Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اختراعی کاوشوں ہی سے ملک کی ترقی ممکن: ڈاکٹر وی کے سرسوت

اختراعی کاوشوں ہی سے ملک کی ترقی ممکن: ڈاکٹر وی کے سرسوت

مولانا آزادنیشنل اردو یونیورسٹی کی یوم تاسیس سے خطاب
حیدرآباد، 9؍جنوری (پریس نوٹ): ملک کی ترقی میں سائنس اور ٹکنالوجی کا بہت اہم رول رہا ہے۔ اسی لیے آزادی کے بعد ہمارے دور اندیش قائدین نے سب سے پہلے اسی جانب توجہ دی اور ملک کو ترقی کی جانب گامزن کیا۔ مختلف شعبوں مثلاً زراعت، سبزانقلاب، صنعت و حرفت، جوہری توانائی وغیرہ میں ہمارے سائنسدانوں نے بہت اہم اور نمایاں کارنامے انجام دیئے ہیں جس کی وجہ سے آج ہم بہت سے شعبوں میں خود کفیل ہوسکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں انیسویں یوم تاسیس کے موقع پر مہمانِ خصوصی معروف بین الاقوامی سائنسداں اور نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے سرسوت نے کیا۔ انہوں نے سائنس اور ٹکنالوجی کے مختلف اہم ترین شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیا ہے۔ ڈی آر ڈی او میں بھارت رتن ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات اور ان کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ورک، نصب العین، مشن اور اختراعی سرگرمیوں پر ڈاکٹر کلام بہت توجہ دیتے تھے۔ ڈاکٹر سرسوت نے کہا کہ اختراعی عمل سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے۔ ہمہ جہت معاشی ترقی کا انحصار اسی پر ہے۔ نئے نئے خیالات اور غور و فکر ہی سے یہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختراعی سرگرمیاں اختیار کرکے ہی ہم سرمایہ پیدا کرسکتے ہیں اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر سرسوت نے کہا کہ ہر شعبۂ حیات میں ہمیں غیر ممالک پر انحصار کو ختم کرنا ہوگا ۔ 300 ملین گھروں میں اب بھی بجلی نہیں ہے۔ فیکٹریوں میں تمام آلات بیرونی ممالک سے برآمد کرنے پڑ رہے ہیں۔ ان تمام حالات کو اپنی اختراعی کاوشوں ہی سے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو ملک کی ترقی کے لیے اپنی اختراعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ملک کو سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں خود کفیل بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کی وجہ سے سیکوریٹی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ سائبر جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس معاملے میں ریسرچ بہت اہم ہے۔ اسی لیے زندگی میں تخلیق، تخیل، نئے خیالات اور خطرہ مول لینے کا جذبہ بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر سرسوت نے اردو یونیورسٹی کے طلبہ کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبی ہوتی ہے۔ اس خوبی کو افضلیت (Excellence) میں بدلنا ضروری ہے۔ شیخ الجامعہ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے کہا کہ اپنے کاموں کے تئیں عزم مصمم بہت ضروری ہے۔ ہم جس شعبہ میں بھی کام کر رہے ہوں اس میں ڈوب کر کام کرنا چاہئے۔ پروگرام کی کاروائی ڈاکٹر آمنہ تحسین، ڈائرکٹر انچارج، مرکز برائے مطالعاتِ نسواں نے چلائی اور میر ایوب علی خان، کنسلٹنٹ نے شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر شکیل احمد، پرو وائس چانسلر بھی شہ نشین پر موجود تھے۔ پروگرام کی ابتداء طالب علم محمد خالد کی قرأت اور ترجمانی سے ہوا۔

TOPPOPULARRECENT