Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / احتجاج اور خودکشی کیلئے ہمیں مجبور کیا جارہا ہے:کنہیا کمار

احتجاج اور خودکشی کیلئے ہمیں مجبور کیا جارہا ہے:کنہیا کمار

ہمیں ملازمت چاہئے، سمرتی ایرانی سے استعفیٰ اور عمر خالد و انیربن بھٹاچاریہ کی رہائی کا مطالبہ، جے این یو طلبہ کا احتجاج

آر ایس ایس کو چڈی سے نکل کر پتلون پہننے کیلئے کئی سال لگ گئے
چائے والے کے بیٹے نے غریبوں کیلئے اب تک کیا کیا ؟
ڈکٹیٹرشپ آتے ہی پہلا نشانہ تعلیمی ادارے ہوتے ہیں، گجرات کا یو پی میں اعادہ ہونے نہیں دیں گے
کنہیا کمار پر تقریر کے دوران چار مرتبہ حملہ

نئی دہلی ۔ 15 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جے این یو اسٹوڈنٹس یونین صدر کنہیا کمار نے آج طلبہ کے احتجاجی مارچ کی قیادت کی اور اس موقع پر وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی بناء استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ کنہیا کمار اس وقت ملک سے غداری کے مقدمہ میں ضمانت پر ہیں۔ انہوں نے جنتر منتر کے قریب احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمرتی ایرانی ہمیں اپنے بچے کہتی ہیں لیکن انہوں نے کبھی میری یا روہت ویمولا کی ماں سے بات نہیں کی۔ کنہیا کمار نے کہا کہ وہ سمرتی ایرانی کے اس بیان کو مسترد کرتے ہیں اور تعلیمی اداروں کو جس طرح مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے ، ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جے این یو کے طلبہ پی ایچ ڈی اسکالرس عمر خالد اور انیربن بھٹاچاریہ کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے منڈی ہاؤز تا پارلیمنٹ مارچ کر رہے تھے۔ یہ دونوں اس وقت ملک سے غداری کے الزامات پر عدالتی تحویل میں ہے۔ احتجاجیوں کو جنتر منتر کے قریب پولیس نے روک دیا ۔ کنہیا کمار نے کہا کہ سمرتی ایرانی یہ کہتی ہے کہ وہ اسکول کے بچوں کی ماں ہیں، اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے ماتاجی ! کیا آپ نے میری یا روہت ویمولا کی ماں سے بات کرنا مناسب سمجھا؟ کیا آپ نے ان سے ربط قائم کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بچوں نے ہوسکتا ہے کچھ غلط حرکت کی ہو لیکن میں آپ کے ساتھ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ میری ماں کو بھی غدار بنایا جارہا ہے ۔ روہت ویمولا کی ماں کو بھی غدار کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ کنہیا کمار نے کہا کہ آپ آنسو بہا رہی ہیں لیکن تمہارا یہ رونا محض ایک دکھاوا ہے۔ تمہاری ہنسی مصنوعی ہے اور تمہاری تقریر جھوٹی ہے۔

جے این یو اسٹوڈنٹس یونین صدر نے یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرس کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وزیر یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ طالب علم ہے تو صرف تعلیم پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، آپ ایک وزیر ہیں اور آپ ہمارے ساتھیوں کو رہا کیجئے ۔ ہمیں ملازمت فراہم کیجئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے کوئی بھی جنتر منتر آنے یا جیل جانے یا خودکشی کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ آپ ہمیں خودکشی کیلئے مجبور کر رہے ہیں۔ انہوں نے آر ایس ایس پر بھی تنقید کی اور کہا کہ طلبہ اس تنظیم کے خلاف بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ آر ایس ایس کہتی ہے کہ غدار جے این یو میں قیام کر رہے ہیں۔

مودی جی ہم  غدار نہیں۔ ہم آر ایس ایس کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ کنہیا کمار کی تقریر کے دوران مختلف افراد نے چار مرتبہ ان پر حملہ کی کوشش کی لیکن طلبہ اور پولیس نے اسے ناکام بنادیا اور چار افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ اسٹوڈنٹس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ انہیں سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں اور وہ تحریک چلانے کا شوق رکھتے ہیں، وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستگی اختیار نہیں کریں گے اور ہمیشہ تحریک چلاتے ہوئے جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ کنہیا نے کہا کہ آر ایس ایس ہندوستانی تہذیب کا تحفظ نہیں کرسکتی کیونکہ اسے اس بارے میں کوئی پتہ ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، الہ آباد یونیورسٹی میں جو کچھ ہورہا ہے ، وہ جمہوریت پر حملہ ہے اور ہم اسے برداشت نہیں کریں گے ۔

کنہیا نے حملہ کی کوشش کے بعد کہا کہ جب بھی وہ قوم کے بارے میں بات کرتے ہیں تو لوگ انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملک کو دیش بھکتی اور مودی بھکتی میں فرق سمجھنا چاہئے۔ وہ مجھ پر بار بار حملہ کی کوشش کر رہے ہیں لیکن میں ان سے خوفزدہ نہیں۔ گجرات میں جو کچھ ہوا ہم اترپردیش میں ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاجی مارچ جمہوریت کے تحفظ اور سماجی انصاف کو یقینی بنانے کیلئے ہے ۔ اس مارچ کا مقصد عمر خالد یا کنہیا کمار کو بچانا نہیں ہے۔ جب ملک میں ڈکٹیٹرشپ آجاتی ہے تو تعلیمی ادارے سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر آپ جے این یو اور تعلیم کے بارے میں بات کرے تو سمجھ میں آئے گا کہ واقعی کوئی مفید بات ہورہی ہے۔ چند لوگ ایسے ہیں جو افراتفری کا عالم پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم ان سے خوفزدہ نہیں۔ کنہیا کمار کو 3 مارچ کو دہلی ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مخالف قوم نہیں۔ ہم مخالف آر ایس ایس ہیں۔ ہم آپ کی قومیت پسندی سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم خود کو ایک چائے فروخت کرنے والے کا بیٹا کہتے ہیں لیکن انہوں نے غریبوں کیلئے اب تک کیا کیا ؟ جنہیں چڈی سے نکل کر پتلون پہننے کیلئے کئی سال لگ گئے وہ ملک کو اسی طرح تقسیم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر کوئی خواہ وہ اقلیتیں ہوں یا دلت ہندوستان کا حصہ ہیں۔ کنہیا کمار نے کہا کہ ہر شخص جے این یو پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہہ رہا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی رقم سے یہ یونیورسٹی چلائی جاتی ہے لیکن کوئی وجئے ملیا کا ذکر بھی نہیں کرتا جس نے ٹیکس دہندگان کی رقم استعمال کی اور فرار ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس سلسلہ میں کچھ نہیں کیا۔ سی پی آئی کے ڈی راجہ ، سی پی ایم کے سیتارام یچوری بھی احتجاجی مارچ میں شریک تھے اور احتجاجی طلبہ سے یگانگت کا اظہار کیا ۔ مصنفہ و سماجی کارکن اروندھتی رائے نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم انقلابی سیاست کے متمنی ہیں۔ عمر خالد کے ارکان خاندان بھی مارچ میں موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT