Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / اترپردیش میں لوک ایوکت کے تقرر پر تنازعہ

اترپردیش میں لوک ایوکت کے تقرر پر تنازعہ

مفاد عامہ کی درخواست پر حکومت کو حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت
الہ آباد ۔ 7 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : الہ آباد ہائی کورٹ نے آج حکومت اترپردیش کو ہدایت دی ہے کہ نئے لوک ایوکت کے انتخاب کے طریقہ کار کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ ایک مفاد عامہ کی درخواست پر جوابی حلفنامہ پیش کرے ۔ جسٹس راکیش تیواری اور جسٹس مختار احمد پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے ریاستی چیف اسٹانڈنگ کونسل کو ہدایت دی کہ آئندہ سماعت کی تاریخ کے دن 11 اگست کو جوابی حلفنامہ داخل کریں ۔ ایک دن قبل چیف جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ نے اس کیس کی سماعت سے علحدگی اختیار کرلی تھی جب کہ ایڈوکیٹ انوپ برنوال نے اس بنیاد پر چیلنج کیا ہے کہ نئے لوک ایوکت کے انتخاب کے وقت لوک ایوکت ایکٹ کے مطابق چیف جسٹس سے مشاورت نہیں کی گئی ۔ ریاستی گورنر رام نائک نے بھی اس خصوص میں اکھلیش یادو حکومت کی جانب سے روانہ فائل کو واپس بھیج دیا ہے ۔ جس میں ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج رویندر سنگھ کے تقرر کی سفارش کی گئی تھی ۔ گورنر نے حکومت سے یہ تفصیلات طلب کی ہے کہ آیا اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس ہائی کورٹ سے کوئی مشاورت کی گئی ہے ۔ جب کہ اترپردیش لوک ایوکت ایکٹ کے دفعہ 3 کے مطابق لوک ایوکت کے انتخاب پر چیف جسٹس اور اپوزیشن لیڈر سے مشاورت لازمی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT