Tuesday , May 23 2017
Home / Top Stories / اترپردیش اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ کیلئے اعلامیہ جاری

اترپردیش اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ کیلئے اعلامیہ جاری

۔15 مغربی اضلاع کے 73 مسلم اکثریتی حلقوں میں 11 فروری کو رائے دہی، مایاوتی اور اکھلیش کیلئے اہم امتحان
لکھنو 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کا عمل آج سے شروع ہوگیا جب الیکشن کمیشن نے پہلے مرحلہ کے تحت مسلمانوں کی غالب آبادی والے مغربی اترپردیش کے 15 اضلاع میں 73 حلقوں میں 11 فروری کو رائے دہی کے لئے اعلامیہ جاری کردیا جس کے ساتھ ہی ان حلقوں میں 11 بجے دن سے پرچہ جات نامزدگی داخل کرنے کا عمل بھی شروع ہوگیا۔ چیف الیکٹورل آفیسر نے کہاکہ پرچہ جات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 24 جنوری ہے اور 27 جنوری تک امیدواری سے دستبرداری اختیار کی جاسکتی ہے۔ ان حلقوں میں 11 فروری کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ پہلے مرحلہ کے تحت مغربی اترپردیش کے اضلاع کا احاطہ کیا جائے گا جن میں فساد زدہ مظفر نگر اور شاملی بھی شامل ہیں جہاں 2014 ء کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے بہتر مظاہرہ کیا تھا۔ دیگر اضلاع میں باغپت، میرٹھ، غازی آباد، گوتم بدھا نگر، ہاپور، بلند شہر، علیگڑھ، متھرا، ہتھراس، آگرہ، فیروز آباد، ایٹاہ اور خاص گنج شامل ہیں جہاں 93 اسمبلی حلقوں میں 11 فروری کو رائے دہی ہوگی۔ یہ مسلم اکثریتی حلقے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے لئے بھی ایک تیزابی امتحان ثابت ہوں گے جو زیادہ تر دلت ۔ مسلم ووٹ بینک پر انحصار کررہی ہیں اور یہ علاقہ ماضی میں مایاوتی کا گڑھ بھی رہا ہے۔ اس مرتبہ مایاوتی ریاستی اسمبلی کی 403 نشستوں کے منجملہ 97 حلقوں سے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیتے ہوئے اقلیت کی تائید پر زیادہ انحصار کررہی ہیں۔ انتخابی نتیجہ سے یہ ظاہر ہوجائے گا کہ مایاوتی کس حد تک دلت ووٹ بینک کی تائید برقرار رکھ سکتی ہیں اور آیا وہ گزشتہ انتخابات کے مقابلہ اس مرتبہ مسلم ووٹ بینک کی تائید حاصل کرپائی ہیں۔ بی جے پی بھی دلتوں کی تائید حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔ اکھلیش یادو کے حق میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد ان کی زیرقیادت سماج وادی پارٹی کو بھی اس علاقہ میں سخت امتحان کا سامنا ہے۔ پہلے مرحلہ کے تحت بشمول 1.17 کروڑ خواتین 2.57 کروڑ رائے دہندے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کرسکیں گے۔ چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے کہا ہے کہ اس علاقہ میں 24.25 لاکھ ووٹرس کی عمر 18 تا 19 سال کے درمیان ہے۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات کے ابتدائی مرحلوں میں ووٹنگ کے فیصد بالخصوص اقلیتوں کے ووٹوں کے استعمال سے مسلمانوں کے رجحان اور مقابلہ کی نوعیت کا اشارہ مل جائے گا۔ مسلم اکثریتی علاقہ میں پہلے مرحلہ کے انتخابات پر اسدالدین اویسی کی زیرقیادت مجلس اتحاد المسلمین کا اثر بھی مرتب ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT