Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / اترپردیش کے ایک گاؤں میں پہلے مسلم پردھان کا انتخاب، ہندوؤں میں خوشی

اترپردیش کے ایک گاؤں میں پہلے مسلم پردھان کا انتخاب، ہندوؤں میں خوشی

مظفر نگر 22 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چھوٹی چھوٹی باتوں پر مذہبی تشدد اور بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے درمیان اترپردیش کے ایک گاؤں میں فرقہ وارانہ اتحاد کی ایک بہترین مثال قائم ہوئی ہے۔ مغربی اترپردیش کے مظفر نگر کے جانسٹھ تھانہ علاقہ کے تسنگ گاؤں کے لوگوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال پیش کی ہے۔ یہاں آزادی کے بعد پہلی بار کوئی اقلیتی سماج (مسلمان) سے گرام پردھان منتخب کیا گیا۔ ہندو اکثریتی آبادی والے اس گاؤں کے لوگوں نے ایک مسلمان چودھری خلیل کو اپنا پردھان منتخب کیا ہے۔ خلیل کی کامیابی کے بعد خوشی میں ایک برہمن نوجوان نے پورے گاؤں کا لیٹ کر طواف کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خلیل کے مقابلے میں تین ہندو امیدوار تھے۔ ہندو مسلم مخلوط آبادی والے اس گاؤں میں 7700 ووٹر ہیں۔ اس میں مسلم ووٹروں کی تعداد تقریباً 1900 ہے۔ 1947 ء کے بعد سے گاؤں کی سرکار اکثریتی معاشرے کے ہاتھوں میں چلی آرہی تھی۔ اس بار پردھان کے انتخابات میں گاؤں کے چھوٹے سے کسان چودھری خلیل کو فتح ملی۔ چودھری خلیل کو 1527 ووٹ ملے اور انھوں نے 197 ووٹ سے اکثریتی معاشرے کے امیدوار کو شکست دی۔ چودھری خلیل نے منتخب ہونے کے بعد گاؤں میں سرو سماج کی چوپال پر ترقی اور باہمی بھائی چارہ کی بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ میں تسنگ گاؤں کا پردھان بنا ہوں۔ ہندو بھائیوں نے مجھے تعاون دیا۔ انہی کے ووٹوں سے کامیاب ہوا ہوں۔ وہیں گاؤں کا طواف کرنے والے مول چند شرما کا کہنا ہے کہ کسی مسلم چہرے کو اس بار پردھان بنانے کے پیچھے ہم آہنگی کا جذبہ تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT