Sunday , August 20 2017
Home / سیاسیات / احتجاجی ارکان پارلیمنٹ کو اسپیکر کا انتباہ

احتجاجی ارکان پارلیمنٹ کو اسپیکر کا انتباہ

دوسروں کے حقِ اظہار خیال میں مداخلت پر سخت کارروائی
نئی دہلی۔/8ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) نوٹ بندی کے مسئلہ پر لوک سبھا میں احتجاج کرنے والے اپوزیشن ارکان کو سخت کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے جبکہ کرسی صدارت کی اجازت سے اگر کوئی رکن مخاطب کررہا ہو تو روکنے کی کوشش یا رخنہ اندازی نہ کی جائے۔ یہ انتباہ اسپیکر سمترا مہاجن کی جانب سے اسوقت دیا گیا جب یہ دیکھا گیا کہ ایک رکن کے خطاب میں بار بار مداخلت کی جارہی  ہے جس پر انہوں نے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہے اور تمام ارکان کو ان کی تقریر کی سماعت کرنی چاہیئے بصور ت دیگر سخت کارروائی کیلئے وہ مجبور ہوجائیں گی۔ سمترا مہاجن نے یہ وارننگ گذشتہ دو یوم سے یہ مشاہدہ کے بعدکی کہ بعض ارکان عمداً نوٹ بندی کے مسئلہ پر دوسروں کو اظہار خیال سے با رکھنے کیلئے بیجا مداخلت کررہے ہیں۔ اگر چیکہ بعض ارکان احتجاج اور نعرہ بازی کو اپنا حق جتارہے ہیں لیکن کرسی صدارت نے ایک رکن سے کہا کہ انہیں سماعت کا بھی حق ہے گو کہ اسپیکر نے گذشتہ چند دنوں سے وقفہ صفر کے دوران اپوزیشن لیڈر وں کو بولنے ( خطاب ) کی اجازت دی تھی لیکن انہوں نے آج سخت رویہ اختیار کیا اور کہا کہ اگر وہ مباحث میں حصہ لینے پر آمادہ ہیں تو انہیں اظہار خیال کی اجازت دی جائے گی۔ واضح رہے کہ اسپیکر نے دوشنبہ کے دن تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے رکن اے پی جتیندر ریڈی کو قاعدہ 193 کے تحت نوٹ بندی کے مسئلہ پر بحث کا آغاز کرنے کی ہدایت دی تھی جس میں ووٹنگ کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن ٹی ایم سی ارکان کی جانب سے انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جتندر ریڈی کل بھی تحریری تقریر پڑھنے لگے تو اپوزیشن ارکان بالخصوص ترنمول کانگریس نے ان کی نشست کے قریب پہنچ کر شور شرابہ کیا جس کے نتیجہ میں ان کی آواز معدوم ہوگئی۔ دوسری جانب کانگریس اور دیگر اپوزیشن ارکان ایوان کے وسط میں نعرہ بازی کرتے دیکھے گئے۔

TOPPOPULARRECENT