Monday , June 26 2017
Home / شہر کی خبریں / اترپردیش انتخابات میں مسلمانوں کو مشتعل کرنے اور منافرت کو فروغ دینے کی کوشش

اترپردیش انتخابات میں مسلمانوں کو مشتعل کرنے اور منافرت کو فروغ دینے کی کوشش

دین بیزاری کو بڑھاوا دینے ملعون تارک فتح کا سہارا، بی جے پی کی گہری سازش
حیدرآباد۔16جنوری(سیاست نیوز) ملک میں مسلم دشمن عناصر کو پناہ دیتے ہوئے انہی کے ذریعہ مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ عمل اب روایت کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور گمراہی کا شکار ایسے افراد جو دین بیزار ہیں انہیں پناہ دیتے ہوئے مسلمانوں کو مشتعل کرنے اور منافرت کو فروغ دینے کی کوششوں کے ذریعہ انتخابی کامیابی پر بھی نگاہیں مرکوز کی جانے لگی ہیں۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران دین بیزاری کے فروغ کیلئے کی جانے والی کوششوں کے طور پر تارک فتح جیسے ملعون کا استعمال کئے جانے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ شیطانی کلمات کے مصنف سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے شاتم رسول کی صف میں کھڑے تارک فتح جس کا نام دراصل طارق فتح ہے اپنی دین بیزاری اور مخالف اسلام پروپگنڈے کے سبب ہندستان میں ذرائع ابلاغ کا نور نظر بنا ہوا ہے اور جو قوتیں اترپردیش میں اقتدار کیلئے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کیلئے ہر حربہ اختیار کر رہے ہیں ان کی جانب سے مخالف اسلام تارک فتح کا بھی بھرپور استعمال کئے جانے کی توقع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کمینہ صفت شخص کو دانشور کے طور پر پیش کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں میں آزاد خیالی کے فروغ کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جس اسلام پرنوجوان نسل گامزن ہے وہ درحقیقت مولی کا نہیں ملا کا اسلام ہے۔ تارک فتح جیسے نام نہاد دانشوروں کے استعمال کے ذریعہ امت مسلمہ نوجوانو ںمیں اختلاف رائے پیدا کرتے ہوئے انہیں منقسم کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے اور ایسے وقت ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کو چوکنا کرنے کیلئے دینی اصولوں سے واقف اکابرین کو اپنے دروازے بند کرنے کے بجائے عملی میدان میں آنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان دروازوں کو بندکرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے وہ اس بات کا غماز ہے کہ اس فیصلہ پر بھی کسی سازش کا کنٹرول ہے اور کوئی ہے جو یہ نہیں چاہتا کہ علماء و اکابرین عملی سیاست میں امت کی رہنمائی نہ کریں بلکہ وہ خود کو مصلی کے حد تک محدود رکھیں اور وہی ہے جو یہ چاہتا ہے کہ تارک فتح جیسے افراد کے ذریعہ ملت کے نوجوانوں میں بے دینی اور انتشار کی کیفیت پیدا کرے ۔ 2014عام انتخابات کے نتائج کے ڈھائی برس گذر جانے کے بعد اتر پردیش اسمبلی انتخابات پر ملک بھر کی نظریں مرکوز ہیں کیونکہ ان انتخابات کے نتائج کو منی جنرل الیکشن کہا جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش ہے۔ ملک میں کرنسی تنسیخ کے آمرانہ فیصلہ نے ان انتخابات کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے اور انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی کامیابی کو کسی بھی قیمت پر یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے ۔ ان انتخابات کے پیش نظر ہی مظفر نگر اور دادری کے واقعات رونما ہوئے اور ان انتخابات میں کامیابی کیلئے مسلم ووٹوں کی تقسیم کیلئے ضمیر فروشوں کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا۔ اتر پردیش انتخابات میں کامیابی کے خواب کو پورا کرنے کیلئے خاندان میں دراڑ پیدا کی گئی اور اس دراڑ کو پیدا کرنے کیلئے نوئیڈا کے سی بی آئی مقدمہ کا سہارا بھی لیا گیا ان سب سازشوں کے ساتھ اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بے دینی اور دین بیزاری کے ذریعہ مسلم نوجوانوں میں انتشار کی کیفیت پیدا کرتے ہوئے انہیں منقسم کرنے کے لئے نام نہاد کمینہ صفت دانشوروں کا استعمال کیا جائے گا اور ان حالات میں اکابرین جو خود کو انتخابی ماحول سے دور رکھنے کی کوشش کررہے ہیں ان کی میدان عمل میں عدم موجودگی کا بھر پور فائدہ تارک فتح جیسی شخصیتوں کو حاصل ہوگا اور اس کے تیار کردہ نوجوان شریعت کی دھجیاں اڑاتے نظر آئیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT