Sunday , September 24 2017
Home / اداریہ / !اترکھنڈ میں بھی صدر راج

!اترکھنڈ میں بھی صدر راج

ساری امیدیں ٹوٹ گئیں دل بیٹھ گیا جی چھوٹ گیا
تھک تھک کر اس راہ میں آخر اک اک ساتھی چھوٹ گیا

!اترکھنڈ میں بھی صدر راج
ایسا لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کی تقریبا ہر ریاست میں اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ اس کو ملک میں یا ملک کی کسی بھی ریاست میں اپوزیشن کا وجود برداشت نہیں ہے ۔ شائد یہی طریقہ ہے کہ چند دن قبل اروناچل پردیش میں عوام کی منتخبہ کانگریس حکومت کو بیدخل کردیا گیا اور پھر وہاں پچھلے دروازے کو استعمال کرتے ہوئے بی جے پی نے ریاست میں اپنی حکومت تشکیل دیدی ۔ وہاں اب نئی حکومت کام کر رہی ہے ۔ جب اروناچل پردیش کا مسئلہ ٹھنڈا ہوگیا تو اب اترکھنڈ کو نشانہ بنایا گیا ۔ یہاں بھی کانگریس کے منتخبہ ارکان اسمبلی کو استعمال کرتے ہوئے ہریش راوت حکومت کو بیدخل کرنے کی سازش رچی گئی اور بالآخر ہریش راوت حکومت کو بیدخل کردیا گیا ۔ یہاں صورتحال قدرے مختلف ہے وہ اس لئے کیونکہ ایوان اسمبلی میں ہریش راوت کل اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے والے تھے اور اپنی اکثریت ثابت کرنے والے تھے ۔ ہریش راوت کو ایسا موقع دئے بغیر مرکزی حکومت نے بیدخل کردیا اور وہاں گورنر راج نافذکردیا گیا ۔ آئندہ دنوں کے تعلق سے یہ واضح اشارے موجود ہیں کہ کانگریس کے باغی ارکان اسمبلی کو استعمال کرتے ہوئے یہاں بھی بی جے پی کو اقتدار دلانے کی کوشش کی جائیگی ۔ یہ طریقہ کار ملک کے جمہوری نظام کے ساتھ ایک بدترین مذاق ہے ۔ اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور جو جماعتیں اس طریقہ سے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہیں انہیں مستقل عوام کے ووٹ سے محروم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان کی جمہوریت کو اقتدار کی ہوس میں اور اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے مذاق کا موضوع بنایا جا رہا ہے ۔ ہندوستان کی جمہوریت دنیا بھر میں منفرد سمجھی جاتی تھی اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس کی مثال دی جاتی تھی ۔ تاہم یہاں سیاسی ریشہ دوانیوں کے ذریعہ اس کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور اس کو ہر غیر جمہوری کام کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اترکھنڈ میں ایک دن کا انتظار کرنا گوارا نہیں کیا گیا حالانکہ صرف ایک دن باقی تھا جب ہریش راوت حکومت کو ایوان اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنی تھی ۔ اگر یہ موقع نہیں دیاجانا تھا تو اب تک انتظار کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی اور بہت پہلے اس حکومت کو بیدخل کرکے گورنر راج نافذ کرنا چاہئے تھا ۔
بی جے پی مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے مسلسل مختلف ریاستوں کو نشانہ بناتی آ رہی ہے ۔ بہار اور دہلی میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں اسے کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد سے ایسا لگتا ہے کہ اس نے مختلف ریاستوں میں حکومتیں بنانے کیلئے عوام کی رائے حاصل کرنے کی بجائے پچھلے دروازے کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ اب ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ ٹاملناڈو میں بی جے پی کا موقف کمزور ہے ‘ کیرالا میں بھی وہ اپنے وجود کا احساس دلانے کوشاں ہے ‘پڈوچیری میں اس کو مشکلات کا سامنا ہے ‘ مغربی بنگال میں اس نے فرقہ وارانہ ماحول بگاڑ کر اپنے لئے سیاسی جگہ بنانے کی کوشش کی ہے اور آسام میں بھی اس کیلئے اشارے اچھے نہیں ہیں ۔ ایسے میں وہ چاہتی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو انتخابات سے قبل حوصلہ شکنی کا شکار کردیا جائے ۔ پانچ ریاستوںمیں بی جے پی کیلئے حالات اچھے نہیں ہیں اور اسی کو دیکھتے ہوئے اس نے دوسری ریاستوں میں عوام کی منتخب کردہ حکومتوں کو زوال کا شکار بنانے اور خود اقتدار ہتھیانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اروناچل پردیش میں اس کی یہ کوشش کامیاب رہی اور شائد اسی سے حوصلہ پا کر اس نے اب اترکھنڈ کو نشانہ بنایا ہے ۔ یہاں حکومت کو بیدخل کرنے کے بعد اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا گیا ہے ۔ اسمبلی کی تحلیل سے گریز اس بات کا اشارہ ہے کہ یہاں بھی بی جے پی کانگریس کے باغی اور ناراض ارکان اسمبلی کو لالچ دے کر یا مرکز میں اقتدار کا بیجا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کریگی ۔ یہ طریقہ کار انتہائی مذموم ہے ۔
ریاست میں جو بھی حالات رہے ہیں وہ سارے ملک کے سامنے ہیں۔ ان حالات کے مطابق مرکز کو ایک ذمہ دار وفاقی کردار نبھانے کی ضرورت تھی ۔ ریاستی اسمبلی میں ہریش راوت حکومت کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور ایوان میں طاقت آزمائی سے ایک دن قبل ہی اسے بیدخل کردیا گیا ۔ اپوزیشن ارکان کو لالچ دے کر ان کی تائید حاصل کرنا اورحکومت بنانا اب بی جے پی کیلئے آسان ہوگیا ہے ۔ یہ ایسا طریقہ کار ہے جو ملک کی جمہوریت سے مذاق کے مترادف ہے اور اس سے مرکز میں برسر اقتدار جماعت کو تو کم از کم بچنا چاہئے تھا لیکن یہاں بھی بی جے پی نے تمام اخلاقی حدود کو بالائے طاق رکھ دیا ہے ۔ یہ انتہائی مذموم طریقہ ہے اور اس سے جمہوریت کی اقدار پامال ہوئی ہیں۔ اس کی ذمہ داری جہاں بی جے پی پر عائد ہوتی ہے وہیں مرکزی حکومت بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی ۔

TOPPOPULARRECENT