Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / اترپردیش میں بی جے پیکی انتخابی مہم کا آغاز

اترپردیش میں بی جے پیکی انتخابی مہم کا آغاز

Saharanpur: BJP National President Amit Shah addresses a gathering during "Parivartan Yatra" in Saharanpur on Saturday. PTI Photo (PTI11_5_2016_000200A)

عوام سے تجاویز طلب ، چیف منسٹر امیدوار کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا : امیت شاہ
لکھنو 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر بی جے پی امیت شاہ نے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے سلسلہ میں آج پارٹی کی مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔ انھوں نے کہاکہ ’’اترپردیش کے عوام کی آواز‘‘ مہم کے طور پر پارٹی عوام سے رجوع ہوگی اور یہ جاننا چاہے گی کہ بی جے پی کے بارے میں اُن کی توقعات اور اُمیدیں کیا ہیں۔ اُن کی تجاویز تحریری طور پر حاصل کی جائیں گی۔ بی جے پی صدر نے انتخابی مہم کے سلسلہ میں موبائیل نمبر بھی جاری کیا اور کہاکہ جو کوئی اس نمبر پر مسڈ کال دیں، اُن سے ربط قائم کیا جائے گا اور اُن کی بات سنی جائے گی۔ تحریری تجاویز کے سلسلہ میں تقریباً 1500 باکسیس رکھے جائیں گے جن کا نام ’’آکانشا‘‘ رکھا گیا ہے۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے آج بتایا ہے کہ ان کی پارٹی نے یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں وزارت اعلیٰ کے امیدوار کی حیثیت سے کس کا نام پیش کیا جائے جبکہ دیگر ریاستوں راجستھان، چھتیس گڑھ، گجرات، گوا اور مدھیہ پردیش میں بھی کسی کو چیف منسٹر کے چہرہ کے طور پر پیش نہیں کیا گیا تھا۔ انھوں نے یہاں ایک پروگرام میں کہاکہ پارٹی نے ہنوز یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ انتخابات میں چیف منسٹر کے عہدہ کا دعویدار کون ہوگا؟

امیت شاہ سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ آیا بی جے پی اس کلیدی عہدہ کے لئے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ یا پارٹی کے ایم پی یوگی آدتیہ ناتھ کو پیش کرے گی۔ انھوں نے کہاکہ بی جے پی کی بنیاد کارکنوں پر منحصر ہے اور داخلی جمہوریت بھی برقرار ہے۔ انھوں نے کہاکہ کسی مخصوص خاندان میں پیدا ہونے سے کوئی لیڈر نہیں بن جاتا۔ جبکہ ہماری پارٹی میں سب مل کر کام کرتے ہیں۔ اترپردیش کے بارے میں انھوں نے کہاکہ ملک کی ترقی ریاست کی ترقی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ بی جے پی کا ایقان خوشامدی کی بجائے کارکردگی کی سیاست پر ہے اور اترپردیش میں بی جے پی کی 3 اہم ترجیحات میں انفراسٹرکچر کی ترقی، نوجوانوں کو فراہمی روزگار اور بہترین امن و قانون شامل ہے۔ انھوں نے یہ ادعا کیا ہے کہ دیگر ریاستوں کے مقابل بی جے پی کی زیر اقتدار راستوں میں امن و قانون کی صورتحال بہتر ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ پارٹی (بی جے پی) کو مضبوط کرنا میری ذمہ داری ہے لیکن بعض سیاسی جماعتیں وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہوجاتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT