Monday , September 25 2017
Home / تفریح / اجئے دیوگن

اجئے دیوگن

اجئے دیوگن ابتداء ہی سے ایک الگ ایکٹنگ اسٹائل کے لئے مشہور ہیں ایک طرف انہوں نے مضبوط رف اینڈئف ہیرو والے کردار نبھائے تو دوسری طرف گمبھیر اور سنجیدہ قسم کے کرداروں میں بھی نظر آئے جب سے انہوں نے کامیڈی اور سنجیدہ فلمیں کرنی شروع کی ہیں۔ تب سے ان کا ایکشن ہیرو والا عکس کہیں کھوتا گیا ہے اس بات کو شاید اجئے بھی محسوس کررہے ہیں۔ تبھی تو انہوں نے سوپر ہٹ ایکشن فلم سنگھم کی لیکن وہ پھر بھی دوسرے موضوعات کی فلمیں بھی کررہے ہیں۔ پچھلے ہفتہ ان کی فلم شیوائے ریلیز ہوئی ہے جسے پسند تو کیا جارہا ہے لیکن اس سے زیادہ توقعات نہیں رکھی جاسکتیں۔ پھر بھی یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس فلم نے اپنے نشانہ کے قریب تک پہنچ لگالی ہے۔ آئیے ملتے ہیں پھول اور کانٹے سے اپنے فلمی کیریئر کی شروعات کرنے والے اداکار اجئے دیوگن سے۔
س : لگاتار کامیڈی اور دوسرے موضوعات کی فلمیں کرنے سے آپ نے ایکشن ہیرو کی امیج کے کھو جانے کے خطرہ کو بھانپ کر پھر سے ایکشن کی طرف واپسی تو نہیں کی؟
ج :  نہیں ایسا بالکل نہیں ہے ویسے میں ڈرنے والا ایکٹر نہیں ہوں میں پردے پر کردار کو زندگی دینے کی صلاحیت اور حوصلہ رکھتا ہوں، میں نے ایکشن کے ساتھ رومانٹک، اموشنل کامک اور گرے شیڈ کردار بھی خوب نبھائے ہیں۔ دراصل ایک اداکار ہونے کے ناطے اس بارے میں یہی کہنا چاہوں گا کہ میرے پاس جو اچھا کام آئے گا میں اسے ہی کرنا چاہوں گا۔
س :  آپ نے کامیڈی فلموں میں بھی اپنی زبردست چھاپ چھوڑی ہے کیا کہیں گے؟
ج : اس کا کوئی راز نہیں ہے سچ کہوں تو ابتداء میں مجھے کامیڈی کرنے میں تھوڑی شرم محسوس ہو رہی تھی، لیکن گول مال نے میری پوری جھجھک ختم کردی۔ فی الحال میں کامیڈی کو کافی انجوائے کررہا ہوں ابھی بھی میرے پاس کئی کامیڈی فلموں کے آفرز ہیں۔
س :  شیوائے سے لگائی گئی امیدیں آپ کو پوری ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں؟
ج :  کبھی ہم سوچتے کچھ ہیں اور ہو کچھ اور جاتا ہے لوگ شیوائے کو پسند کررہے ہیں۔ عید اور تہوار کے موقع ہے لوگ مصروف ہیں۔ دھیرے دھیرے کلکشن میں بھی فرق واقع ہوگا۔ ویسے فلموں کا چلنا نہ چلنا عوام کے فیصلہ پر ہوتا ہے۔ کامیابی کا نہ کوئی فارمولہ ہوتا ہے نہ کوئی اس ٹھوس امید پر فلم بنا سکتا ہے کہ اس کی فلم کو کسی بھی حال کامیابی حاصل کرنی ہے لیکن جیسا سوچا جاتا ہے کبھی کبھی ویسا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جس کے بارے میں سوچا نہیں جاتا وہ ہو جاتا ہے۔
س :  آپ اپنے اب تک کے کیریئر کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ج :  بالی ووڈ میں میرا بہت ہی شاندار اور دلچسپ سفر رہا ہے۔ لوگوں نے مجھے اس انڈسٹری کے لئے ایک بہترین ایکٹر کے طور پر کافی پسند کیا ہے۔ عزت دی ہے ویسے میں اپنے کام کا ڈھول نہیں پیٹتا لیکن اس کے باوجود آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں محسوس کرتا ہوں کہ میں نے جو کچھ پایا ہے وہ اپنی شرطوں پر کام کرکے پایا ہے اس لئے میں اپنے کیریئر سے بے حد مطمئن ہوں۔
س :  کامیاب ادا کار اور ہٹ فلمیں دینے کے باوجود آپ کے پاس کم فلمیں کیوں ہیں؟
ج : میں فلموں کی بڑی تعداد میں بالکل یقین نہیں کرتا بلکہ فلموں کی کوالٹی میں یقین رکھتا ہوں کہانی اور کردار پر خاص دھیان دیتا ہوں سب طرح سے پسند آجائے تبھی وہ فلم سائن کرتا ہوں۔
س :  بالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں آپ اپنے آپ کو کس مقام پر محسوس کرتے ہیں؟
ج : میں لوگوں کے دلوں میں رہنا پسند کرتا ہوں میں کسی سے کوئی مقابلہ نہیں کرتا۔ 1991ء سے آج تک یعنی 25 سالوں کے کیریئر میں سب سے زیادہ فلمیں کی ہیں اور کئی ایوارڈز بھی حاصل کئے اور باکس آفس پر بھی میری فلموں نے خوب کمائی کی ہے۔ بڑے بینرس اور بڑے پروڈیوسرس، ڈائرکٹرس آج بھی میرے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں نے مجھے نگیٹیو یا بغاوتی کرداروں میں بھی پسند کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ریئل ہیرو ویلن نہیں ہوتا بس مجھے ایسی ہی پہچان پسند ہے مجھے اس سے زیادہ اور کیا چاہئے نہ ہی میں ایوارڈز کی چاہ رکھتا ہوں۔ اور نہ ہی نمبر ون کی دوڑ میں دوڑنا چاہتا ہوں اور نہ کسی سے اپنا تقابل کرنا چاہتا ہوں۔
س : عمر اور کیریئر کے اس موڑ پر آپ کس ہیروئین کے ساتھ کام کرنا پسند کرتے ہیں؟
ج :  میں نے ٹاپ کی تقریباً ہر ہیروئین کے ساتھ فلمیں کی ہیں اور سبھی کے ساتھ میری اچھی کیمسٹری رہی ہے۔ 25 سال پرانی ہیروئینوں کے بعد اب آج کی نئی لڑکیوں کے ساتھ بھی کام کررہا ہوں۔ سچ کہوں تو مجھے اپنی بیوی کاجول کے ساتھ ہی کام کرنے میں مزہ آتا ہے اور اپنے آپ کو فری محسوس کرتا ہوں۔
س :  کونسے ستارے آپ کے آئیڈیل رہے ہیں؟
ج : دلیپ کمار صاحب ان کے ساتھ ساتھ میں سنیل دت جی کا بھی فین ہوں۔ مجھے جینے دو، ریشما اور شیرا، شبنم، میرا سایہ، وقت ، سجاتا وغیرہ تقریباً سبھی فلموں کے سی ڈیز میرے پاس موجود ہیں۔ اکثر انہیں میں بار بار دیکھتا رہتا ہوں۔ یہ ہماری شان ہیں۔ ہمیں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں ملا لیکن ان کی چھوڑی ہوئی یادوں سے کچھ سیکھنے کا موقع تو مل رہا ہے۔
س :  کوئی ایسا کردار جو آپ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں؟
ج :  بہت سے کردار ہے کبھی کبھی سوچتا ہوں مغل اعظم میں دلیپ صاحب نے جو سلیم کا کردار کیا میں ادا کروں تو کیسا رہے گا، لیکن ایسے کردار آج لکھے اور دیکھے کہاں جارہے ہیں۔ اب تو صرف کام چلاؤ فلمیں بن رہی ہیں اور لوگ تفریح کی خاطر انہیں دیکھ بھی رہے ہیں۔
س :  کیا آپ اپنے بچوں کو بھی فلموں میں لانا چاہتے ہیں؟
ج :  میں کون ہوں جو انہیں یہاں لاوں وہ جو چاہے کرسکتے ہیں اس کے لئے ابھی بہت وقت ہے ویسے فلمی گھرانوں کے بچے فلموں میں ہی اپنا ٹھکانہ اور روزگار تلاش کرتے ہیں۔ میرے پاپا ویرو دیوگن کے بعد جیسے میں نے فلموں میں قدم رکھا اور تنوجہ جی کے پریوار سے کاجول نے فلموں میں داخلہ لیا۔ ویسے ہی ہمارے بچے بھی فلموں میں ہی آسکتے ہیں۔
س :  آج کی فلموں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
ج : یہ کوئی سلور یا گولڈن جوبلی فلمیں نہیں رہیں جب فلمساز اسے بزنس بناچکے ہیں یہاں کامیابی کا ریکارڈ بنانے کوئی نہیں آتا۔ بس یہاں ہر کوئی کمانے آتا ہے اور ایک وقت تک کما کر اپنا الگ راستہ بنا لیتا ہے۔ اب یہ ایک بزنس سے ملی جلی تفریحی دنیا ہے۔ سینکڑوں لوگ یہاں ہر روز اپنی خواہش لے کر آتے ہیں کچھ قسمت بنالیتے ہیں اور کچھ کی تقدیر میں مایوسی آتی ہے۔ یہاں کام حاصل کرنے یا کامیابی پانے کے لئے ٹیلنٹ تو ہونا ہی ہے لیکن قسمت کا ساتھ بھی ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT