Friday , July 21 2017
Home / Top Stories / اترپردیش سے تعلق رکھنے والا لشکر طیبہ جنگجو سندیپ شرما کشمیر میں گرفتار

اترپردیش سے تعلق رکھنے والا لشکر طیبہ جنگجو سندیپ شرما کشمیر میں گرفتار

سرینگر۔10جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں اپنی نوعیت کے پہلے واقعہ میں ریاستی پولیس نے جنگجو تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ ایک غیرریاستی جنگجو کو گرفتار کرلیا ہے ۔ گرفتار شدہ جنگجو کی شناخت سندیپ کمار شرما ساکنہ مظفر نگر اترپردیش کے بطور ظاہر کی گئی ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ سندیپ کمار یکم جولائی کو جنوبی ضلع اننت ناگ کے دیالگام میں مارے گئے لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر بشیر لشکری کا قریبی ساتھی تھا۔ پولیس کے مطابق گرفتار شدہ غیرریاستی جنگجو مختلف بینک ڈکیتیوں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا ہے ۔سیکورٹی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ وادی میں 1990 ء کی دہائی میں شروع ہوئی مسلح شورش کے دوران کسی غیر ریاستی جنگجو (جموں وکشمیر کو چھوڑ کر ہندوستان کی کسی دوسری ریاست کے شہری) کی گرفتاری کا پہلا واقعہ ہے ۔انہوں نے غیر ریاستی شہری کے وادی میں جنگجویانہ سرگرمیوں میں ملوث رہنے کو تشویشناک قرار دیا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق وادی میں کام کررہے غیر ریاستی مزدوروں کی تعداد 5 سے 7 لاکھ کے درمیان ہے ۔ ان میں سے بیشتر مزدوروں کا تعلق شمالی ہندوستان کی ریاستوں اترپردیش اور بہار سے ہے ۔کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان نے پیر کو یہاں ایک نیوز کانفرنس میں لشکر طیبہ جنگجو سندیپ کمار کی گرفتاری کا دعویٰ کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ لشکر طیبہ دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے غیرمسلم مجرموں کو کشمیر میں بینک ڈکیتیوں اور جنگجویانہ سرگرمیاں انجام دینے کیلئے استعمال کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو اب وادی میں غیرریاستی مزدوروں کی نگرانی بڑھانی ہوگی۔ آئی جی پی نے کہا ’’لشکر طیبہ ماڈیول سے وابستہ دو افراد سندیپ کمار شرما عرف عادل ساکنہ مظفر نگر یو پی اور منیب شاہ ساکنہ کلگام کو گرفتار کیا گیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’جرائم پیشہ افراد اپنے ذاتی اغراض کیلئے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کررہے ہیں یہ امر باعث تشویش ہے ۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا ہمیں مستقبل میں سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ یہ ایک نیا رجحان ہے ۔ ہمیں ملک کے مختلف حصوں سے کشمیر آنے والے مزدوروں کی نگرانی بڑھانی ہوگی۔ ہمیں اب ان کی (غیرریاستی مزدوروں کی) ورفکیشن کرنا پڑے گی‘‘۔منیر خان نے کہا کہ شرما سیکورٹی فورسز پر ہوئے مختلف حملوں کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا ‘ وہ گذشتہ ماہ (جون) کی 16 تاریخ کو ضلع اننت ناگ کے اچھہ بل میں ریاستی پولیس کی ایک پارٹی پر کئے گئے گھات حملے میں بھی ملوث تھا’۔ اس گھات حملے میں اسٹیشن ہاوس آفیسر (ایس ایچ او) اچھہ بل فیروز احمد ڈار کے سمیت 6 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے ۔آئی جی پی نے کہا کہ لشکر طیبہ جنگجو سندیپ شرما گذشتہ ماہ کی 3 تاریخ کو سری نگر جموں قومی شاہراہ پر لور منڈا قاضی گنڈ کے مقام پر فوجی قافلے پر کئے گئے حملے میں بھی ملوث تھا۔ اس حملے میں فوج کا ایک اہلکار جاں بحق ہوا تھا۔انہوں نے کہا ‘شرما جنگجوؤں کے اس گروپ کا بھی حصہ تھا جس نے 13 جون 2017 کو اننت ناگ کے آنچی ڈورہ میں ہائی کورٹ کے ریٹائیرڈ جج کی رہائش گاہ میں قائم پولیس گارڈ روم سے ہتھیار اڑا لئے ‘۔

 

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT