Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / اخلاق کی موت کے بعد افراد خاندان کو ہراساں کرنے کی کوشش

اخلاق کی موت کے بعد افراد خاندان کو ہراساں کرنے کی کوشش

پنچایت طلب کرنے کی اطلاع پر دادری میں امتناعی احکامات نافذ
گریٹر نوئیڈا۔6 جون (سیاست ڈاٹ کام) علاقہ دادری کے بشاڈا گائوں میں ذبیحہ گائوں کے الزام میں محمد اخلاق کے خاندان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبہ پر پنچایت طلب کرنے کی اطلاع کے بعد امتناعی احکامات نافذ اور حفاظتی اقدامات کو سخت کردیئے گئے جبکہ 9 ماہ قبل اس افواہ پر کہ اخلاق کے افراد خاندان نے بیف کا استعمال کیا ہے انہیں مارمار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ گوتم بدھ نگر کے ضلع مجسٹریٹ مسٹر این پی سنگھ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ضلع میں 5 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کردی ہے کیوں کہ دادری کے موضع بشاڈا میں آج پنچایت منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے پیش نظر ایڈیشنل سکیوریٹی فورسس کو طبل کرلیا گیا ہے۔ بشاڈا گائوں کے دیہاتیوں بشمول ستمبر 2015 ء کے اخلاق کی ہلاکت کیس کے ملزمین کے رشتہ داروں نے کل ضلع ایس ایس پی سے ملاقات کرکے اس بنیاد پر اخلاق کے افراد خاندان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا کہ فارنسک رپورٹ میں یہ تصدیق کردی گئی کہ ان کے مکان سے برآمد گوشت گائے کا تھا۔ ملزم وشال رانے کے والد سنجے رانا نے یہ دھمکی دی ہے کہ اگر پولیس اخلاق کے خاندان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں ناکام ہوگئی تو گائوں میں مہا پنچایت طلب کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ فارنسک رپورٹ میں یہ تصدیق کی گئی ہے کہ اخلاق کے فریزر سے دستیاب گوشت دراصل گائے کا تھا اس کے باوجود کوئی ایف آئی آر درج نہیں کیا گیا جس کے بعد پولیس میں ایک شکایت کی گئی۔ دریں اثناء وشوا ہندو پریشد لیڈر سریندر جین نے کل مذکورہ گائوں کا دورہ کرکے یہ دعوی کیا ہے کہ ملزم کو جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا ہے جبکہ بی جے پی لیڈر ونئے کٹیار نے بھی اخلاق کے افراد حاندان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے ا ور لواحقین کو دیئے گئے معاوضہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فارنسک رپورٹ سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ قائے ذبیحہ کی گئی تھی اور قصور واروں کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جائے اور اخلاق کو قتل کرنے کے الزام میں محروس افراد کو رہا کردیا جائے اور لواحقین کو حکومت کی جانب سے دیئے گئے معاوضہ اور مکانات واپس لے لیا جائے۔ دریں اثناء کانگریس نے بی جے پی لیڈروں کے بیانات پر تنقید کی اور کہا کہ صورتحال کو کشیدہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسٹر پی ایل پونیا نے کہا کہ فارنسک رپورٹ آنے کے بعد یا پنچایت کی طلبی اور اشتعال انگیز بیانات مناسب نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT