Wednesday , May 24 2017
Home / Top Stories / اجتماعی عصمت ریزی کے 4 ملزمین کو سپریم کورٹ میں سزائے موت

اجتماعی عصمت ریزی کے 4 ملزمین کو سپریم کورٹ میں سزائے موت

NEW DELHI, MAY 5 (UNI):-Additional Solicitor General Siddharth Luthra briefing newsmen after the apex court upheld the death sentence of four convicts of Nirbhaya gangrape case,in New Delhi on Friday. UNI PHOTO-60u

تین ججس پر مشتمل بنچ کی جانب سے ہائیکورٹ اور تحت کی عدالت کے فیصلوں کی توثیق، سنگین جرم: عدالت

نئی دہلی 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج 4 عصمت ریزی کے مجرموں کو تحت کی عدالت کی دی ہوئی سزائے موت کی توثیق کردی۔ یہ سنسنی خیز اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کا واقعہ 16 ڈسمبر 2012 ء کو پیش آیا تھا جس کی وجہ سے ملک گیر سطح پر صدمہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔ یہ انتہائی کمیاب واقعہ تھا۔ انتہائی بے رحمانہ بربریت انگیز اور ہولناک حملہ تھا جو ایک 23 سالہ خاتون پر کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ مجرموں نے متاثرہ خاتون کو صرف لذت حاصل کرنے کی شئے کے طور پر استعمال کیا۔ اُن کا واحد مقصد اُس کو اذیت رسانی کے ذریعہ لذت اندوزی تھی۔ 3 ججس پر مشتمل بنچ نے متفقہ فیصلہ میں دہلی ہائیکورٹ کے فیصلہ کی توثیق کردی جس نے تحت کی عدالت کے فیصلے کی توثیق کی تھی۔ 29 سالہ مکیش، 22 سالہ پون، 23 سالہ شرما اور31  سالہ اکشے کمار سنگھ کو پھانسی کی سزا دی جائے گی۔ ایک ملزم رام سنگھ مبینہ طور پر تہاڑ جیل میں خودکشی کرچکا ہے جبکہ ایک مجرم نابالغ ہے جسے 3 سال تک ایک اصلاح گھر میں رکھنے کی سزا دی گئی ہے۔ اپنے فیصلے میں بنچ نے اِن افراد کے ہاتھوں متاثرہ خاتون پر جو مظالم ڈھائے گئے اُن کی گھناؤنی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اجتماعی عصمت ریزی کے بعد مجرموں نے اُس کے جنسی اعضاء میں لوہے کی سلاخ داخل کردی تھی۔ اُسے اور اُس کے دوست کو گاڑی سے باہر ڈھکیل دیا گیا تھا اور کچل دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ عدالت نے اِس واقعہ کو انتہائی بے رحمانہ، بربریت انگیز اور ہولناک حملہ قرار دیا جو متاثرہ خاتون پر کیا گیا تھا۔ جسٹس دیپک مصرا ، جسٹس آر بھانومتی اور جسٹس اشوک بھوشن پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے اپنا فیصلہ طویل سماعت کے بعد 27 مارچ تک محفوظ کردیا تھا۔ جسٹس مصرا نے شخصی طور پر فیصلہ تحریر کیا تھا جبکہ جسٹس بھانومتی نے علیحدہ طور پر اپنا فیصلہ تحریر کیا جس میں ہائیکورٹ کے فیصلے کی تائید کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ غریب پس منظر کے خاندان کی ذہنی تکلیف متاثرہ خاتون کی کمسنی اور مجرمین کے قید خانے میں اچھے رویے، ازدواجی زندگی اور چھوٹے بچوں وغیرہ کو فیصلے کے وقت پیش نظر رکھا گیا تھا۔ جسٹس مصرا نے فیصلہ پڑھ کر سنایا اور کہاکہ اِس مقدمہ نے ملک گیر سطح پر صدمہ کی لہر دوڑادی تھی۔ سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے جس نے عدالت کی بحیثیت قانونی مشیر مدد کی تھی، بنچ سے کہاکہ اِس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ جرم انتہائی حدود سے باہر جاکر کیا گیا ہے کیوں کہ ثبوت ٹھوس نہیں ہیں۔ تاہم یہ کارروائی عمر قید کی متقاضی ہے۔ ایڈوکیٹس اے پی سنگھ اور ایم ایل شرما نے چاروں مجرموں کی پیروی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُنھیں اپنی اصلاح کا ایک موقع دیا جانا چاہئے۔ عدالت کو اُنھیں سزائے موت نہ دینی چاہئے۔ دونوں وکلاء نے گواہوں کے بارے میں بھی اعتراضات کئے اور اُن ثبوتوں پر بھی جو پولیس نے جمع کئے تھے تحت کی عدالت نے سزائے موت 4 مجرموں کو سنائی تھی۔ کلیدی ملزم رام سنگھ مبینہ طور پر تہاڑ جیل میں مارچ 2013 ء میں خودکشی کرچکا ہے۔ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں تبصرہ کیا تھا کہ یہ جرم سنگین ترین جرم ہے اور اُس نے تحت کی عدالت کی جانب سے دی ہوئی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT