Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / اترپردیش میں مویشیوں کی اسمگلنگ، گاؤ ذبیحہ پر خیر نہیں، سخت قوانین لاگو

اترپردیش میں مویشیوں کی اسمگلنگ، گاؤ ذبیحہ پر خیر نہیں، سخت قوانین لاگو

خاطیوں کو قانون قومی سلامتی اور گینگسٹرس ایکٹ کے تحت ماخوذ کیا جائیگا ۔ گاؤ رکھشا کے نام پر غیرقانونی حرکتوں کیخلاف بھی انتباہ ۔ ڈی جی پی کا حکمنامہ
لکھنو ، 6 جون (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش پولیس نے آج واضح انتباہ دیا کہ جو بھی گاؤ ذبیحہ اور دودھ دینے والے جانوروں کی غیرقانونی منتقلی میں ملوث پائے جائیں انھیں سخت قانون قومی سلامتی (این ایس اے) اور گینگسٹرس ایکٹ کے تحت مقدمہ میں پھانسا جائے گا۔ یہ ہادیت تمام ڈسٹرکٹ پولیس سربراہان کو ریاستی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سلکھن سنگھ کی جانب سے مطلع کردیا گیا ہے۔ گائے کے ذبیحہ اور دودھ دینے والے جانوروں کی غیرقانونی منتقلی پر امتناع کیلئے ایک گورنمنٹ آرڈر (جی او) سابقہ اکھلیش یادو حکومت کے دوران جاری کیا گیا تھا لیکن اس پر کبھی سختی سے عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ ڈی جی پی کے احکام میں کہا گیا کہ این ایس اے اور گینگسٹرس ایکٹ ان تمام کے خلاف لاگو کئے جائیں گے جو گاؤ کشی اور دودھ دینے والے جانوروں کی ذبیحہ کیلئے غیرقانونی منتقلی میں ملوث پائے جائیں۔ این ایس اے کے تحت حکومت کسی شخص کو جتنا بھی مناسب سمجھے اتنی مدت تک محروس کرسکتی ہے اور حکام کو حراست کی وجوہات کا افشاء کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گینگسٹرس ایکٹ کے دفعہ کے تحت مقدمہ والا شخص پولیس ریکارڈز میں موجود گینگ کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس سے پولیس کو اختیار مل جاتا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت ماخوذ کئے جانے والوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے اور انھیں مقامی پولیس اسٹیشن میں پوچھ تاچھ کے سلسلے میں حاضری کیلئے سمن جاری کرے، بھلے ہی ان کے خلاف کوئی تازہ کیس درج نہ کیا گیا ہو۔

یہ ایکٹ پولیس کو اجازت دیتا ہے کہ ملزم کا زیادہ سے زیادہ 60 یوم کیلئے ریمانڈ چاہیں ، جو عام حالات میں زیادہ سے زیادہ 14 یوم کا ریمانڈ ہوسکتا ہے۔ ڈی جی پی نے تمام اضلاع کے ایس ایس پیز اور ایس پیز کو یہ ہدایت بھی دی کہ گاؤرکھشا کے نام پر ’’گاؤ غنڈہ عناصر‘‘ کی غیرقانونی سرگرمیوں ، ضابطہ اخلاق، مذہبی تبدیلی یا دودھ دینے والے جانوروں کی غیرقانونی منتقلی پر ’’مؤثر انداز میں کنٹرول‘‘ کریں۔ سلکھن سنگھ نے عہدیداروں سے کہا کہ غنڈہ عناصر جب قانون کی خلاف ورزی کریں تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج رجسٹر کریں اور انٹلیجنس نٹ ورکس کی مدد کے ساتھ شناخت کے بعد ان کے بارے میں معلومات اکٹھا کئے جائیں۔ ایسے لوگوں؍ تنظیموں کو اچھی طرح بتا دینا چاہئے کہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے انھیں کوئی غیرقانونی حرکت کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ ہدایت ایسے واقعات کے پس منظر میں ہے جن میں ’’گاؤ دہشت گرد‘‘ یا اس طرح کی تنظیمیں جہاں کہیں کوئی گاؤذبیحہ پیش آئے وہاں پہنچ کر ٹریفک جام کا سبب بنے، لوگوں کو مار پیٹ کی اور آتشزنی میں ملوث ہوئے ہیں۔ اسی طرح کے واقعات دودھ دینے والے جانوروں کی غیرقانونی منتقلی کے تعلق سے بھی پیش آئے جن میں ’’گاؤ دہشت گردوں‘‘ نے گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور ڈرائیور کو بہت مارا پیٹا۔ ڈی جی پی نے ہدایات دیئے ہیں کہ پولیس اسٹیشن انچارجس اس طرح کی غیرقانونی منتقلی پر چوکس رہیں اور اپنے انٹلیجنس نٹ ورکس کو بہتر بنائیں۔ یہ حکمنامہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کہ مرکز کے اعلامیہ پر گرماگرم مباحث چل رہے ہیں، جس نے ذبیحہ کیلئے مویشیوں کی بازاروں اور منڈیوں میں فروخت پر امتناع عائد کیا ہے۔ یہ اعلامیہ پر مختلف گوشوں سے احتجاج ہونے لگے ہیں، جن میں حکومت کیرالا اور میگھالیہ میں بعض بی جے پی قائدین شامل ہیں۔ مدراس ہائی کورٹ نے 30 مئی کو اس اعلامیہ پر چار ہفتے کیلئے حکم التواء جاری کیا۔

TOPPOPULARRECENT