Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / اختلاف رائے کے جواب میں حملے ، بحث کے جواب میں گولی

اختلاف رائے کے جواب میں حملے ، بحث کے جواب میں گولی

ملک میں عدم رواداری کے ماحول پر نامور مؤرخین اور سائنسدانوں کا اظہار فکر و تردد

نئی دہلی۔/29اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) ملک میں عدم تحمل کے خلاف احتجاج میں قلمکاروں، فلمسازوں اور سیاستدانوں کی صف میں آج مورخین بھی شامل ہوگئے جبکہ ایک نامور سائنسداں ڈاکٹر پی ایم بھارگو نے بھی اپنا پدم بھوشن ایوارڈ واپس کردینے کا اعلان کیاہے اور یہ الزام عائد کیا ہے کہ نریندر مودی حکومت انڈیا کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی کوشش میں ہے۔ سیاستدانوں کا دوسرا گروپ آج دانشوروں اور 53 مورخین بشمول رومیلا تھاپر، عرفان حبیب، کے این پاٹیکر اور مریدولا مکرجی کے احتجاج میں شامل ہوگیا جنہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ملک بھر میں تشویشناک حد تک بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ ماحول پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مورخین نے ایک صحافتی بیان میں دادری میں ایک مسلم شخص کی ہلاکت اور ممبئی میں ایک نامور دانشور سدھیندر کلکرنی پر سیاہی حملہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے کا جواب جسمانی حملوں سے دیا جارہا ہے اور بحث کا جواب مباحث سے دینے کے بجائے گولیوں سے دھمکایا جارہا ہے۔ اگرچیکہ مصنفین بطور احتجاج اپنے ایوارڈس سلسلہ وار واپس کررہے ہیں لیکن احتجاج کی وجوہات پر حکومت کا کوئی ردعمل نہیں آیا۔ اس کے برخلاف بعض وزراء اس احتجاج کو کاغذی انقلاب قراردیتے ہوئے تمسخر اڑارہے ہیں۔ قلمکاروں سے کہا جارہا ہے کہ تحریر اور تخلیق، کام چھوڑ دیں، یہ مشورہ دراصل ایک دھمکی کے مترادف ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دانشور طبقہ احتجاج کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کرلے۔ ڈاکٹر پی ایم بھارگوا جو کہ حیدرآباد میں واقع سنٹر فار سیلولر اینڈ میلوکر بائیولوجی ( سی سی ایم بی ) کے بانی ہیں کہا ہے کہ 1986ء میں انہیں پیش کردہ ایوارڈ واپس کردیں گے کیونکہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ملک کا موجودہ ماحول ’’ انتہائی خوفناک ‘‘ ہوگیا ہے

اور یہ نہ صرف معقولیت پسندی اور روشن خیالی کے خلاف ہے

بلکہ سائنسی افکار اور مزاج کے خلاف ہے جس کے پیش نظر میں نے ایوارڈ واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی وجہ  یہ ہے کہ موجودہ حکومت جمہوریت کے راستہ سے بھٹک رہی ہے اور پاکستان کی طرح ملک کو ہندو مذہبی مملکت بنانے کی سمت گامزن ہے جو کہ میرے لئے قابل قبول نہیں ہے۔87سالہ سائنسدان نے الزام عائد کیا کہ مختلف عہدوں پر ایسے افراد کا تقرر کیا گیا ہے جن کی وابستگی آر ایس ایس سے ہے۔ یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ مودی حکومت اپنے وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر بھارگوا نے کہا کہ ایک سائنسداں کی حیثیت سے وہ صرف ایوارڈ واپس کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ دادری میں محمد اخلاق احمد کو موت کے گھاٹ اُتاردینے اور پروفیسر کلبرگی، ڈاکٹر نریندر ڈابولکر اور شری گویند پنسارے کے قتل کے خلاف سائنسدانوں اور ماہرین تعلیم بشمول پدم بھوشن ایوارڈ یافتہ  اشوک سین، بی بلرام، مدھو بوسٹی، رگھوناتھن اور پدم شری ڈی بالا سبرامنیم نے اپنے ایوارڈس واپس کردینے کا اعلان کیا اور بتایا کہ ایک مخصوص نظریات کے حامل لوگوں کی جانب سے فرقہ وارانہ زہر گھولنے کی وجہ سے ملک میں عدم رواداری کا ماحول حاوی ہوتا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT