Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / اترپردیش کے انتخابات میں مسلمانوں کا بادشاہ گر کا رول

اترپردیش کے انتخابات میں مسلمانوں کا بادشاہ گر کا رول

سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی میں داخلی خلفشار سے کانگریس ہی امید کی کرن
لکھنؤ ۔26اکٹوبر(سیاست نیوز) ہندستان کے خمیر میں موجود فرقہ وارانہ ہم آہنگی اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار سے دور رکھے گی اور بہار انتخابات سے قبل ’عدم برداشت‘ کی جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس صورتحال کا اعدہ بھی ممکن ہے۔ بی جے پی نے نوشتہ ٔ دیوار پڑھتے ہوئے حالات کو مزید گنجلک بنانے کی کوشش شروع کردی ہے اور ہر محاذ پر سیکولر قوتوں کو منقسم کرنے کی سازش میں مصروف ہے لیکن کانگریس اس صورتحال کا خاموشی کے ساتھ جائزہ لیتے ہوئے پارٹی کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے اور سمجھا جا رہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سازشوں کا مؤثر جواب اترپردیش میں صرف کانگریس ہی دے پائے گی کیونکہ بی جے پی کانگریس کو نشانہ بنانے کیلئے صرف راہول گاندھی پر تنقید پر اکتفاء کرنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو سی بی آئی کے استعمال کے ذریعہ خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اترپردیش میں باربار ملائم سنگھ یادو کو اس بات کی وضاحت کرنی پڑ رہی ہے کہ ان کی پارٹی میں ’آل از ویل‘ ہے لیکن حقائق کچھ اور ہی ہیں اسی طرح بہوجن سماج پارٹی کے داخلی اختلافات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے ہیں لیکن وہ بھی حالات سے مطمئن نہیں ہے۔ ان دونوں سیاسی جماعتوں کا انحصار 22فیصد دلت اور 18فیصد مسلم ووٹ پر ہے اور اعلی ذات کے رائے دہندے جو سیکولر فکر کے حامل ہیں ان کا بھی بڑا حصہ ان دونوں سیاسی جماعتوں کے حصہ میں آیا کرتا تھا۔ کانگریس قومی سیاسی جماعت ہونے کے سبب انتخابات میں اتر پردیش کے رائے دہندوں میں قابل اثر فیصد رکھتی ہے لیکن اس کے باوجود اقتدار حاصل کرنے کے متعلق ایس اور بی ایس پی کے سبب سونچ نہیں سکتی لیکن اس مرتبہ دونوں سیاسی جماعتوں کے جو حالات ہیں ان میں کانگریس کو زبردست فائدہ حاصل ہو سکتا ہے

کیونکہ کانگریس نے اترپردیش انتخابات کے لئے جو حکمت عملی تیار کی ہے اس وہ بڑی حد تک مسلم اور دلت طبقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ دلت۔مسلم اتحاد جو اب تک بی ایس پی یا ایس پی کے ساتھ ہوا کرتا تھا وہ اب اس مخمصہ ہے کہ ریاست میں سیکولر طاقت کے استحکام کیلئے کس کی تائید کی جائے کیونکہ سماج وادی پارٹی میں خاندانی اختلافات اور بہوجن سماج پارٹی میں متبادل کا جھگڑا عروج پر ہے ایسی صورت میں دلت ۔مسلم ووٹ بالخصوص مسلم ووٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہوچکا ہے جسے تقسیم سے بچانے کیلئے اترپعدیش کی مذہبی و سیاسی تنظیموں کے علاوہ قومی سطح پر مسلمانوں کی سیاسی رہبری کرنے والی تنظیمیں سرگرم عمل ہو چکی ہیں اور ان تنظیموں کے ذمہ داران کا احساس ہے کہ ریاست میں سیکولر طاقت کو مستحکم کرنے کیلئے صرف کانگریس کے ساتھ جانا ہی حل ہوگا بصورت دیگر مسلم و دلت ووق انتشار کا شکار ہوتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں

۔بہار انتخابات کے دوران بی جے پی کی سازشیں ناکام ہونے کے سبب بھارتیہ جنتا پارٹی نے عوام کو الجھانے کیلئے ہر محاذ کھول دیا ہے اور ہر قیمت پر اترپردیش کا اقتدار حاصل کرنے کی فراق میں ہے۔ مظفر نگر فسادات‘ اخلاق کی موت‘ طلاق ثلاثہ کے علاوہ کئی موضوعات جیسے سرحد پر کشیدگی کے مسائل کو بھی اٹھایا جانے لگا ہے لیکن بی جے پی بنیادی مسائل کے بارے میں کوئی سنجیدہ مسئلہ پر بات کرنے تیار نہیں ہے ۔ ریاست اترپردیش کی تقسیم کا مسئلہ عرصہ ٔ دراز سے زیر التواء ہے لیکن اس مسئلہ پر بی جے پی خاموش ہے ریاست کی پسماندگی اور عوام کی دیگر ریاستوں کو منتقلی کے مسئلہ پر بی جے پی کی خاموشی کو بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ مہاراشٹرا میں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے وہا ں شیوسینک اور ایم این ایس کارکنوں کی جانب سے اترپردیش کے عوام کی پٹائے کے واقعات پر بی جے پی کچھ بھی کہنے سے قاصر ہے اور کانگریس ان تمام امور کا احاطہ کرنے میں مصروف ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی سماج وادی پارٹی میں پھوٹ ڈالتے ہوئے یہ تصور کر ہی ہے کہ اپنے قریبی حریف کی طاقت کو کمزور کردیا ہے لیکن اترپردیش کے سیاسی مبصرین جو زمینی حقائق سے واقف ہیں

ان کا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے سماج وادی پارٹی میں اختلافات پیدا کرتے ہوئے کانگریس کو ریاست میں مستحکم ہونے کا موقع فراہم کیا ہے اور اترپردیش کے عوام کو سماج وادی اور بہوجن سماج کے علاوہ تیسرے متبادل پر غور کرنے کی راہ دکھائی ہے۔اب کانگریس کی یہ ذمہ داری ہے کہ جو دلت۔مسلم ان دونوں سیاسی جماعتوں کے رویہ سے خوش نہیں ہیں انہیں اپنے قریب کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے کے ساتھ ملک کی سب سے بڑی ریاست پر اپنے اقتدار کو یقینی بناتے ہوئے فرقہ پرستوں کی سازشوں سے نقاب ہٹانے کا عمل شروع کرے تاکہ عوام کو نہ صرف کانگریس کے قریب ہونے کا جواز میسر آئے بلکہ انہیں اس حقیقت سے بھی آگاہ کروایا جائے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کن بنیادوں اور حکمت عملی پر 285+کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے خاندانی اختلافات منظر عام پر آنے کے بعد نیتا جی اور ملائم کی ساکھ متاثر ہوئی ہے وہیں چیف منسٹر اکھلیش یادو اور رکن راجیہ سبھا رام گوپال یادو کے کردار بھی متاثر ہوئے ہیں امر سنگھ جو کہ اترپردیش ہی نہیں ملک کی سیاست میں کئی مرتبہ اہم کردار ادا کرچکے ہیں ان کا موقف بھی اب پہلے کی طرح نہیں رہا اور بہوجن سماج ’بہن جی ‘ کے متبادل کے متعلقغور بھی نہیں کرنا چاہتے جبکہ نئی نسل اس مسئلہ کو اٹھانے لگی ہے۔ ان حالات سے کانگریس کو زبردست فائدہ حاصل ہونے کے امکان ہیں لیکن صرف اسی صورت میں جب مسلم ووٹ منقسم نہ ہوں۔

TOPPOPULARRECENT