Thursday , September 21 2017
Home / مضامین / اترپردیش کے انتخابات ملک کے مستقبل کیلئے اہم

اترپردیش کے انتخابات ملک کے مستقبل کیلئے اہم

خلیل قادری
ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات کیلئے شیڈول جاری کردیا گیا ہے ۔ عملا انتخابی بگل بجادیا گیا ہے اور ہر سیاسی جماعت اپنے طور پر اس کی تیاریوں میں جٹ گئی ہے ۔ ملک میں اترپردیش کے ساتھ پنجاب ‘ گوا ‘ منی پور اور اترکھنڈ میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام ریاستوں کیلئے شیڈول کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ ان سب ریاستوں میں انتہائی اہمیت کی حامل ریاست اتر پردیش ہے ۔ سیاسی اعتبار سے یہ ملک کی انتہائی حساس ریاست رہی ہے ۔ اس کو ملک کی سب سے بڑی ریاست ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔ ہندوستان کی کئی سیاسی جماعتوں کو اسی ریاست نے عروج سے نوازا ہے اور یہیں سے ان جماعتوں کا زوال بھی ہوا ہے ۔ آج بی جے پی کو ملک میں اقتدار حاصل ہے ۔ وہ مرکز میں حکمران بن گئی ہے ۔ اس جماعت کو بھی اتر پردیش نے عروج بخشا ہے ۔ اسی ریاست میں پارٹی نے پہلے قدم جمائے ۔ یہاں فرقہ پرستی کو ہوا دی گئی ۔ یہیں سے مندر مسجد مسئلہ کو سلگتا ہوا موضوع بنایا گیا اور اسی کا سہارا لیتے ہوئے بی جے پی نے سیاسی استحکام حاصل کیا ۔ اس ریاست میں بی جے پی سے پہلے جنتادل کو سیاسی استحکام اور عروج حاصل ہوا تھا ۔ جنتادل کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد سماجوادی پارٹی نے ریاست میں اپنا مقام بنایا اور پھر بہوجن سماج پارٹی نے بھی اسی ریاست کو اپنے عروج کیلئے منتخب کیا تھا ۔ جب یہ جماعتیں اترپردیش میں سیاسی استحکام حاصل کر رہی تھیں تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر کانگریس پارٹی کا عوامی مقبولیت کا گراف ریاست میں بڑی تیزی سے نیچے آتا گیا اور پارٹی یہاں اپنے اقتدار کے بعد اپنی اہمیت اور سیاسی ساکھ سے بھی محروم ہوگئی تھی ۔ ملک میں علاقائی جماعتوں کے فروغ کے رجحان کے نتیجہ میں بی جے پی کو اتر پردیش میں قدرے مشکلات پیش آئیں۔ وہ اقتدار سے محروم ہوگئی تاہم اس نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں مودی کی لہر کی وجہ سے یہاں کثیر تعداد میں لوک سبھا کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔ پارٹی کو اب بھی امید ہے کہ اسی طرح سے اسمبلی انتخابات میں بھی کامیابی حاصل ہوگی ۔ ریاست میں سماجوادی پارٹی اپنے داخلی خلفشار کے باوجود ایک طاقت ہے اور وہ یہاں اپنا اقتدار بچانے کی تگ و دو میں جٹی ہوی ہے ۔ بہوجن سماج پارٹی اپنا اقتدار دوبارہ حاصل کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہے تو کانگریس پارٹی بھی ریاست میں اپنے وجود کا احساس دلانے اور کھوئے ہوئے وقار کو کچھ حد تک بحال کرنے کی کوشش میں جٹ گئی ہے ۔ ان ساری کوششوں اور سیاسی جماعتوں کی بھاگ دوڑ سے جہاں اس ریاست کی سیاسی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کو اس بارکے اسمبلی انتخابات کی اہمیت کا بھی احساس ہے ۔ اس بار جو اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں وہ اس لئے اہمیت کے حامل ہیں کہ ان کے نتائج سے ملک کے مستقبل کو وابستہ کیا جا رہا ہے ۔ یہاں جو نتائج آئیں گے وہ ملک کے مستقبل کا تعین کرسکتے ہیں۔ ایسے میں ریاست کے رائے دہندوں کے شعور کا امتحان ہوگا ۔ یہ کہنا مشکل ہوگا کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ پاتے ہیں یا نہیں ۔ رائے دہندوں کو ابھی بھلے ان انتخابات کی اور اپنے ووٹ کی اہمیت کا اندازہ ہو یا نہ ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتوں کو ضرور اس کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا ہے ۔
بی جے پی کو یہ اندازہ ہے کہ اس کا جو پوشیدہ ایجنڈہ ہے اس کی تکمیل کیلئے اسے اترپردیش جیسی ریاست میں اقتدار حاصل کرنا ضروری ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ پارٹی کافی وقت سے یہاں انتخابی تیاریوں میں جٹ گئی ہے ۔ خاص طور پر پارٹی صدر امیت شاہ انتخابات کیلئے پارٹی کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہوگئے تھے ۔ پارٹی کی حکمت عملی بھلے ہی کچھ ہو لیکن یہ اشارے ضرور مل رہے ہیں کہ ریاست میں اس کا سفر اور اس کیلئے اپنے مقصد کا حصول آسان نہیں ہوگا ۔ اس بات کا اندازہ شائد پارٹی کے قائدین کو بھی ہے اسی لئے وہ اوور  ٹائم کرتے ہوئے نہ صرف رائے دہندوں کو اپنے حق میں کرنے میں جٹ گئے ہیں بلکہ وہ سیاسی توڑ جوڑ میں بھی مصروف ہوگئے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ رائے تقویت پاتی جا رہی ہے کہ سماجوادی پارٹی میں جو خلفشار پیدا ہوا ہے وہ خود بی جے پی کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے ۔ سماجوادی پارٹی میں امر سنگھ کا داخلہ خود اسی وجہ سے کروایا گیا تھا کہ وہ پارٹی میں پھوٹ جیسے حالات پیدا کردیں۔ سماجوادی پارٹی کے کچھ حلقے دبے دبے الفاظ میں کہنے لگے ہیں کہ امر سنگھ پارٹی میں امیت شاہ کی ایما پر واپس ہوئے ہیں اور انہیں کی ایما پر اکھیلیش سنگھ اور ملائم سنگھ کو انہوں نے آمنے سامنے لا کھڑا کردیا ہے ۔ ویسے تو یہ تاثر عام ہی ہے کہ امر سنگھ توڑ جوڑ میں مہارت رکھتے ہیںاور جہاں وہ جاتے ہیں وہاں سیاسی بھونچال ضرور لاتے ہیں اور یہی حال سماجوادی پارٹی کا بھی ہوگیا ہے ۔ جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے وہ ابھی بھی صرف مودی کی لہر پر انحصار کرتی دکھائی دے رہی ہے ۔ اس نے یہ واضح کردیا ہے کہ ریاست میں کسی وزارت اعلی امیدوار کا اعلان نہیں کیا جائیگا ۔ اس کا یہی مطلب نکلتا ہے کہ پارٹی اترپردیش کی اسمبلی میں بھی مودی کی لہر کے ذریعہ اقتدار چاہتی ہے ۔ اس کے پاس ترقیاتی منصوبہ یا کوئی ایجنڈہ یا منشور نظر نہیں آتا ۔ وہ ریاست میں ایک بار پھر فرقہ پرستی اور تقسیم پسندانہ پالیسیوں کے ساتھ میدان میں اترنے کے منصوبے بنا رہی ہے ۔ جہاں تک بہوجن سماج پارٹی کا سوال ہے وہ اپنے بل پر انتخابی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہے ۔ پارٹی کی سربراہ مایاوتی تنہا اس مقابلہ کیلئے تیار ہو رہی ہیں ۔ ان کی پارٹی میں حالانکہ دوسرے درجہ کے قائدین کی کمی نہیں ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ پارٹی میں مایاوتی کے بعد کوئی دوسرا قد آور لیڈر بھی دکھائی نہیں دیتا اور نہ کوئی ایسا لیڈر موجود ہے جو عوام کو ایک پرچم تلے جمع کرنے میں کامیاب حاصل کرسکے ۔ کانگریس پارٹی ریاست میں اپنی ساکھ کو بحال کرنے اور اپنے سیاسی وجود کا احساس دلانے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ اس نے اپنے لئے ایک حکمت عملی تیار کی ہے اور اسی کے تحت شیلا ڈکشت کو وزارت اعلی امیدوار نامزد کیا ہے ۔ حالانکہ ریاست میں پارٹی کا اقتدار حاصل کرنا تقریبا نا ممکن ہے لیکن اس نے ایک جامع منصوبے کے تحت ایسا کیا ہے اور اس کا مقصد انتخابات میں اس تعلق سے بی جے پی سے سوال کرنا ہے ۔
جو صورتحال فی الحال اترپردیش کا سیاسی منظر نامہ پیش کرتا ہے وہ گنجلک ہے ۔ اس میں ابھی کوئی واضح رائے کا ابھرنا ممکن نظر نہیں آتا لیکن ایک پہلو پر توجہ دلانے کی ضرورت ہے کہ ریاست میں رائے دہندوں کو اپنے سیاسی شعور کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ریاست کے خاص طور پر مسلمان رائے دہندوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کا ووٹ تقسیم نہ ہونے پائے اور نہ ضائع ہوجائے ۔ انہیں اولین مقصد یہ بنانا چاہئے کہ ریاست میں فرقہ پرستوں کو اقتدار حاصل نہ ہوجائے ۔ بی جے پی کو اقتدار حاصل کرنے سے روکنے کیلئے مسلمان رائے دہندوں کو اپنے سیاسی شعور کے ساتھ ووٹ استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ بی جے پی کا جو پوشیدہ ایجنڈہ ہے وہ اسی وقت پورا کیا جاسکتا ہے جب اتر پردیش جیسی ریاست میں بھی بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوجائے ۔ رائے دہندوں کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ جب بہار میں بی جے پی کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اس وقت اس کے ایجنڈہ کو پس پشت ڈال دیا گیا تھا ۔ تاہم آسام کی کامیابی اور دوسری ریاستوں کے ضمنی انتخابات میں کامیابی نے اس کے حوصلے بلند کردئے ہیں۔ اگر اسے اترپردیش میں بھی اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو فرقہ واریت کا ایجنڈہ کھلے عام پورا کرنے کی کوششیں شروع ہوجائیں گی ۔ اس ملک کی دو بڑی آبادیوں میں تفرقہ پیدا کیا جائیگا ۔ سماجی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرکے رکھ دیا جائیگا اور پھر نراج کی کیفیت پیدا ہوجائیگی ۔ اس ساری صورتحال سے کو دیکھتے ہوئے اترپردیش میں رائے دہندوں کو اپنے سیاسی شعور کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اپنے ووٹ سے وہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرسکتے ہیں اور ایسا کرنے کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے ۔ ہندوستان کو مختلف مذاہب کے ماننے والوں اور بے شمار بولیاں بولنے والوں کا گلدستہ بنائے رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ملک کی اس بڑی اور سیاسی اعتبار سے انتہائی حساس ریاست میں فرقہ پرستوں کو اقتدار حاصل کرنے سے روکا جائے ۔ رائے دہندوں کے پاس ابھی وقت ہے اور اس وقت میں وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرسکتے ہیں۔ وقت گذرجانے کے بعد کف افسوس ملنے سے حالات میں بہتری پیدا نہیں ہوسکتی ۔ اس بات کا احساس ریاست کے تمام رائے دہندوں کو کرنے کی ضرورت ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT