Thursday , August 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / احرام کے مسائل شرعیہ

احرام کے مسائل شرعیہ

حضرت علامہ مفتی محمد رحیم الدین رحمہ اللہ

حج کے صحیح ہونے کے لئے احرام شرط ہے، جس کا مقام اہل ہند کے لئے ’’یلملم‘‘ ہے۔ یہ مقام جہاز ہی میں رہنے کی حالت میں ’’کامران‘‘ کے بعد ملتا ہے، اس کے قریب آنے سے پہلے ہی حاجی کے لئے مستحب ہے کہ سر کے سواء باقی اصلاح بنوائے، ناخن ترشوائے، صرف سر نہ منڈوائے۔ اور سنت ہے کہ مسواک کرے اور اچھی طرح مل کر نہائے۔ بچے اور عورتیں بھی نہائیں (اگرچہ یہ عورتیں ایام میں ہوں) یا صرف وضوء ہی کرلیں۔ پھر تیل لگائے، کنگھی کرے۔ جب میقام (مقام احرام) قریب آئے (ہوائی جہاز سے جانے والے حج کیمپ یا طیرانگاہ پر ہی احرام باندھ لیں) تو ایک چادر کو بطور تہبند باندھ لے اور ایک چادر اوڑھ لے۔ یہ دونوں کپڑے پاک ہوں، ان کا سفید اور نیا ہونا افضل ہے۔ سلے ہوئے کپڑے نہ پہنے (مگر عورتیں سلے ہوئے کپڑے پہن سکتی ہیں، البتہ خوشبودار رنگ مثلاً زعفران اور کسم کا رنگ اب عورتوں کے لئے بھی جائز نہیں) بدن پر خوشبو ملے، اس طرح کہ کپڑے پر دھبہ نہ آئے اور دو رکعت نفل نماز (دوگانہ احرام) ادا کرے (لیکن عورتیں ایام میں ہوں تو نماز نہ پڑھیں) اس کے بعد احرام کی نیت کرے۔ اگر قرن (حج و عمرہ دونوں) کے لئے احرام باندھنا منظور ہو تو اس طرح نیت کرے ’’اللّٰھم انی ارید الحج والعمرۃ فیسرھما لی وتقبلھما منی‘‘ ترجمہ: اے اللہ! میں حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتا ہوں، لہذا تو ان دونوں کو میرے لئے آسان کردے اور ان کو میری طرف سے قبول فرما۔ اگر حج تمتع ادا کرنا چاہے تویوں کہے ’’اللّٰھم انی ارید العمرۃ فیسرھا لی وتقبلھا منی‘‘ ترجمہ: اے اللہ! میں عمرہ کا ارادہ رکھتا ہوں، لہذا تو اس کو میرے لئے آسان کردے اور اس کو میری طرف سے قبول فرما۔ اگر حج بدل ہو تو ’’العمرۃ‘‘ کے بعد ’’عن فلان‘‘ کہے، یعنی جس کی طرف سے حج کر رہا ہو اس کا نام لے اور ’’منی‘‘ کی جگہ ’’منہ‘‘ کہے۔

اس کے بعد تلبیہ پڑھے۔ تلبیہ یہ ہے ’’لبیک اللّٰھم لبیک ، لبیک لاشریک لک لبیک ، ان الحمد والنعمۃ لک والملک ، لاشریک لک‘‘ ترجمہ: حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں، حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں حاضر ہوں، یقیناً ہر طرح کی تعریف اور نعمت تیری ہی ہے اور سارا ملک بھی تیرا ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ اگر حج بدل ہو تو  لبیک کے بعد ’’عن فلان‘‘ کہے یعنی اس کا نام لے (مطلب یہ کہ فلاں کی طرف سے حاضر ہوں)۔ پھر جو دعاء چاہے کرے کہ احرام کے بعد دعاء مقبول ہے۔ ماثور دعاء یہ ہے ’’اللّٰھم انی اسئلک رضاک والجنۃ واعوذبک من غضبک والنار‘‘۔ پس اب احرام باندھ لیا گیا۔
تلبیہ حالت احرام کی ایک خاص عبادت ہے۔ احرام باندھتے وقت اور ہر فرض نماز کے بعد اور عام حالتوں میں اٹھتے بیٹتھے، چلتے پھرتے، سوار ہوتے، سواری سے اترتے، طہارت جنابت ہر حال میں تلبیہ آواز سے پڑھے (مگر عورتیں ہر حال میں تلبیہ آہستہ پڑھیں)۔ نیز جب بلندی پر چڑھے یا نشیب میں اترے، یا کسی قافلہ کو دیکھے تو بآواز بلند تلبیہ پڑھے۔

آداب حالت احرام
حالت احرام میں جماعت اور اس کے لوازم بلکہ اس کے ذکر سے بھی احتراز کیا جائے۔ اصلاح نہ بنوائے، ناخن نہ ترشوائے، بال نہ کتروائے، تیل نہ لگائے، کنگھی نہ کرے۔ حاجی کا خستہ حال اور پراگندہ بال رہنا ہی اللہ پاک کو زیادہ محبوب ہے۔ سر یا بدن میں جوں ہوں تو نہ مارے اور نہ اس کو نکالے۔ اگر زمین پر ہو تو اس کے مارنے میں مضائقہ نہیں۔ سلے ہوئے کپڑے (مثلاً کرتا، پاجامہ وغیرہ) نہ پہنے (عورتیں سلے ہوئے بلکہ رنگین کپڑے بھی پہن سکتی ہیں، لیکن خوشبودار رنگ مثلاً زعفران اور کسم کا رنگ جائز نہیں) ہمیانی باندھ لی جا سکتی ہے، جوتا پہن سکتے ہیں، مگر موزے یا پائتابے نہ پہنے۔ چہرہ اور سر کھلا رکھے، مگر عورتیں سر کھلا نہ رکھیں (البتہ عورتیں اگر اپنے منہ پر نقاب ڈال لیں اس طرح کہ نقاب چہرہ کو لگنے نہ پائے تو مضائقہ نہیں) خوشبو نہ لگائے اور کوئی خوشبودار چیز (مثلاً لونگ، الائچی وغیرہ) نہ کھائے اور نہ پئے۔ اگر کھانے میں خوشبودار مصالحہ زعفران وغیرہ ڈال کر پکایا جائے تو اس کو کھا سکتے ہیں۔ حالت احرام میں خشکی پر کسی جانور کا شکار نہ کرے اور نہ اس کی طرف اشارہ کرے اور نہ کسی کو اس کی طرف متوجہ کرے۔ پالتو جانور مثلاً اونٹ، گائے، بکری، مرغ کو ذبح کرنا جائز ہے۔ حج میں لڑائی جھگڑا، گالی گلوج، مار پیٹ سخت منع ہے۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے ’’فلارفث ولافسوق ولاجدال فی الحج‘‘ پورے سفر میں اس کا خوب خیال رکھے اور سختی کے ساتھ اس ارشاد الہی کی تعمیل کرے۔ جہاز پر سوار ہونے، جگہ لینے یا پانی حاصل کرنے کے مواقع پر اکثر کشمکش ہوتی ہے، ایسے مواقع میں خصوصیت کے ساتھ اس حکم الہی کی تعمیل اور اس کی بجا آوری مد نظر رہے۔ حالت احرام میں وضوء اور غسل کرسکتے ہیں۔
مرسل: سیداسیدھاشمی

TOPPOPULARRECENT