Thursday , August 17 2017
Home / سیاسیات / اترپردیش اسمبلی کے سیشن کا گڑبڑ و ہنگامہ آرائی کیساتھ آغاز

اترپردیش اسمبلی کے سیشن کا گڑبڑ و ہنگامہ آرائی کیساتھ آغاز

ایس پی، کانگریس، بی ایس پی متحدہ احتجاج، یوگی حکومت کیخلاف نعرہ بازی، امن و قانون کی صورتحال پر تنقید
لکھنؤ ۔15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) نومنتخب اترپردیش اسمبلی کا پہلا اجلاس آج انتہائی شوروغل و ہنگامہ آرائی کے درمیان شروع ہوا، جس میں اپوزیشن ارکان گورنر رام نائک پر ان کے خطبہ کے دوران کاغذوں کے گولے بنا کر پھینکتے رہے اور مارشلوں نے فائیلوں کے ذریعہ انہیں روکنے کی کوشش کی۔ گذشتہ ماہ منعقدہ اسمبلی انتخابات میں فقیدالمثال کامیابی کے ساتھ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسمبلی کا یہ پہلا سیشن ہے۔ مقننہ کے دونوں ایوانوں سے گورنر کا روایتی خطاب اپوزیشن کے شوروغل اور ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا۔ گورنر کے 35 منٹ کے خطاب کے دوران ایس پی کے رکن راجیش یادو مسلسل سیٹی بجاتے رہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ گورنر کے خطبہ کی سماعت نہ کی جاسکے۔ اس دوران دیگر اپوزیشن ارکان نے کاغذی گولے پھینکنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ چند کاغذی گولے گورنر کو بھی جا لگے حالانکہ مارشلس گورنر کو بچانے کیلئے ڈھال بنائے ہوئے تھے۔ بیانرس، پلے کارڈس تھامے متعدد اپوزیشن ارکان جو ہمہ اقسام کی ٹوپیاں بھی پہنے ہوئے تھے، حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے۔ گورنر نے جیسے ہی خطبہ پڑھنا شروع کیا سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس سے وابستہ تمام اپوزیشن ارکان نے امن قانون کے مسئلہ پر حکومت کے خلاف نعرہ بازی شروع کردی۔ بی ایس پی کے ایک پلے کارڈ پر درج تھا کہ ’’پولیس پیٹ رہی ہے تھانوی میں یوگی تیرے زمانہ میں‘‘ دوسرے پلے کارڈ پر درج تھا کہ ’’گاؤرکشا کے نام پر غنڈہ گردی بند کرو‘‘۔ ایس پی کے ایک رکن اسمبلی نے امن و قانون کے مسئلہ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس دوران کانگریس بھی اپوزیشن کے احتجاج میں شامل ہوگئی اور اس کے ارکان نے ’’امن و قانون کی صورتحال درہم برہم ہے اور حکومت تین طلاق اور ذبیحہ خانوں میں مصروف ہے‘‘۔ دوسری طرف بی جے پی ارکان نے گورنر کی جانب سے حکومت کی ستائش کا میزیں تھپتھپا کر خیرمقدم کیا، جس سے ایوان میں پہلے ہی سے جاری شوروغل میں مزید اضافہ محسوس ہوا۔ گورنر کے ساتھ اسپیکر ڈکشٹ اور قانون ساز کونسل کے صدرنشین رمیش یادو بھی موجود تھے۔ اپوزیشن کی نعرہ بازی کے دوران گورنر نے 84 صفحات پر مشتمل خطبہ مکمل کیا۔ اس موقع پر چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ بھی موجود تھے۔ گورنر کا خطبہ دراصل حکومت کی طرف سے تیار کیا جاتا ہے جو اس کی کامیابیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ گورنر نے اترپردیش کی صورتحال کیلئے بالواسطہ طور پر ماضی کی حکومتوں کو موردالزام ٹھہرایا اور اترپردیش کو صف اول کی ریاست بنانے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے عزم کی ستائش کی۔ نائک نے کہا کہ اترپردیش پہلے صف اول کی ریاست تھی لیکن بعد میں دیگر ریاستوں سے پیچھے ہوگیا۔ اس ریاست میں بی جے پی برسراقتدار آنے کے بعد ایوان کی کارروائی ٹیلی کاسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاکہ عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔ گورنر نے جو اپوزیشن ارکان کی مسلسل نعرہ بازی اور ان پر کاغذی گولے پھینکے جانے پر عملاً برہم نظر آرہے تھے، ایک مرحلہ پر کہا کہ ’’سارا اترپردیش دیکھ رہا ہے آپ کو۔ ایوان کی شائستگی بنائے رکھئے‘‘۔ لیکن ان کی برہمی و درخواست کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ کابینی وزیر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے بعدازاں اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’ریاست کے عوام اترپردیش میں ایس پی کی غنڈہ گردی دیکھ چکے ہیں اور آج ایوان میں ان (ایس پی) کا رویہ دیکھ کر اس بات پر خوش ہوں کہ انہوں نے ایس پی کو اقتدار سے باہر نکال کر پھینک دیا ہے‘‘۔ سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’اپوزیشن ارکان جس انداز میں ایوان کی میزوں پر اچھل کود کررہے تھے اور گورنر پر کاغذی گولے بناکر پھینک رہے تھے یہ دراصل جمہوریت کا مذاق اور قابل مذمت ہے‘‘۔ اپوزیشن ایس پی اور کانگریس نے ریاست میں امن و قانون کی صورتحال پر یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو گھیرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایس پی لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر رام گویند چودھری نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اقتدار میں ریاست میں امن و قانون کی مشنری مفلوج ہوگئی ہے‘‘۔ چودھری نے کہا کہ ’’قتل و عصمت ریزی میں اضافہ ہوا ہے اور حتیٰ کہ بچوں کی عصمت ریزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت ناکام ہوچکی ہے‘‘۔ اجلاس کے دوران سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھیلیش یادو نے اس اجلاس کے موقع پر اپنے چچا شیوپال سے راست رابطہ کرنے سے گریز کیا۔ شیوپال جو رکن اسمبلی ہیں ایوان میں آمد کے فوری بعد پچھلی نشست پر بیٹھ گئے تھے بعدازاں اکھیلیش کے بازو کی نشست پر بیٹھے لیکن انہیں دیکھنے کے بعد انہوں نے بات چیت یا خیرسگالی کے تبادلہ سے گریز کیا۔

TOPPOPULARRECENT