Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / اتر پردیش کے سرکاری ہاسپٹل میں المناک واقعہ

اتر پردیش کے سرکاری ہاسپٹل میں المناک واقعہ

رشوت نہ دینے پر غلط انجکشن دینے سے بچہ فوت
بہرائچ ( اتر پردیش ) /11اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) سرکاری ہاسپٹل میں ایک 10ماہ کے بچہ کا بروقت علاج نہ کرنے سے فوت ہوگیا کیونکہ اس کے والدین اسٹاف کو رشوت دینے سے قاصر تھے۔ صدمہ انگیز واقعہ پر وزیر صحت نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ شیر خوار بچہ کا والد شیودت جو کہ یومیہ اجرت پر کام کرتا ہے الزام عائد کیا ہے کہ ہاسپٹل کے اسٹاف نے رشوت نہ دینے پر بچہ کے الزام میں عمداً تاخیر کی جس کے نتیجہ میں وہ فوت ہوگیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ رشوت نہ دینے پر غصہ کی حالت میں ایک نرس نے بچہ کو غلط انجکشن دے دیا تھا۔ یہ واقعہ ضلع ہاسپٹل میں 9اگسٹ کی صبح پیش آیا۔ اطلاع ملتے ہی ریاستی وزیر صحت ایس پی یادو نے ضلع مجسٹریٹ کو واقعہ کی تحقیقات اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ شیودت نے بتایا کہ ان کے بچہ کو شدید بخار کی حالت میں 7اگسٹ کو ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا اور بچوں کے وارڈ میں ایک بیڈ حاصل کرنے کیلئے نرس کو 100روپئے اور جاروب کش کو 30روپئے رشوت دی گئی لیکن ہاسپٹل میں شریک کروانے کے بعد ایک نرس نے مزید رشوت طلب کی جس کی تکمیل نہ کرنے پر عمداً غلط انجکشن دینے سے بچہ فوت ہوگیا۔

TOPPOPULARRECENT