Sunday , September 24 2017
Home / مضامین / احمد پٹیل کانگریس کے دیرینہ مددگار

احمد پٹیل کانگریس کے دیرینہ مددگار

 

سونی مشرا
سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے کہا تھا کہ اگر کانگریس گجرات میں 26 لوک سبھا نشستوں میں سے 25 ہار جائے تو اس کے حصہ میں آنے والی واحد نشست اُن کے بااعتماد احمد پٹیل کی رہے گی۔ یہ ایقان 8 اگست کی رات بھی درست ثابت ہوا جب زبردست ڈرامائی تبدیلیوں اور بی جے پی کی جانب سے اُن کو ہرانے کی ٹھوس کوشش کے باوجود احمد پٹیل نے اپنی راجیہ سبھا نشست کم فرق سے سہی ، برقرار رکھی۔ انھیں دو ووٹوں کو مسترد کئے جانے سے مدد ملی جو اُن کے خلاف دیئے گئے تھے۔
کپڑے کے تاجر کے فرزند احمد پٹیل پارٹی صفوں میں آگے بڑھتے ہوئے گجرات میں بھڑوچ سے تین مرتبہ لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے۔ لیکن جب ہندوتوا کو سیاسی لہر بنایا گیا، وہ 1989ء اور 1991ء میں بھڑوچ ہار گئے، اور اس کے بعد پارلیمانی انتخابات سے دوری اختیار کرلی۔ تاہم، وہ دہلی میں اقتدار کی راہداریوں میں پھلنے پھولنے لگے اور کانگریس میں صدر پارٹی سونیا گاندھی کے بعد سب سے طاقتور شخص بن گئے اور اسی دوران 1996ء میں ایک راجیہ سبھا نشست جیت کر پارلیمنٹ کو واپس بھی ہوئے۔ پھر بھی پس پردہ کام کرنے والے بااثر حکمت ساز کو اِس اگست کے الیکشن میں خود اپنے پارٹی ایم ایل ایز کے ووٹوں کیلئے تگ و دَو کرنا پڑا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کانگریس کو کس قدر مشکل حالات کا سامنا ہے۔
یہ 1977ء میں لوک سبھا نشست کیلئے مقابلے کے وقت کی بات ہے کہ احمد پٹیل کو سنجے گاندھی کی توجہ حاصل ہوئی۔ تب پٹیل نے اصرار کیا تھا کہ اُن کے حلقہ میں اندرا گاندھی کو ہی ریلی سے خطاب کرنا چاہئے، حالانکہ وہ ایمرجنسی کی وجہ سے غیرمقبول ہوچلی تھیں۔ بعد میں احمد پٹیل کو راجیو گاندھی کی خاصی توجہ ملی جس کی جزوی وجہ بھڑوچ سے اُن کا تعلق ہے، جو راجیو کے والد فیروز گاندھی کا بھی آبائی ٹاؤن ہے۔ راجیو نے پٹیل کو پارٹی جنرل سکریٹری کے ساتھ ساتھ اپنا پارلیمانی معتمد بھی بنایا۔ پٹیل نے سونیا کا غیرمتزلزل اعتماد بھی حاصل کیا، اور وہ سونیا کو سیاست میں داخلہ کی کامیاب ترغیب دینے والوں میں شامل رہے۔

احمد پٹیل کی کامیابی کا بڑا راز اُن کی خاص عادت ہے کہ انھیں حتی المقدور غیرمعروف رہنا پسند ہے۔ نرم گو اور ہمیشہ خود کو محدود رکھنے کی کوشش کرنے والے پٹیل کی شخصیت سے اُن کے اثر و رسوخ اور اُن کی طاقت کا پتہ ہی نہیں چلتا ہے۔ اور تو اور دہلی میں واقع اُن کے بنگلہ 23، مدر ٹریسا کریسنٹ پر اُن کے نام کی تختی تک نہیں ہے۔ اُن کے پُرانے دوست اور سابق میئر سورت قدیر پیرزادہ نے کہا کہ ایک مرتبہ کسی کانگریس لیڈر نے احمد پٹیل پر ایک کتاب شائع کرانا چاہی۔ پٹیل نے صاف منع کردیا اور کہا کہ وہ کوئی تشہیر نہیں چاہتے ہیں۔ اور پارٹی لیڈر کو مشورہ دیا کہ اس کی بجائے گجرات پر کوئی کتاب لکھیں۔
احمد پٹیل کو کام کا جنون رہتا ہے، وہ رات 2 بجے سوتے ہیں اور صبح 6 بجے جاگ جاتے ہیں۔ صبح کے اوقات اخبارات بالخصوص ہندی اخبارات پڑھنے میں صرف ہوتے ہیں، لیکن کچھ فرصت ملے تو وہ پرانے ہندی فلمی گیت سنتے ہیں۔ وہ مذہبی اقدار سے ہم آہنگ شخص ہیں جو گھر میں پکی سادہ غذا جیسے کھچڑی یا دال اور روٹیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
اُن کے تعلق سے مشہور ہے کہ وہ اُن سیاسی اتحادوں کو استوار کرنے میں معاون بنے جن سے کانگریس کو ہندوستان پر دس سال حکمرانی کرنے میں مدد ملی۔ 2008ء میں ہند۔ امریکہ نیوکلیر معاملت پر تحریک عدم اعتماد پر رائے دہی کا سامنا کرنے کے مرحلے میں یہ اُن ہی کا خیال رہا کہ سماجوادی پارٹی سے رابطہ کرنا چاہئے۔
منموہن سنگھ کے میڈیا اڈوائزر سنجے بارو کا اپنی کتاب ’ دی اکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ میں کہنا ہے کہ پٹیل ہی سونیا کی باتیں دفتر وزیراعظم کو پہنچاتے تھے۔ بارو کے مطابق پٹیل ایک مرتبہ پی ایم او کو عین اس وقت پہنچے جب وزیراعظم حلف برداری کیلئے وزراء کے ناموں کی فہرست صدرجمہوریہ کو بھیجنے ہی والے تھے۔ جب بتایا گیا کہ نیا مکتوب تیار کرنے کا وقت نہیں تو پٹیل نے اسی مکتوب کو لے کر بعض ناموں کو سفیدگر کے ذریعہ مٹا ڈالا۔ نئے ناموں کا اضافہ کیا گیا اور وہی مکتوب ارسال کیا گیا۔ بارو نے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کی منموہن سنگھ سے اُن کی سالگرہ پر ملاقات کے تعلق سے بھی تحریر کیا ہے۔ اس ملاقات کے بعد پٹیل نے بارو کو ایک پرچی تھمائی کہ میڈیا کیلئے جاری کردیں۔ اس نوٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ راہول نے وزیراعظم سے قانون قومی دیہی روزگار ضمانت کو ملک کے تمام دیہی اضلاع تک وسعت دینے کی اپیل کی ہے۔
احمد پٹیل سیاسی حکمت ساز ہونے کے علاوہ پارٹی کیلئے فنڈ جٹانے والے کلیدی شخص بھی رہے ہیں اور کارپوریٹ شعبے کے ساتھ کافی مضبوط روابط رکھتے ہیں۔ جب وہ کانگریس کے خازن رہے، پارٹی کو کبھی مالی بحران کا سامنا نہیں ہوا، تب بھی نہیں جب اس کے پاس اقتدار نہ تھا۔
اگرچہ احمد پٹیل عوام کا ہجوم اکٹھا کرنے سے عاری لیڈر کے طور پر معروف ہیں، لیکن اُن کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی حقیقت سے بے ربط ہرگز نہیں۔ گجرات کانگریس کے لیڈر ارجن مودھوادیا کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی سطحوں سے، اور پنچایت سطح سے اُبھر کر آئے ہیں۔ انھوں نے ہر عہدہ قابلیت سے حاصل کیا ہے۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ پٹیل نے وفاداروں کو آگے بڑھایا اور عوام کی تائید و حمایت والے لیڈروں کو حاشیہ پر رکھا تاکہ سونیا کی بالادستی کو کوئی چیلنج نہ کرنے پائے۔ لیکن وہ خود گزشتہ تین سال سے حاشیہ پر کردیئے گئے ہیں، چاہے امیدواروں کے سلیکشن کا معاملہ ہو یا تنظیم میں تبدیلیا ںکرنے کی بات ہو۔ راہول دَور والی پارٹی میں پٹیل اتنے بااثر نہیں جتنے ہوا کرتے تھے۔
خاموش طبع شخص نے حال ہی میں راجیہ سبھا میں عمدہ تقریر کی، جب اُن پر آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر اسکام میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ حالیہ عرصے میں وہ سوشل میڈیا پر کافی سرگرم دکھائی دیئے ہیں؛ نریندر مودی حکومت کی ناکامیوں اور اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کیلئے کانگریس پارٹی کا سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرانے میں پرینکا وڈرا کے رول کے تعلق سے ٹوئٹ کئے ہیں۔
احمد پٹیل 26 سال کی عمر میں سیاست میں داخل ہوئے، اور اب ان کو افسوس ہے کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ معقول وقت نہیں گزار سکے۔ اُن کی اہلیہ میمونہ، بیٹا فیصل اور بیٹی ممتاز سیاسی چکاچوند سے دور ہی رہے ہیں۔ ایک سال قبل پٹیل کو بہت بے چین و مضطرب دیکھا گیا جب اُن کی بہو زینب (نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ کی کزن) کا قلب کی پیچیدگی کی وجہ سے انتقال ہوا۔

احمد پٹیل نے کانگریس کیلئے اپنی افادیت ہرگز نہیں کھوئی ہے۔ وہ بہار میں ’مہاگٹھ بندھن‘ کے پس پردہ اہم شخصیت رہے جن کا ذکر نہ ہوا۔ انھوں نے نوٹ بندی کے خلاف پارٹی کے احتجاجوں کو منظم بھی کیا۔ جہاں صدر بی جے پی امیت شاہ نے راجیہ سبھا الیکشن میں ان کی شکست کو یقینی بنانے کیلئے بھرپور جتن کئے، وہیں یہ ان کے درمیان اتنا ہی سخت شخصی رقابت کے سبب ہوا جتنا ڈسمبر میں منعقد شدنی گجرات اسمبلی انتخابات سے قبل ان کی ناکامی کی علامتی قدر ہوتی۔ امیت کا ماننا ہے کہ ان کے خلاف فرضی انکاؤنٹر کیسوں کے سلسلے میں انھیں گجرات سے باہر کرنے کے پٹیل ہی ذمہ دار ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگار دیویندر پٹیل نے کہا کہ احمد پٹیل کو شکست ہوجاتی تو آنے والے اسمبلی انتخابات کے ساتھ ساتھ 2019ء میں لوک سبھا چناؤ کیلئے بھی زبردست اثرات مرتب ہوتے۔ بی جے پی کیلئے اہم ہے کہ اُس تعداد سے ایک بھی نشست کم نہ جیتے جب مودی چیف منسٹر تھے۔
احمد پٹیل اور اُن کی پارٹی اب سکون کی سانس لے سکتے ہیں۔ تاہم، کانگریس کیلئے بڑا کٹھن معاملہ ہے کہ سخت محنت والی جیت کے بل بوتے پر آگے بڑھتے ہوئے اپنی تنظیم کو گجرات میں اور دیگر جگہوں پر درست کرلے۔

TOPPOPULARRECENT