Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ادارہ سیاست کی مسلم ایمپاورمنٹ مومنٹ کی حمایت و تائید

ادارہ سیاست کی مسلم ایمپاورمنٹ مومنٹ کی حمایت و تائید

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا شعور بیداری پوسٹرکا رسم اجراء ، مہم میں شدت پیدا کرنے کا اعلان
حیدرآباد۔7اکٹوبر(سیاست نیوز) پاپولر فرنٹ انڈیا گریٹر حیدرآباد کے قائدین نے نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان کی نگرانی میں ادارہ سیاست کی جانب سے چلائی جانے والی مسلم ایمپاورمنٹ تحریک کی تائید وحمایت میںتلنگانہ کے تمام اضلاع بشمول حیدرآباد میں شعور بیداری مہم چلانے کا اعلان کیا۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاپولر فرنٹ گریٹر حیدرآباد کے صدرمولانارفیق احمد رشادی کے علاوہ صدر آل انڈیا مسلم تھینک ٹینک جناب شمشاد قادری ‘ عابد الحد اسٹیٹ کمیٹی رکن پاپولر فرنٹ انڈیا‘ سیداسحاق نائب صدر‘ سیداعجاز جوائنٹ سکریٹری ‘ محمد عابد نے اس ضمن پوسٹرس کی اجرائی بھی عمل میںلائی۔ بعد ازاں مولانارفیق احمد رشادی نے کہاکہ 2014کے عام انتخابات سے قبل ٹی آر ایس پارٹی کے صدر اور موجود ہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو نے ریاست تلنگانہ میں پارٹی کے اقتدار میں آنے کے چار ماہ کے اندر مسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات فراہم کرانے کا جو وعدہ کیاتھا وہ پندرہ ماہ کا طویل عرصہ گذرجانے کے بعد بھی پورا نہیں ہوا ہے۔ لہذا فرنٹ حکمران جماعت کو اپنا وعدہ یاد دلانے کے لئے ادارہ سیاست کی جانب سے شروع کی گئی مسلم ایمپاورمنٹ کی اس تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کرتی ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں دیگر مسلم ادارے ‘ تنظیموںاور جماعتوں کو بھی آگے آنے اور ادارہ سیاست کی اس تحریک میں شامل ہوکر مسلمانوں کے ساتھ انصاف کی راہیں ہموار کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے مزیدکہاکہ پاپولر فرنٹ آف انڈیاکی جانب سے شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے تمام اضلاع میں پمفلٹس‘ پوسٹرس اور اپیل کے ذریعہ مسلم تحفظات کے ضمن میں شعور بیداری مہم چلائی جائے گی۔جنا ب شمشا د قادری نے اس موقع پر کہاکہ چیف منسٹر تلنگانہ ایک سنجیدہ انسان ہیں مگر تحفظات کے مسلئے پر چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر رائو کی خاموشی تعجب خیز ہے۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کے مسلمان پچھلے ساٹھ سالوں سے سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں کٹ پتلی بنے ہوئے ہیں مگر تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد مسلمانوں کے اندر نئی حکومت سے جو توقعات پیدا ہوئی تھی وہ بارہ فیصد تحفظات کے مسئلہ کو تعطل کاشکار بناکر ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے بھی مسلم اور سیکولر ذہن کے حامل تنظیمو ں او رجماعتوں کے قائدین سے مسلم ایمپاور منٹ کی اس تحریک میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لینے اور مسلمانوں کو ان کا کھویا ہوا مقام نئی ریاست تلنگانہ میں واپس دلانے کی اپیل کی۔

TOPPOPULARRECENT