Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / اتراکھنڈ :کانگریس نے اعتماد کا ووٹ جیت لیا

اتراکھنڈ :کانگریس نے اعتماد کا ووٹ جیت لیا

بی جے پی کا اعتراف شکست ، قوم سے معذرت کرنے کانگریس کا مطالبہ
دہرہ دون ۔ /10 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی جبکہ برطرف چیف منسٹر ہریش راوت نے ایوان اسمبلی میں خط اعتماد حاصل کرلیا ۔ حالانکہ نتائج کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا ۔ بی جے پی نے فوری شکست کا اعتراف کرلیا ۔ جبکہ 33 ارکان اسمبلی نے راوت کی تائید کی ۔ جبکہ اپوزیشن اپنے بل بوتے پر صرف 28 ووٹ حاصل کرسکی ۔ اتراکھنڈ اسمبلی کی نشستیں 72 سے کم ہوکر صرف 62 رہ گئی ہیں ۔ اسپیکر نے ووٹ نہیں دیا اور 9 باغی کانگریس ارکان اسمبلی کو ووٹ دینے کی اجازت نہیں ملی ۔ سپریم کورٹ نے رائے دہی کی نگرانی کی اور کہا کہ نتیجہ کا اعلان کل کیا جائیگا ۔ لیکن اکثریت کی آزمائش کے چند منٹ بعد کانگریس نے فتح کا بگل بجادیا ۔ کانگریس رکن اسمبلی سریتا آریہ نے ایک ٹی وی چیانل پر کہا کہ کانگریس نے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ 68 سالہ راوت جو راست کانگریس کے دفتر کو اکثریت ثابت کرنے کے بعد پہونچے تھے،

صدر کانگریس سونیا گاندھی، نائب صدر کانگریس راہول گاندھی، تمام ارکان اسمبلی کا نام بہ نام اور پارٹی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ مشکل کے وقت میں اُن تمام کی ٹھوس تائید کے نتیجہ میں وہ کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔ مرکزی حکومت سے راوت نے کہاکہ تصادم کی سیاست ترک کردے اور ریاست کے ساتھ مل کر اتراکھنڈ کو ترقی کے راستے پر ٹھوس پیشرفت کرنے کا موقع دے۔ اُنھوں نے تمام بارسوخ افراد سے جو دہلی میں ہیں، اِس شریفانہ مہم میں تائید کی اپیل کی۔ اسٹنگ آپریشن پر اُن کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کے سلسلہ میں اُنھوں نے کہاکہ وہ جیل جانے تیار ہیں۔ اُنھوں نے سپریم کورٹ ،جمہوری طاقتوں اور آسمانی طاقتوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے اتراکھنڈ کے عوام کی تائید کی۔ بی جے پی کے رکن گنیش جوشی نے رائے دہی میں ناکامی کا اعتراف کرلیا۔ تاہم کانگریس پر الزام عائد کیاکہ اُس نے زر اور زور کے بل پر ارکان اسمبلی کے ووٹ حاصل کئے ہیں۔ کانگریس کے فی الحال 27 اور بی جے پی کے 28 ارکان اسمبلی ہیں۔ لیکن دیگر 6 ارکان اسمبلی بشمول بی ایس پی کے دو ارکان راوت کی تائید میں کیلئے تیار تھے حالانکہ دونوں میں نظریات کا تضاد ہے۔ مسرت سے سرشار کانگریس نے اتراکھنڈ کی کامیابی کو جمہوریت کی کامیابی قرار دیا۔

پارٹی ترجمان رندیپ سنگھ سرجیوالا نے جمہوریت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہاکہ سازشیوں کو شکست ہوئی۔ اُنھوں نے کہاکہ سچائی ہمیشہ کامیاب رہتی ہے۔ زر اور زور آخرکار ناکام ہوجاتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی کو جس نے راوت کو اقتدار سے بیدخل کیا تھا، قوم سے معذرت خواہی کرنی چاہئے۔ کانگریس قائد غلام نبی آزاد نے کہاکہ جمہوریت نے فتح حاصل کرلی ہے۔ سپریم کورٹ کی زیرنگرانی رائے دہی منعقد کی گئی جس کی وجہ سے یہ ممکن ہوسکا حالانکہ بی جے پی نے جمہوریت کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ چیف منسٹر دہلی و سربراہ عام آدمی پارٹی اروند کجریوال نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیاکہ ہریش راوت کی کامیابی مودی حکومت کیلئے دھکہ ہے۔ اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ مرکز منتخبہ حکومتوں کو اقتدار سے بیدخل کرنے سے باز آجائے گا۔ بی ایس پی قائد مایاوتی نے قبل ازیں دن میں کہا تھا کہ اُن کی پارٹی کانگریس کی تائید کرے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم ہمیشہ فرقہ پرست طاقتوں کے مخالف رہے ہیں۔ ہمارے دو ارکان اسمبلی کانگریس کی تائید میں ووٹ دیں گے۔

TOPPOPULARRECENT