Sunday , August 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / ادائی حج کا طریقہ

ادائی حج کا طریقہ

آفاقی اگر صرف حج کرنا چاہے تو اس طرح احرام باندھے جس طرح اوپر بیان کیا گیا ۔ اگر کسی ضرورت سے یا بلاضرورت سیدھا عرفات کو جائے تو اس پر سے طواف القدوم جو کہ تحیۃ المسجد کی طرح مسنون ہے ‘ ساقط ہوجائیگا ۔ لیکن بلا ضرورت ایسا کرنے سے گنہگار ہوگا کیونکہ اس سے بہت سی سنتیں ترک ہوجاتی ہیں ۔ چنانچہ اس کا بیان آگے آئے گا اور اگر سیدھا عرفات کو نہ جائے تو طواف القدوم بجا لائے جس طرح عمرے کے بیان میں گزرا ۔
اگر اس طواف کے بعد سعی صفا و مروہ منظور نہ ہو بلکہ طواف الزیارت کے بعد جو سعی اس وقت مسنون ہے ‘ تو اس طواف میں اضطباع و رمل نہ کرے ۔ لیکن اگر اس لحاظ سے کہ طواف الزیارت کے بعد بہت سے مناسک ادا کرنے دشوار ہوں گے طواف کے بعد سعی کرے تو جائز ہے اور اضطباع و رمل بھی اسی میں کرے جیسا کہ اوپر گزرا ۔ الحاصل جس طواف کے بعد سعی ہو اسی میں اضطباع و رمل بھی ہونا چاہئے ۔ جیسا کہ طواف عمرہ میںبیان ہوا ۔

اس طواف قدوم و سعی میں لبیک کہنا موقوف نہ کرے جیسا کہ عمرے میں اول طواف سے موقوف کرتے ہیں ۔ ہاں جو حاجی طواف الزیارت کے بعد سعی کرے اس کو صفا و مروہ میں لبیک نہ کہنا چاہئے بلکہ وہ جمرۃ العقبۃ میں رمی سے پہلے موقوف کرے ۔ پھر طواف القدوم یا طواف و سعی کے بعد مکہ میں اقامت کرے مگر احرام باندھے رہے اور جو چیزیں احرام میں منع ہیں ان سے بچے ۔ یہی حکم قارن اور اس متمتع کا بھی ہے جس کے پاس قربانی ہو ۔ اس اثناء میں جب چاہے بغیر اضطباع و رمل کے طواف نفل ادا کرتا رہے ۔ مگر حج کے مہینوں میں عمرہ نہ ادا کرے کیونکہ اب وہ قیام مکہ سے مکی ہوگیا ہے ۔
ذی الحجہ کی ساتویں تاریخ کو امام مسجد الحرام میں ظہر کے بعد ایک خطبہ پڑھتا ہے اور اس میں حج کے مناسک بیان کرتا ہے ‘ اس کو سنے ۔
تَرْوِیَہْ کے دن یعنی آٹھویں تاریخ کو محرم آفاقی اور جو مکی غیر محرم ہو وہ احرام باندھ کر صبح کی نماز کے بعد امام اور سب لوگوں کے ساتھ منیٰ کو جائے ۔ مکی طواف نفل کے بعد احرام باندھے تو بہتر ہے ۔ اگر اس کے بعد سعی بھی منظور ہو تو اس طواف میں اضطباع و رمل بھی کرے ۔ اور اگر طواف الزیارت کے بعد سعی کا قصد ہو تو اس طواف میں یہ دونوں کام نہ کرے ۔

منیٰ پہونچکر ممکن ہو تو مسجد خیف کے پاس ٹھہرے ورنہ راستہ کے علاوہ جہاں کہیں جگہ پائے قیام کرے اور ظہر سے فجر تک وہاں پانچ نماز پڑھے اور رات بھر لبیک دعاء اور استغفار میں مصروف رہے ۔ طبرانی اور بیہقی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جو کوئی مرد و عورت عرفہ کی رات منیٰ میں یہ دعاء ہزار بار پڑھے گا وہ جو کچھ مانگے گا ضرور پائے گا ۔ وہ دعاء یہ ہے ۔’’  سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ السَّمَآئِ عَرْشُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ الْاَرْضِ مَوْطِئُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ الْبَحْرِ سَبِیْلُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ النَّارِ سُلْطَانُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ الْجَنَّۃِ رَحْمَتُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ الْقَبْرِ قَضَاؤُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ الْھَوَآئِ رَوْحُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمَآئَ سُبْحَانَ الَّذِیْ وَضَعَ الْاَرْضَ لَا مَلْجَأَ وَ لَا مَنْجَا مِنْہُ اِلاَّ اِلَیْہِ ‘‘۔ پاکی ہے اس ذات کو جس کا عرش آسمان پر ہے ۔ پاکی ہے اس ذات کو جس کا پا انداز زمین پر ہے ۔ پاکی ہے اس ذات کو جس کی راہ دریا میں ہے ۔ پاکی ہے اس ذات کو جس کی حکومت آگ میں ہے ۔ پاکی ہے اس ذات کو جس کی رحمت جنت میں ہے ۔ پاکی ہے اس ذات کو جس کا حکم قبر میں جاری ہے ۔ پاکی ہے اس ذات کو جس کی رحمت ہوا میں ہے ۔ پاکی ہے اس ذات کو جس نے آسمان کو بلند کیا ۔ پاکی ہے اس ذات کو جس نے زمین کو پست کیا اس سے پناہ اور نجات بجز اس کے نہیں ہے ۔
اور صبح کی نماز غلس اندھیرے کے وقت پڑھ کر منتظر رہے جب سورج نکلے تب مسجد خیف کے پہاڑ کی راہ سے جس کوضب کہتے ہیں‘ عرفات کو جائے یا زمین کی راہ سے جو مزدلفہ اور عرفہ کے درمیان میں ہے ‘ واپس ہو اور عرفات کو نکلتے وقت یہ دعا ء پڑھے ۔’’ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا خَیْرَ غُدْوۃٍ   غَدَوْتُھَا قَطُّ وَ اَقْرِبْھَا مِنْ رِضْوَانِکَ وَ اَبْعِدْھَا مِنْ سَخَطِکَ اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ غَدَوْتُ وَ اِیَّاکَ رَجَوْتُ وَ عَلَیْکَ اعْتَمَدْتُّ وَ وَجْھَکَ اَرَدْتُّ فَاجْعَلْنِیْ مِمَّنْ تَبَاھیٰ بِہٖ الْیَوْمَ مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِنِّیْ وَ اَفْضَلُ‘‘ ۔ اے اللہ ! اس صبح کو میری تمام صبحوں سے بہتر بنا اس کو اپنی رضامندی سے زیادہ قریب اور اپنے غصہ سے بہت دور کر ۔ اے اللہ ! میں نے تیری ہی طرف صبح کی اور تیری ہی آرزو کی اور تجھی پر اعتماد کیا اور تیری ہی ذات کا خواستگار ہوا ۔ پس مجھ کو ان لوگوں میں سے بنا جن پر آج کے دن مجھ سے بہتر اور افضل شخص نے فخر کیا ہے ۔

جب جبل رحمت پر نگاہ پڑے دعاء مانگے اور تسبیح و تہلیل و تحمید و استغفار و تکبیر پڑھے ۔ پھر عرفات میں مسجد النمرہ کے پاس جس کو مسجد ابراہیم کہتے ہیں ‘ قیام کرے اور زوال کے قبل کھانے پینے سے فارغ ہو کر وقوف عرفات کے لئے غسل کرے جو کہ سنت موکدہ ہے تاکہ زوال کے وقت یا اس سے پیشتر مسجد النمرہ میں جا بیٹھے ۔ زوال کے بعد خطبہ سنکر امام کے پیچھے ظہر و عصر کی نماز ایک اذان اور دو تکبیر کے ساتھ ظہر کے وقت پڑھے ۔ ان دونوں نمازوں کے درمیان میں نوافل او رسنتیں نہ پڑھے اور نہ کچھ کھائے پئے ۔ جب نماز سے فارغ ہو فوراً عرفات پر سوائے وادی عرُنہ کے جہاں چاہے اور جہاں جگہ پائے اونٹ پر سوار ہو کر قبلہ رو  امام کے پیچھے یا دائیں بائیں ٹھہرے ۔ مگر جبل رحمت کے پاس بڑے بڑے سیاہ پتھروں کے فرش پر ٹھہرنا بہتر ہے کیونکہ وہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا موقف ہے ۔ وہاں اب بطور مسجد کے احاطہ بنا ہوا ہے ۔ پہاڑ پر چڑھ کر وقوف کرنا اور اس کو سب مواقف سے بہتر جاننا کچھ اصلیت نہیں رکھتا ۔ پیادہ کھڑا رہنا ‘ بیٹھنا ‘لیٹنا بھی جائز ہے ۔ اس حالت میں مسکین محتاج کی طرح ہاتھ پھیلا کر دعاء مانگے اور’’ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ ‘‘کمال عاجزی سے شام تک پڑھتا رہے اور درمیان میں ہر ہر ساعت کے بعد لبیک پکارتا رہے اور اپنے گناہوں کو یاد کر کے پھوٹ پھوٹ کر روئے اور توبہ و استغفار دل و زبان سے کہے ۔ رونا نہ آئے تو منہ بسورے بلکہ اپنی سنگدلی پر روئے اور اپنے والدین ‘ استادوں ‘ رشتہ داروں ‘ دوستوں اور تمام مسلمانوں کے لئے مغفرت چاہے ۔ اس روز گناہ و قصور سے نہایت پرہیز کرے بلکہ مباح سے بھی بچے ۔ صرف دعا ء استغفار ‘ توبہ ‘ تسبیح ‘ تلاوت وغیرہ میں مشغول رہے کیونکہ ایسا دن پھر کہاں ملے گا ۔

طبرانی ‘ بیہقی و ابن ابی شیبہ حضرت علی و ابن عباس و جابر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جو دعاء پڑھتے تھے اس کا ترجمہ یہ ہے :  ’’ اللہ بڑا ہے ۔ اللہ بڑا ہے ۔ اللہ بڑا ہے ۔ اللہ ہی کے لئے حمد ہے ۔ اللہ ہی کے لئے حمد ہے۔ اللہ ہی کیلئے حمد ہے ۔ سوائے خدا کے کوئی سچا معبود نہیں ۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں ۔ اس کو بادشاہت اور اسی کو حمد ہے ۔ اے اللہ ! مجھکو سیدھی راہ دکھا اور پاک کر اور تقوے کا مضبوط پکڑ نے والا بنا اور دنیا و آخرت میں مجھ کو بخش ۔ اے اللہ ! تو اس کو حج مقبول اور بخشا ہوا گناہ قرار دے ۔ اے اللہ! میری نماز میری عبادت میری زندگی میری موت سب تیرے لئے ہے اور تیری ہی طرف میرا ٹھکانا ہے ۔ اے اللہ ! میں قبر کے عذاب ‘ دل کے وسوسے ‘ کام کی پریشانی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ اے اللہ ! تو ہم کو سیدھی راہ دکھا ۔ پرہیزگاری سے آراستہ کر اور دنیا و آخرت میں ہم کو بخش ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے حلال پاک برکت والی روزی چاہتا ہوں ۔ اے اللہ ! تو نے مجھے دعا مانگنے کا حکم دیا ہے اور قبول کرنا تیرا ہی کام ہے اور تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔ اے اللہ ! تو جس نیکی کو پسند کرتا ہے اس کو ہمارے نزدیک محبوب بنا اور ہمارے لئے آسان کر اور جس کو برا جانتا ہے اس کو ہمارے نزدیک برا کر اور ہم کو اس سے بچا اور ہم کواسلام کی ہدایت دینے کے بعد ہم سے مت چھین ۔ خدا کے سواء کوئی سچا معبود نہیں ۔ وہ اکیلا ہے ۔ اس کا کوئی ساجھی نہیں ۔ اس کو بادشاہت اور حمد ہے  ۔ وہی جلاتا اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ اے اللہ ! میرے سینہ میں نور ڈال اور میرے کان میں اور میری آنکھ میں اور میرے دل میں ۔ اے اللہ ! میرا سینہ کھول دے اور میرے کام کو آسان کر اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں میرے سینہ کے وسوسے ‘ کام کی پریشانی ‘ قبر کے عذاب سے۔   اے اللہ ! رات دن کے آنے والی اور ہوا کے چلنے اور حوادث زمانہ کی برائیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ اے ہمارے رب! تو ہم کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور عذاب دوزح سے بچا ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے وہ بھلائی چاہتا ہوں جس کو تجھ سے تیرے نبی نے مانگا ہے اور اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس سے تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ چاہی ہے ۔ اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہم پر بخشش اور رحم نہ کرے گا تو ہم بے شک گھاٹے میں رہیں گے ۔ اے رب ! تو مجھ کو اور میری اولاد کو پکا نمازی بنا ۔ اے رب میری دعا قبول کر ۔ اے ہمارے رب ! مجھ کو میرے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کو قیامت کے دن بخش دے۔ اے رب ! تو ان دونوں پر ویسا ہی رحم کر جیسا کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ہے ۔ اے ہمارے رب ! تو ہم کو اور ہمارے اگلے مسلمان بھائیوں کو بخش دے ۔ اور ہمارے دلوں میں مسلمانوں کی طرف سے کینہ مت ڈال ۔ اے رب! بے شک تو مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔ اے ہمارے رب ! تو بے شک سننے اور جاننے والا ہے ۔ ہم کو توبہ کی توفیق دے بے شک تو ہی توبہ کی توفیق دینے والااور رحم کرنے والا ہے ۔ گناہ سے پھرنے اور عبادت کرنے کی طاقت صرف خدا ئے بزرگ و برتر کی طرف سے ہے ۔ اے اللہ ! بے شک تو میرا مقام جانتا بوجھتا میرا کلام سنتا میرے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور تجھ پر میرا کوئی امر پوشیدہ نہیں ہے اور میں سخت محتاج فقیر فریادی پناہ جو شرمندہ خوف زدہ اپنے گناہوں کا اقرار اور اقبال کرنے والا ہوں تجھ سے مسکین کی طرح سوال کرتا ہوں اور ذلیل گنہگار کی طرح تیرے سامنے گڑ گڑا تا ہوں اور اندھے خوف زدہ کی طرح تجھے پکارتا ہوں جس کی گردن تیرے لئے جھکی اور آنکھیں تیرے لئے اشکبار ہویں اور اس کا جسم تیرے لئے لاغر اور اس کی ناک تیرے لئے خاک آلود ہوئی ۔ اے اللہ ! تو مجھے اپنی دعاء میں ناکام مت کر اور تو میرا مہربان و شفیق ہو ۔ اے سب سوال کئے گیوں اور بخشش کرنے والوں سے بہتر ! اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور ساری حمد پروردگار عالم کیلئے ہے تو اس کو قبول کر ۔ ‘‘

اور مناسب ہے کہ خضر علیہ السلام کی دعاء کابھی ورد کرے اور وہ  یہ ہے ’’یَا مَنْ لاَّ یَشْغَلُہٗ شَأْنٌ عَنْ شَأْنٍ وَ لَا سَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ وَ لَا تَشْتَبِہٗ عَلَیْہِ الْاَصْوَاتُ یَا مَنْ لَا یَغْلِطُہٗ کَثْرَۃُ الْمَسَائِلِ بِالْحَاجَاتِ وَ لَا یَخْتَلِفُ عَلَیْہِ الُّلغَاتُ وَ یَا مَنْ لَا یُبْرَمُہٗ اِلْحَاحُ الْمُلِِحِّیْنَ فِیْ الدُّعَائِ وَ لَا تَضْجِرُہٗ مَسْأَلَۃُ السَّائِلِیْنَ اَذِقْنَا بَرْدَ عَفْوِکَ وَ حَلَاوَۃَ مَغْفِرَتِکَ وَ لَذَّۃَ مُنَاجَاتِکَ وَ رَحْمَتِکَ ـ ‘‘ اے وہ ذات کہ تجھ کو ایک حالت سے دوسری حالت نہیں روکتی اور نہ ایک کا سننا دوسرے کی سننے سے مانع ہوتا ہے اور نہ تجھ پر آوازیں مشتبہ ہوتی ہیں ۔ اے وہ ذات کہ تجھ کو بہت سی مرادیں مانگنا غلطی میں نہیں ڈالتا اور نہ تجھ پر زبانیں مختلف ہوتی ہیں اور اے وہ ذات کہ تجھ کو نہ دعا مانگنے والوں کا اصرار عاجز کرتا اور نہ سوال کرنے والوں کا سوال تنگ کرتا تو ہم کو اپنی بخشش کی ٹھنڈک اپنی مغفرت کی حلاوت اور اپنی مناجات و رحمت کی لذت چکھا ۔
اور یہ دعا جس کو امام غزالی ؒ احیاء العلوم میں لکھتے ہیں نہایت موثر ہے ۔’’ اِلٰھِیْ مَنْ مَّدَحَ اِلَیْکَ نَفْسَہٗ فَاِنِّی لَائِمٌ لِّنَفْسِیْ اَخْرَسَتِ الْمَعَاصِیْ لِسَانِیْ فَمَالِیْ وَ سِیْلَۃٌ مِنْ عَمَلٍ وَ لَا شَفِیْعٌ سِوَا الْاَمَلِ‘‘ ۔ اے اللہ ! کرنے والوں نے اپنی تعریف تیرے سامنے کی ہوگی مگر میں تو اپنے آپ کو ملامت کرنے والا ہوں ۔ گناہوں نے میری زبان گونگی کر دی پس نہ مجھ کو عمل کا وسیلہ ہے اور نہ سوائے تیری امید کے کوئی میرا شفیع ہے ۔

سورج ڈوبنے کے بعد لبیک کہتا اور دعائیں پڑھتا ہوا امام کے ہمراہ اطمینان اور وقار کے ساتھ مزدلفہ کی طرف آئے ۔ اگر قدرت ہو تو جلدی جلدی چلے کیونکہ تیز چلنا مسنون ہے لیکن تیز چلنے سے کسی کو تکلیف نہ دے ۔ جب مزدلفہ کے پاس پہونچے اگر ہوسکے پیادہ ہولے اور غسل کرے ورنہ وضو کرے اور مزدلفہ کے پہاڑ کے پاس جس کو مشعر الحرام کہتے ہیں مسجد کی قریب راہ سے دا  ہنی طرف اترے ۔ عین راہ میں نہ اترے کیونکہ یہ مکروہ ہے ۔ اگر وہاں جگہ نہ پائے تو پھر تمام مزدلفہ ٹھہرنے کا مقام ہے بجز وادی محسر کے کہ وہاں سے گزرتے ہوئے بقدر پھینکنے ایک پتھر کے تیز چلے اور سوار ہو تو سواری کو تیز کرے بشرطیکہ اور چلنے والوں کو ایذا نہ پہونچے اور وہاں سے گزرتے ہوئے یہ دعا ء پڑھے ’’ اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَ لَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَ عَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ‘‘ ۔ اے اللہ ! نہ تو ہم کو اپنے غصہ سے قتل کر اور نہ اپنے عذاب سے ہلاک کر اور ہم کو اس سے پہلے عافیت دے ۔

اور اسباب اتار نے سے پہلے اگر مطمئن ہو تو مغرب و عشاء کی نماز ایک اذان اور ایک تکبیر (اقامت) سے امام کے پیچھے عشاء کے وقت ملاکر پڑھے ۔ مگر امام شافعی و امام مالک کے نزدیک دو تکبیر کے ساتھ ادا کرے ۔ مغرب و عشاء کی سنت اور وتر دونوں کے بعد پڑھے ۔ مغرب کی نماز میں بھی ادا کی نیت کرے ۔ جماعت سنت موکدہ ہے۔ اگر اکیلے پڑھے تو بھی دونوں نمازوں کو جمع کرے ۔
رات بھر وہاں رہے اور مثل عرفات کے خدا کی یاد ‘ دعا ‘استغفار اور استدعائے رضامندی اعداء میں مشغول رہے ۔ جب صبح صادق ہو ‘ اندھیرے میں فجر کی نماز امام کے پیچھے یا اکیلے پڑھ کر کوہ مشعر الحرام کے پاس جس کو جبل قزح بھی کہتے ہیں اور اب اس پر مکان بھی بن گیا ہے ‘  جا کر قبلہ رو لبیک تسبیح ‘ تہلیل ‘ تکبیر ‘ تحمید اور درود میں مشغول ہو اور طلوع آفتاب کے قریب تک ہاتھ پھیلا کر دعاء مانگے اور یہ دعاء پڑھے ۔’’ اَللّٰھُمَّ بِحَقِّ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَ الْبَیْتِ الْحَرَامِ وَ الشَّھْرِ الْحَرَامِ وَ الرُّکْنِ وَ المَقَامِ بَلِّغْ رُوْحَ مُحَمَّدٍ مِّنَّا التَّحِیَّۃَ وَ السَّلَامَ وَ اَدْخِلْنَا دَارَ السَّلَامِ یَا ذَا الْجَلَالِ وَ الاِکْرَامِ ۔‘‘ اے اللہ ! مشعر الحرام ‘ خانہ کعبہ ‘ ماہ حرام ‘ رکن حجر اسود اور مقام ابراہیم کے طفیل میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پاک کو ہماری طرف سے درود و سلام پہنچا اور اے بزرگی اور عزت والے تو ہم کو جنت میں داخل کر ۔ پھر باقلی (لوبیا) یا چنے کے برابر ۷۰ کنکریاں مزدلفہ سے لیکر منیٰ میں آئے اور نالے کے نشیب میں پانچ گز یا اس سے کچھ زیادہ فاصلہ سے جمرۃ العقبۃ کے سامنے ‘ منـٰی کو دا  ہنی جانب ‘ کعبہ کو بائیں طرف چھوڑ کر سواری یا پاپیادہ کھڑا ہو اور داہنے ہاتھ کے انگوٹھے اور کلمے کی انگلی سے ان کنکریوں کو متفرق طور پر خوب تاک کر جمرۃ العقبہ پر مارے اور ہر کنکری مارنے میں یہ دعا ء پڑھے ۔’’ بِسْمِ اللّٰہِ ‘ اَللّٰہُ اَکْبَرْ رَغْمًا لِّلشَّیْطَانِ وَ حِزْبِہٖ وَ رِضیً لِّلرَّحْمٰنِ وَ لُطْفِہٖ اَ للّٰھُمَّ اجْعَلْہٗ حَجًّا مَّبْرُوْرًا وَّ سَعْیًا مَّشْکُوْرًا وَّ ذَنْبًا مَّغْفُوْرًا ۔‘‘  میں اللہ کا نام لیکر اور اللہ سب سے بڑا ہے شیطان اور اس کے گروہ کی ذلت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و مہربانی کے لئے ایسا کرتا ہوں ۔ اے اللہ ! تو اس کو مقبول حج اور قابل قدر سعی اور بخشا ہوا گناہ قرار دے ۔ اور کنکریاں پھینکنے کے وقت ہاتھ اس قدر بلند ہو کہ بغل نظر آنے لگے اور پھینکنے کا طریقہ یہ ہے کہ کنکری انگوٹھے کے ناخن پررکھ کر کلمہ کی انگلی سے پھینکے  یا کلمہ کی انگلی کے اوپر کے جوڑ پر اندر کی جانب رکھ کر انگوٹھے کے ناخن سے پھینکے یا ان دونوں کی پور میں پکڑ کر پھینک دے اور یہ سب سے آسان ہے ۔ اگر جمرۃ العقبہ پر لگے یا اس کے آس پاس تین گز تک پڑے تو بہتر ہے ورنہ اس کے بدلے اور پھینکے ۔
پہلی کنکری پھینکتے وقت لبیک کہنا موقوف کرے خواہ مفرد ہو یا قارن یا متمتع اور کنکریوں کو جمرات پر سے اٹھا کر نہ مارے اس لئے کہ مقبول رمی کی کنکریاں فرشتے اٹھالے جاتے ہیں اور جو نامقبول ہوتی ہے وہ باقی رہ جاتی ہے ۔ پس نامقبول کنکری سے رمی نہیں کرنا چاہئے لیکن اگر ایسا کیا جائے تو کراہت کے ساتھ جائز ہے ۔ البتہ اگر کنکری ہاتھ سے گر پڑے اور اس کو اٹھا کر مارے تو اس میں کچھ قباحت نہیں ۔

جب کنکریوں کے پھینکنے سے فراغت پائے تو دعاء مانگتا ہو ا اپنے مقام پر آجائے کیونکہ وہاں ٹھہر نے سے اوروں کو تکلیف ہوگی ۔ پھر آتے ہی قربانی کرے ۔ قربانی مفرد پر مستحب اور قارن و متمتع پر واجب ہے ۔ اگر ان دونوں کو مقدور نہ ہوتو تین روزے دسویں سے پہلے اور سات روزے ایام تشریق کے بعد جملہ دس روزے رکھیں اور ذبح کرنے سے پہلے یا اس کے بعدیہ  دعاء  پڑھے’’ اِنِّیْ وَ جَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفاً وَّ مَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلٰوتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ ھٰذَا النُّسُکَ وَ اجْعَلْھَا قُرْبَانًا لِوَجْھِکَ وَ عَظِّمْ اَجْرِیْ عَلَیْھَا ‘‘ ۔ البتہ میں نے اپنا رخ سیدھا اس ذات کی طرف کیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے ۔ بے شک میری نماز ‘میری عبادت ‘میری زندگی ‘ میری موت سب پروردگار عالم کیلئے ہے جس کا کوئی ساجھی نہیں ۔ اور مجھے اسی بات کا حکم ہوا ہے اور میں پہلے فرمانبرداروں سے ہوں ۔ اے اللہ! تو میری اس عبادت کو قبول اور اس کو اپنی ذات پاک پر فدا کر اور اس پر مجھے اجر عظیم دے ۔ اگر قربانی کے دنبے ‘ بکرے کا سر ‘ پاؤں سیاہ اور باقی بدن سفید ہو تو بہتر ہے اور مستحب یہ ہے کہ قربانی کے دو ہاتھ ایک پاؤں باندھ کر اس کا منہ بائیں ہاتھ سے پکڑ کر داہنے ہاتھ سے قبلہ رو ہو کر ذبح کرے  ۔ اس کے بعد سر منڈائے یا بال کترائے جیسا کہ عمرے کے بیان میں گزرا ۔ سر منڈاتے وقت یا اس کے بعد تکبیر بھی کہے اور دعاء بھی مانگے جیسا کہ عمرے میں مذکور ہوا ۔ اس فعل سے اس کو سب چیزیں جو احرام باندھنے کے بعد منع تھیں حلال ہوگئیں مگر عورت سے رغبت کی بات چیت کرنا طواف زیارت کے بعد جائز ہوگا ۔ پھر اسی دن مکہ میں طواف زیارت ادا کرے  ۔ اگر پہلے رمل و سعی کرچکا ہو تو یہ طواف بغیر اضطباع و رمل کے ادا کرے ورنہ صرف رمل کرے ‘ اضطباع نہ کرے ۔ اس کے بعد صفا و مروہ میں سعی کرے ۔ یہ طواف گیارہویں بارہویں کو بھی جائز ہے۔ پھر طواف زیارت یا طواف و سعی کے بعد منـٰی میں جا کر شب باش ہو ۔ گیارہویں کو امام مسجد خیف میں ظہر کے بعد خطبہ پڑھتا اور بقیہ احکام بیان کرتا ہے اس کے سننے کے بعد جمرہ اولیٰ پر جو مسجد خیف کے پاس ہے ‘بدستور سابق سات کنکریاں مارے ۔ پھر ذرا سا بڑھکر قبلہ رو ہو کے خدا کی حمد و تسبیح و تہلیل بجالائے ‘ درود پڑھے اور اتنے عرصہ تک ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگے کہ اس میں سورہ بقرہ یا تین پاؤ سپارہ یا تیس آیتیں پڑھ سکے ۔ پھر جمرۃ الوسطیٰ پر آ کر بھی ویسا ہی کرے مگر نالے کی بائیں طرف آئے اور نشیب میں ٹھہرے پھر جمرۃ العقبہ پر کنکریاں مار کر بلا توقف دعاء مانگتا ہوا اپنے مقام پر آجائے اور شب کو وہیں رہے کیونکہ یہ مسنون ہے اور امام شافعی ؒ کے نزدیک واجب ہے ۔

پھر بارہویں تاریخ کو بھی ظہر کے بعد مثل گیارہویں کے کنکریاں مارے اگر اسی دن چلا آئے توکچھ مضائقہ نہیں ۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ’’ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَـلَا اِثْمَ عَلَیْہِ ‘‘ پس جو شخص دو دن میں شتابی کرے اس پر گناہ نہیں ۔ اسی واسطے بہت سے لوگ اسی دن چلے آتے ہیں اور اس دن کو نفر اول کہتے ہیں ۔ مگر بہتر یہ ہے کہ تیرہویں تاریخ کو بھی ظہر کے بعد کنکریاں پھینک کر بکمال تواضع و عاجزی روانہ ہو ۔ چنانچہ اکثر باہمت پرہیزگار ایسا ہی کرتے ہیں ۔ اس دن کو نفر ثانی کہتے ہیں ۔پھر محصب میں آ کر ٹھہرے اور دعاء مانگے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں قیام کیا ہے ۔ آفاقی حج کرنے والے کو خواہ مفرد ہو خواہ قارن خواہ متمتع طواف وداع یعنی طواف رخصت واجب ہے ۔ مگر عمرہ لانے والے اور حیض والی عورت اور زچہ اور غیر آفاقی پر واجب نہیں ۔ اس طواف کو بلا اضطباع و رمل جیسا کہ اوپر گزرا گھر جانے کے وقت بجا لائے اور زمزم کا پانی پینے کے بعد بطور تبرک کے اپنے سر اور منہ اور باقی بدن پر ڈالے ۔ پھر ملتزم پر آ کر چمٹے اور اپنے سینے اور داہنے گال کو کعبہ کی دیوار پر رکھے اور داہنے ہاتھ کو دروازے کی چوکھٹ کی طرف بڑھائے اور جیسا کہ غلام اپنے مولا کا دامن پکڑ کر تقصیر بخشواتا ہے‘ اسی طرح کعبہ کا پردہ ہاتھ میں پکڑ کر روتا ہوا گناہ بخشوائے اور استغفار ‘ دعاء ‘ کلمہ  توحید اور درود پڑھے ۔ پھر دروازہ کی چوکھٹ کو بوسہ دے اور جو چاہے دعاء مانگے اور حجر اسود کا استلام کرے پھر حسرت سے کعبہ کو دیکھتا اور اپنی جدائی پر روتا ہوا الٹے پاؤں پھرے اور باب الوداع سے باہر آئے ۔ مگر حیض والی عورت اور زچہ دروازہ پر سے رخصت ہو ۔ طواف وداع اس سے ساقط ہے ۔ رخصت ہونے کے وقت مساکین کو کچھ خیرات بھی کرے ۔
نصاب اہل خدمات شرعیہ، ۔ بشکریہ ادارہ ٔجامعہ نظامیہ
[email protected]

TOPPOPULARRECENT