Wednesday , September 27 2017
Home / Top Stories / احمدآباد کی تاریخی مسجد کا مودی اور ابے نے دورہ کیا

احمدآباد کی تاریخی مسجد کا مودی اور ابے نے دورہ کیا

احمدآباد ۔ 13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے جاپانی ہم منصب نے آج احمدآباد تا سابرمتی آشرم اپنے فقیدالمثال روڈ شو کے موقع پر اس شہر میں واقع مغلیہ دور کی ایک تاریخی مسجد میں حاضری دی۔ 16 ویں صدی میں تعمیر شدہ سدی سید کی جالی مسجد کی تاریخ اور اہمیت کے بارے میں وزیراعظم مودی نے جاپان کے مہمان کو واقف کروایا۔ اس مسجد کے علماء کے مطابق دونوں وزرائے اعظم نے ڈھلتی دھوپ کے پُرفضاء منظر میں وہاں تصویرکشی بھی کی۔ آہنی جالیوں سے مزین یہ مسجد اور ’شجرحیات‘ شہر احمدآباد کا غیرسرکاری امتیازی نشان اور شناخت کی علامت تصور کئے جاتے ہیں۔ ملک حبش کے ایک بزرگ نے سدی سید جو یمن سے آئے تھے، اس مسجد کی تعمیر کی تھی، ان کے ساتھ 45 فنکاروں اور آہنی گروں نے کام کیا تھا لیکن برطانوی دورحکومت میں یہ مسجد سرکاری دفتر کے طور پر استعمال کی گئی تھی۔ حالیہ عرصہ کے دوران اس مسجد کے 10 ٹن وزنی آہنی جالی کی کھڑکیوں کو دنیا بھر کے مورخین اور آثارقدیمہ کے ماہرین میں کافی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ عہدیدار اس کو ہندو اور مسلم تہذیب کے سنگم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہیکہ مودی مرکز میں اقتدار پر فائز ہونے سے قبل 12 سال تک گجرات کے چیف منسٹر رہ چکے ہیں، لیکن پہلی مرتبہ آج ایک ایسے وقت مسجد کا دورہ کیا ہے جب مبینہ عدم رواداری پر ہندوستان کو بین الاقوامی مذمت اور ان کی حکمراں بی جے پی کو تقسیم و انتشار کی سیاست میں ملوث ہونے کے الزامات کے ساتھ تنقیدوں کا سامنا ہے۔ وزیراعظم مودی نے قبل ازیں احمدآباد کے مضافات میں واقع سرکھیج روضہ اور متصلہ مسجد میں حاضری دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT