Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / اتراکھنڈ میں صدر راج کا نفاذہائیکورٹ کی جانب سے کالعدم

اتراکھنڈ میں صدر راج کا نفاذہائیکورٹ کی جانب سے کالعدم

29 اپریل کو اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت ، مرکز کو زبردست دھکا ، سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا اعلان
نینی تال 21 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکز کی نریندر مودی حکومت کیلئے ایک جھٹکا دیتے ہوئے اتراکھنڈ ہائیکورٹ نے ریاست میں صدر راج کے نفاذ کو کالعدم قرار دیدیا اور ریاست میں ہریش راوت کی قیادت والی کانگریس حکومت کو بحال کردیا ہے ۔ ہائیکورٹ نے ہریش راوت کو بھی ہدایت دی کہ وہ 29 اپریل کو ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کریں۔ 27 مارچ کو دفعہ 356 کے تحت ریاست میں صدر راج نافذ کرنے  مرکز کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے ہائیکورٹ کی ایک ڈویژن بنچ نے چیف جسٹس کے ایم جوزف کی قیادت میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ریاست میں صدر راج کا نفاذ سپریم کورٹ کی جانب سے طئے شدہ ضابطہ کے مغائر ہے ۔ اطلاعات کے مطابق تاہم مرکز کی بی جے پی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کریگی ۔ ریاست میں ہریش راوت حکومت کو بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے چیف منسٹر سے بھی کہا کہ وہ 29 اپریل کو ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کریں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ سارا عمل 18 مارچ کو شروع ہوا تھا اور اندرون دس دن ایک اعلامیہ جاری کردیا گیا اور ایسی صورتحال پیدا کی گئی جس میں دفعہ 356 سپریم کورٹ کی جانب سے طئے شدہ قوانین کے مغائر نافذ کیا گیا ۔ عدالت نے کہا کہ اس مسئلہ پر فیصلہ کیلئے غور و خوض کیا گیا اور یہ پایا گیا کہ مرکز کا فیصلہ غیر درست تھا اور اس میں عدلیہ کی مداخلت حق بجانب ہے ۔

عدالت نے کہا کہ صرف کوئی ایک مثال کو استعمال کرتے ہوئے دفعہ 356 کو نافذ نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسے میں 27 مارچ کو صدر راج کے نفاذ کیلئے جاری کردہ اعلامیہ کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ اس فیصلے کو کالعدم قرار دئے جانے کے بعد جس وقت اعلامیہ جاری کیا گیا تھا اس وقت کی صورتحال کو جوں کی توں برقرار رکھنا چاہئے یعنی درخواست گذار ( ہریش راوت ) کی حکومت کو بحال کیا جاتا ہے ۔ عدالت نے تاہم کہا کہ درخواست گذار کو اپنی حکومت کی بحالی کے بعد ایوان اسمبلی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے 29 اپریل کو اپنی اکثریت ثابت کرنی ہوگی ۔ عدالت کے اس فیصلے سے ریاست میں ہریش راوت اور کانگریس کیلئے راحت نصیب ہوئی ہے ۔ ہریش راوت کی درخواست پر دو دن مسلسل سماعت کے بعد عدالت نے کہا کہ صدر راج کا نفاذ کالعدم قرار دیا جاتا ہے ۔ عدالت نے کانگریس کے نو ناراض ارکان اسمبلی کو نا اہل قرار دئے جانے کے فیصلے کو بھی برقرار رکھا ہے اور کہا کہ ان ارکان نے انحراف کا دستوری گناہ کیا ہے اور انہیں اس کی قیمت چکانی پڑیگی ۔ وہ نا اہل قرار پاتے ہیں۔ عدالت نے مرکز کے وکیل کی اس زبانی درخواست کو بھی مسترد کردیا کہ اس فیصلے پر حکم التوا جاری کیا جائے تاکہ اس پر سپریم کورٹ سے اپیل کی جاسکے۔ بنچ نے کہا کہ ہم خود اپنے فیصلے پر حکم التوا جاری نہیں کرینگے ۔ آپ سپریم کورٹ سے رجوع ہو کر حکم التوا حاصل کرسکتے ہیں۔

گذشتہ تین دن کی سماعت کے دوران بھی عدالت نے مرکزی حکومت اور اس کے فیصلے کے خلاف کئی ریمارکس کئے تھے اور کل سماعت کے دوران کہا تھا کہ ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا فیصلہ عدالتی جائزہ کا متقاضی ہے ۔ عدالت کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راوت نے کہا کہ یہ فیصلہ اتراکھنڈ کے عوام کی جیت ہے ۔ ان کا موقف درست ثبات ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریاستی بجٹ پیش کرنے کیلئے سنجیدگی سے کام کیا ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت اب ریاستی حکومت سے تعاون کرے گی۔ دریں اثناء نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے کہا کہ ہائیکورٹ کے فیصلہ سے مودی حکومت کی اقتدار پر قبضہ کرنے کی ناجائز کوشش ناکام ہوچکی ہے۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب اتراکھنڈ ہائیکورٹ کے فیصلہ پر غور کرنے کیلئے بی جے پی صدر امیت شاہ اور سینئر وزراء نے ایک اجلاس منعقد کیا جس میں اٹارنی جنرل مکل روہتگی بھی شریک تھے اور فیصلہ کیا گیا کہ کل سپریم کورٹ میں ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل کی جائے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو نے بھی فیصلہ میں شرکت کی اور کہا کہ یہ بحران کانگریس پارٹی میں پھوٹ پڑنے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو قوم سے معذرت خواہی کرنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT