میں صدر راج برخاست، مودی حکومت کوزبردست جھٹکہ

اتراکھنڈ میں صدر راج برخاست، مودی حکومت کوزبردست جھٹکہ

ہریش راوت بحیثیت چیف منسٹر بحال، کامیابی پر سپریم کورٹ کی مہر ثبت، ریاست میں جشن
نئی دہلی ؍ دہرہ دون 11 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اتراکھنڈ میں صدر راج برخاست کردیا گیا۔ وزارت داخلہ نے آج اِس ضمن میں ہدایات جاری کیں۔ قبل ازیں اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے صدرجمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کی اور اتراکھنڈ میں صدر راج برخاست کرنے سے متعلق قانونی اُمور پر تبادلہ خیال کیا جہاں ہریش راوت نے اعتماد کا ووٹ جیت لیا ہے۔ قبل ازیں روہتگی نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا تھا کہ اتراکھنڈ میں مرکز صدر راج برخاست کردے گا۔ بعدازاں مرکزی کابینہ کا مختصر اجلاس منعقد ہوا جس میں صدر راج برخاست کرنے کی سفارش کی گئی۔ مکل روہتگی اور صدرجمہوریہ کے درمیان ملاقات تقریباً نصف گھنٹہ جاری رہی۔ راشٹراپتی بھون کے ذرائع نے یہ بات بتائی۔ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں یہ اعتراف کیاکہ ہریش راوت نے اکثریت ثابت کردی ہے۔ چنانچہ اُنھیں حکومت سے یہ ہدایات ملی ہیں کہ اتراکھنڈ میں صدر راج برخاست کردیا جائے۔ اِس دوران ہریش راوت کو تقریباً 46 دن جاری رہے سیاسی بحران کے بعد آج بحیثیت چیف منسٹر اتراکھنڈ بحال کردیا گیا۔ اِس سیاسی لڑائی میں نریندر مودی حکومت کو زبردست دھکہ پہونچا کیوں کہ سپریم کورٹ نے اسمبلی میں عددی طاقت کے مظاہرہ پر اپنی تصدیق کی مہر ثبت کردی ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے آج کہاکہ پرنسپل سکریٹری (مقننہ و پارلیمانی اُمور) جئے دیو سنگھ کی جانب سے پیش کردہ مہربند لفافہ کھولا گیا اور ہم نے دیکھا کہ 61 کے منجملہ 33 ووٹ راوت کے حق میں ڈالے گئے۔

چنانچہ تحریک اعتماد میں اُنھیں کامیابی ملی ہے، عدالت نے صدر راج کی تنسیخ کی ہدایت دی تاکہ 68 سالہ ہریش راوت بحیثیت چیف منسٹر ذمہ داری سنبھال سکیں۔ سپریم کورٹ کی اِس ہدایت کے ساتھ ہی دہرہ دون میں جشن کا ماحول دیکھا گیا جہاں کانگریس کارکنوں نے آتش بازی کرتے ہوئے خوشی میں رقص کرنے لگے۔ اُنھیں ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلاتے ہوئے دیکھا گیا۔ ہریش راوت جو کافی خوش دکھائی دے رہے تھے، کہاکہ عدلیہ نے جمہوریت پر عوام کے یقین کو بحال کیا ہے۔ اُنھوں نے پھر ایک بار ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے عہد کا اعادہ کیا۔ اتراکھنڈ میں سیاسی حالات تیزی سے تبدیل ہوتے رہے اور عدالتی کشاکش کے دوران مختلف موڑ آئے لیکن مرکز میں مودی حکومت کو ذلت سے دوچار ہونا پڑا جس نے کانگریس حکومت کو برطرف کرتے ہوئے ریاست میں صدر راج نافذ کردیا تھا۔ تصرف بل پر کانگریس کے 9 ارکان اسمبلی نے بی جے پی کی تائید کی جس کے بعد یہ قدم اُٹھایا گیا تھا۔ اسپیکر نے اِن باغی ارکان اسمبلی کو انسداد انحراف قانون کے تحت نااہل قرار دیا اور بعد میں اتراکھنڈ ہائیکورٹ نے اِس فیصلہ کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ سپریم کورٹ نے بھی اِس میں مداخلت نہیں کی۔

وزیراعظم مودی سے پارلیمنٹ میں
معذرت خواہی کا مطالبہ
کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی سے پارلیمنٹ میں معذرت خواہی اور اُس وزیر کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا جس نے ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ پارٹی ترجمان کپل سبل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ مودی کے دو سالہ اقتدار کی سب سے نمایاں خصوصیت دستور پر حملہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مودی سے مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکثر بھول جاتے ہیں وہ ہندوستان کے وزیراعظم ہیں، آر ایس ایس پرچارک نہیں۔ انھوں نے کہاکہ اگر حکومت مؤثر ڈھنگ سے کام کرے تو کانگریس مکمل تعاون کرے گی۔ اگسٹا ویسٹ لینڈ مسئلہ پر صدر کانگریس سونیا گاندھی پر تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ وزیراعظم کو یہ بنیادی بات معلوم ہونی چاہئے کہ جب پارلیمنٹ سیشن جاری ہو، اُس وقت الزامات ایوان میں ہی عائد کئے جاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT