Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اخلاقی اقدار کی مٹی پلید، قدرتی وسائل معاشی وسائل میں تبدیل

اخلاقی اقدار کی مٹی پلید، قدرتی وسائل معاشی وسائل میں تبدیل

کوئی سائنسداں مین ہولس کی صفائی کا فارمولہ تیار نہ کرسکا، ممتاز دانشوروں کا سمینار سے خطاب
حیدرآباد 15 اگسٹ (سیاست نیوز) ممتاز ماہر ترقیاتی معیشت و ماہر تعلیم پروفیسر جیانی گھوش نے کہا کہ ملک میں نئی معاشی اصلاحات پالیسیوں کی وجہ سے متاثر کن شرح ترقی کے باوجود نوکریاں فراہم کرنے معاشی تنوع کی فضاء پیدا کرنے پیداواریت اور کارکردگی بنانے میں ناکامی ہوئی ہے۔ مادی زندگی ذہن اور اخلاقی اقدار پر گزشتہ 25 سال کے دوران مرتب ہوئے اثرات کے موضوع پر اپنے لکچر میں پروفیسر گھوش نے کہاکہ 25 برس کے دوران زائداز 6 فیصد شرح ترقی سے رسمی روزگار میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ معاشی تنوع کے وعدے پورے نہیں ہوسکے۔ معاشی خوشحالی چند برس ہی دیکھی گئی۔ پھر سب کچھ اُلٹ پلٹ ہوگیا۔ قومی کنوینر صفائی کرمچاری اندولن بی ولسن نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے حیدرآباد میں دو دن قبل مین ہول میں چار افراد کی موت پر برہمی اور افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ کسی سائنس داں نے سیویج لائنس کی صفائی کے لئے کوئی حل تجویز نہیں کیا ہے۔ انسانی ہاتھوں سے خاکروبی کے خلاف قانون سازی کے باوجود قانون کے تحت خلاف ورزی پر ایک بھی کیس درج نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کنٹراکٹ ملازمت کو دلتوں کے خلاف حکومت کی چال قرار دیا۔ جرنلسٹ پی سائی ناتھ نے معاشی راحت کاری سے جڑے تمام مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے کہاکہ اخلاقی اقدار کی مٹی پلید ہوگئی ہے اور تمام قدرتی وسائل معاشی وسائل ہوکر رہ گئے ہیں۔ آرٹ و کلچر کے ماہر سدانند مینن اور برج پٹنائک نے بھی مخاطب کیا۔

TOPPOPULARRECENT