Friday , October 20 2017
Home / مضامین / احمد بھائی کی جیت ، جمہوریت کا شاہ کے منہ پر طمانچہ

احمد بھائی کی جیت ، جمہوریت کا شاہ کے منہ پر طمانچہ

 

محمد ریاض احمد
گجرات میں جہاں بی جے پی برسراقتدار ہے اس کے صدر امیت شاہ کو راجیہ سبھا کی تین نشستوں کے لئے ہوئے انتخابات میں منہ کی کھانی پڑی۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کو دوبارہ راجیہ سبھا جانے سے روکنے کے لئے امیت شاہ اور ان کے حواریوں نے جو کچھ جائز و ناجائز کام کئے اس بارے میں سارا ہندوستان اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ زر خرید غلام میڈیا، بی جے پی اور امیت شاہ کی لٹی ہوئی سیاسی عزت پر مکرو فریب اور دروغ گوئی کی دبیز چادر ڈالنے کی حتی المقدور کوشش کررہا ہے۔ اس کے باوجود وہ اس کے بدنما وجود پر ابھر آئے عبرت ناک داغ چھپانے سے قاصر ہے۔ گجرات میں راجیہ سبھا کی تین نشستوں کے لے رائے دہی ہوئی دو نشستوں پر بی جے پی کی بلا شک و شبہ کامیابی یقینی تھی لیکن احمد پٹیل کو شکست دینے کی خاطر کانگریس ارکان اسمبلی کو نہ صرف خریدنے کی کوشش کی گئی بلکہ بقول کانگریسی قائدین انہیں ڈرایا دھمکایا بھی گیا۔ احمد پٹیل کے مقابلہ میں کانگریس سے انحراف کرتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہونے والے ایم ایل اے کو ٹھہرایا گیا۔ اس سے قبل بی جے پی سے ہی کانگریس میں شامل ہوکر اقتدار کے مزے لوٹنے والے شنکر سنہ واگھیلا کو بھی کانگریس سے مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا گیا۔ انہیں کانگریس سے مستعفی ہوکر اسے کمزور کرنے کے لئے مجبور کیا گیا یا پھر اس کی بھاری قیمت ادا کی گئی اس بارے میں امیت شاہ یا پھر شنکر سنہ واگھیلا ہی بہتر بتاسکتے ہیں۔

ایک بات تو ثابت ہوگئی کہ گجرات سے راجیہ سبھا کے لئے احمد پٹیل کے انتخاب نے ریاست کے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے لئے پریشانیوں کا آغاز کردیا ہے۔ اپنی شاطرانہ و مکارانہ سیاسی چالوں کے لئے بدنام امیت شاہ پر احمد پٹیل نے غیر معمولی فتح حاصل کرتے ہوئے امیت شاہ کی حکمت عملیوں کی ناکامی کی شروعات کردی ہے۔ جہاں تک احمد پٹیل کا سوال ہے وہ گاندھی خاندان کے بہت قریب ہیں۔ سونیا گاندھی ان پر غیر معمولی اعتماد کرتی ہیں۔ گجرات میں دراصل امیت شاہ اور احمد پٹیل کی حکمت عملیوں کا مقابلہ تھا جس میں امیت شاہ کی حکمت عملی بری طرح ناکام رہی۔ شاہ کی حکمت عملی کی ناکامی شاید بی جے پی قائدین کی انا، ان کی ہٹ دھرمی، غرور و تکبر اور رعب و دبدبہ کے ساتھ ساتھ سیاسی مکاری کے خاتمہ کا آغاز ہے۔ امیت شاہ نے اقتدار کے نشے میں احمد پٹیل سے شخصی مخاصمت کا حساب کتاب پورا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔ انحراف کراس ووٹنگ اور انتخابی عمل کی خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا لیکن احمد پٹیل کی جیت نے امیت شاہ کے بارے میں ایک بہترین سیاسی منتظم ہونے کا جو تاثر پایا جاتا تھا اس پر سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔ امیت شاہ اور مودی کے لئے تشویش کی بات یہ ہے کہ انہیں ان کی آبائی ریاست گجرات میں اس تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔ احمد پٹیل نے انتخابات سے قبل ہی الزام عائد کیا تھا کہ امیت شاہ ان سے شخصی مخاصمت رکھتے ہیں اور ان کی شکست کے لئے جو راستے اور طریقے انہوں نے اختیار کئے ہیں احمد پٹیل نے اپنے 40 سالہ سیاسی کیریئر میں ان کا پہلی بار مشاہدہ کیا ہے۔ واضخ رہے کہ احمد پٹیل پانچویں مرتبہ راجیہ سبھا پہنچے ہیں۔ احمد پٹیل نے یہ کہتے ہوئے بی جے پی خیمہ کو شرمسار کردیا ہے کہ بی جے پی نے راجیہ سبھا انتخابات میں جو کچھ کیا ہے اس سے پارٹی کے شخصی انتقام اور سیاسی دہشت گردی کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے

اور گجرات کے عوام جاریہ سال منعقد ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات میں اسے ایسا سبق سکھائیں گے کہ وہ فراموش نہیں کر پائے گی۔ امیت شاہ اور سمرتی ایرانی کو اگرچہ گجرات سے راجیہ سبھا کے لئے بآسانی منتخب ہونے کا کامل یقین تھا لیکن امیت شاہ نے اپنی ساری توجہ احمد پٹیل کی شکست کو یقینی بنانے پر مرکوز کردی تھی یہی وجہ تھی کہ ارون جیٹلی، روی شنکر پرساد، نرملا ستیارامن، مختار عباس نقوی، پیوش گوئل اور دھرمیندر، پردھان نے اس نتیجہ کو رکوانے ایک نہیں بلکہ دو دو مرتبہ الیکشن کمیشن کے چکر لگائے لیکن ان کی تمام محنت اور کوششیں رائیگاں گئیں۔ سال 2014ء سے مودی اور امیت شاہ کی جوڑی نے سیاسی بساط پر جو کھیل شروع کیا تھا اس میں ہر مرتبہ بلکہ مسلسل بی جے پی کو ہی کامیابی ملی حد تو یہ ہے کہ صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کے باوقار عہدوں کے انتخابات میں بھی کانگریس کے بشمول دوسری جماعتوں کے ارکان کو کراس ووٹنگ کے لئے مجبور کیا گیا۔ کانگریس قائدین نے تو اب بی جے پی کو ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمان یہاں تک کہ اقتدار کی خریدار پارٹی کہنا شروع کردیا ہے۔ اس ضمن میں گوا اور منی پور اسمبلی انتخابات کی مثال دی جاسکتی ہے جس میں بڑی پارٹی ہونے کے باوجود کانگریس کو اقتدار سے روک کر بی جے پی نے منحرف ارکان کی تائید و حمایت سے خود اقتدار حاصل کرلیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بی جے پی کو ان ریاستوں میں اقتدار یوں ہی حاصل ہوگیا؟ جہاں تک امیت شاہ اور احمد پٹیل کی شخصی عداوت کا معاملہ ہے اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ 2010ء میں امیت شاہ کی سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹر مقدمہ میں جیل بھیجا گیا۔ اس میں احمد پٹیل کا اہم رول رہا اور یہ بات امیت شاہ کے ذہن نشین ہوگئی جس پر انہوں نے ’’احمد بھائی‘‘ کو شکست دینے کا تہہ کرلیا۔ امیت شاہ کے دو سال تک گجرات میں داخلہ پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی اور اس معاملہ میں سپریم کورٹ کا کردار قابل تعریف رہا۔ اس دوران امیت شاہ کسی بھی وزارتی عہدہ پر برقرار نہیں رہ سکے۔ امیت شاہ کی بہ نسبت احمد پٹیل نے بڑی خاموشی کے ساتھ سیاسی کامیابیاں حاصل کی ۔ تین مرتبہ وہ گجرات سے ہی لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے جبکہ امیت شاہ کا پہلی مرتبہ راجیہ سبھا کے لئے انتخاب عمل میں آیا ہے۔ راجیہ سبھا میں جب بھی امیت شاہ اور احمد پٹیل کا آمنا سامنا ہوگا تو ہمیں یقین ہے کہ امیت شاہ کے دل میں احساس شکست جاگ اٹھے گا۔
اگر دیکھا جائے تو بی جے پی کا غرور خاک میں ملانے میں ا لیکشن کمیشن کا اہم کردار رہا ہے جس کیلئے اس کی ستائش کی جانی چاہئے کیونکہ کمیشن نے ہندوستانی جمہوریت کی لاج رکھ لی۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT