Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / اترپردیش میں عصمت ریزی کے واقعات پر راجیہ سبھا میں احتجاج

اترپردیش میں عصمت ریزی کے واقعات پر راجیہ سبھا میں احتجاج

کانگریس اور سماج وادی پارٹی ارکان کے درمیان لفظی جھڑپ
نئی دہلی۔3 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں عصمت ریزی کے واقعات بالخصوص بلند شہر میں ایک ماں اور بیٹی کی اجتماعی عصمت ریزی کے واقعہ پر آج راجیہ سبھا میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے درمیان تیز اور تلخ الفاظ کا تبادلہ عمل میں آیا جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ امن و قانون کی برقراری ریاست کا معاملہ ہے لیکن اس طرح کے واقعات انتہائی قابل مذمت ہیں۔ وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے رجنی پاٹل (کانگریس) نے کہا کہ خواتین کے خلاف مظالم اور عصمت ریزی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے جس پر ایوان میں فی الفور مباحث کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں نوئیڈا سے کانپور سفر کے دوران ایک ماں اور ان کی کمسن لڑکی کے ساتھ عصمت ریزی کا گھنائونا واقعہ پیش آیا ہے دیگر کانگریسی ارکان نے جب رجنی پاٹل کے مطالبہ کی حمایت کی تو سماجوادی پارٹی کی رکن جیہ بچن جو کہ اترپردیش سے نمائندگی کرتی ہیں،کہا کہ اس مسئلہ پر کانگریس مگرمچھ کے آنسو بہارہی ہے اور یہ مشورہ دیا کہ خواتین کے خلاف مظالم اور جرائم کے مسئلہ کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مسئلہ پر مباحث کے لئے بہت پہلے ہی ایک نوٹس دی تھی لیکن اب تک اسے قبول نہیں کیا گیا۔

جیہ بچن نے کہا کہ یہ بات اہم نہیں کہ ملک کے کس علاقہ میں عصمت ریزی کے واقعات پیش آرہے ہیں بلکہ میں صرف اس مسئلہ پر مباحث کے حق میں ہوں اور سیاسی رنگ دینے کی شدید مخالف ہوں جس پر فی الفور ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امبیکا سونی (کانگریس) نے کہا کہ اترپردیش کے ایک وزیر نے ہی اس مسئلہ پر سیاسی کھیل شروع کیا ہے۔ بحث و تکرار کے دونوں جانب صدرنشین بی جے کورین نے تیقن دیا کہ مسئلہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور بہت جلد تفصیلی بحث کروائی جائے گی۔ یو این آئی کے بموجب   بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور کانگریس کے ارکان نے اتر پردیش اور ملک کے دیگر حصوں میں عصمت دری کے بڑھتے ہوئے واقعات کے سلسلے میں آج راجیہ سبھا میں کافی شوروغل کیا اور اس معاملے پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔  بی ایس پی کی سپریمو محترمہ مایاوتی نے ایوان میں وقفہ صفر کے دوران اتر پردیش اور ملک کے دیگر حصوں میں عصمت دری کے بڑھتے ہوئے واقعات کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ اترپردیش میں تو صورتحال انتہا پر پہنچ گئي ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بہن بیٹیوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ، حکومت کیا کر رہی ہے ؟  محترمہ مایاوتی نے کہا کہ عصمت دری کسی ایک ریاست کا معاملہ نہیں ہے اور اس پر پارٹیوں کے نظریات سے اوپر اٹھ کر بحث کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اتر پردیش میں ایک ٹیچر اور ایک طالبہ کو دن دہاڑے اغواء کرلیا گیا۔ سماج وادی پارٹی کے نریش اگروال نے کہا کہ بلند شہر میں عصمت دری کے معاملے کے سلسلے میں اتر پردیش حکومت نے سخت کارروائی کی ہے اور اس کی پورے ملک میں تعریف ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کی رکن محترمہ جیا بچن نے خواتین پر تشدد پر بحث کے لئے ضابطہ 167 کے تحت ایک ماہ پہلے نوٹس دیا تھا۔اس سے قبل کانگریس کی رجنی پاٹل، رینوکا چودھری، کماری شیلجا اور امبیکا سونی نے عصمت دری کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اس معاملے پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT