Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

آج کچھ آداب طریقت کے بارے میں عرض ہے ۔ طریقت میں ادب ہی سے نکھار آتا ہے ، اس کے بغیر آدمی کورا رہتا ہے ، اس پر رنگ نہیں چڑھتا ۔ ایک چلتا ہوا جملہ مشہور مقولہ ہے۔ آپ نے بھی ضرور سنا ہوگا ۔
’باادب بانصیب ، بے ادب بے نصیب‘
یہ مقولہ حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ کے ایک قول سے ماخوذ معلوم ہوتا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں : جب کوئی مرید ادب کا لحاظ نہیں کرتا تو وہ لَوٹ کر وہیں پہنچ جاتا ہے، جہاں سے چلا تھا، یعنی جس طرح پہلے کورا اور بے حاصل تھا ، بعد میں ویسا ہی کورا اور       بے حاصل رہتا ہے۔ گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ طریقت میں نصیب ادب سے بنتا ہے ۔اگر ادب نہ ہو تو وہ بے نصیب ہی رہتا ہے ، اسی لیے بزرگوں نے کہا ہے    ؎
ازخدا خواہیم توفیق ادب
بے ادب محرومِ گشت از فضل رب
(ہم اﷲ تعالیٰ سے ادب کی توفیق مانگتے ہیں ، کیوں کہ بے ادب فضل رب سے
محروم کردیاجاتا ہے )
بے ادب را اندریں راہ بار نیست
جائے او بردار باشد در دار نیست
(یعنی وہ گھر میں رہنے کے قابل نہیں، سولی پر چڑھادیئے جانے کے لائق ہے)
اگر میں اقبالؒ کے ایک مصرع کو ایک لفظ کے تصرف کے ساتھ کہوں تو اگرچہ معنی میں کوئی خاص فرق نہ ہوگا لیکن اس وقت میرے موضوع کی اچھی طرح وضاحت   ہوجائے گی ۔ ع
ادب پہلا قرینہ ہے طریقت کے قرینوں میں ( تصرف کے ساتھ )
اس لئے بعض بزرگوں نے ’’التصوف کلہ ادب ‘‘ فرمایا ہے اور بعض نے ’الطریق کلہ ادب ‘ یعنی تصوف یا طریقت مکمل طورپر ادب ہی ادب ہے ۔
طریقت میں ادب کو جو درجہ دیا گیاہے ، وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں، کیوں کہ اعتقاد اسی سے مستحکم ہوتا ہے ، امثال امر کی صلاحیت اسی سے پیدا ہوتی ہے اور عمل اسی سے آسان ہوجاتا ہے ۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’ادب‘ ہے کیا چیز ؟
صوفیہ کرام کا کہنا ہے کہ ادب محاسن اخلاق اور نیک خصلتوں کا نام ہے ۔ نیک خصلتیں درحقیقت ایک زینہ ہوتی ہیں جس کے ذریعہ سے سالک اعلیٰ مدارج طے کرتا ہے۔ حضرت بو علی دقاقؒ فرماتے ہیں کہ بندہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے جنت تک پہنچتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کی اطاعت میں ادب بجالانے سے اﷲ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے۔ قرآن کریم کی آیت مبارکہ ہے :
مَازَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَی
آنکھ نہ درماندہ ہوئی ، نہ حد ادب سے آگے بڑھی (۵۳:۱۷)
کہتے ہیں اس سے مراد بارگاہِ رب العزت میں ادب ہی ہے ۔ اسی طرح اﷲ تعالیٰ کا ایک اور ارشاد ہے :
قُوا  أَنفُسَکُمْ وَ أَھْٖلِیْکُمْ نَاراً
اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ ( ۶۶:۶)
حضرت ابن عباسؒ نے اس کی تفسیر یوں بیان فرمائی ہے کہ انھیں عقل مند اور سمجھدار بناؤ اور ادب سکھاؤ ۔ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے :
ادبنی رب فاحسن تادیبی
میرے رب نے مجھے ادب سکھایا ہے اور اچھا ادب سکھایا ہے
حضرت سعید بن مسیب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس پر اﷲ تعالیٰ کے کیا حقوق ہیں اور وہ اﷲ تعالیٰ کے اوامرونواہی کا پابند نہ رہا تو وہ شخص ادب سے بے بہرہ ہے۔ حضرت عبداﷲ بن مبارکؒ نے ادب کی اہمیت کو یوں واضح فرمایا ہے : ہمیں زیادہ علم حاصل کرنے کے مقابلہ میں تھوڑا سا ادب حاصل کرنے کی زیادہ ضرورت ہے ۔ ادب کی اسی اہمیت کے پیش نظر حضرت ابوحفصؒاپنے مریدوں کو زیادہ مؤدب رکھتے تھے۔ وہ بغداد آئے تو حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے نہایت مہذب اور مودب مریدوں کو دیکھ کر فرمایا : آپ نے اپنے مریدوں کو شاہی آداب سکھا رکھے ہیں۔ اس پر حضرت ابوحفصؒ نے جواب دیا : ’’ظاہری حسنِ ادب ، باطنی حسب ادب کا آئینہ دار ہوتا ہے ‘‘ ۔ حضرت عبداﷲ بن مبارکؒ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ عارف باﷲ کے لئے پاس ادب اسی طرح ضروری ہے جس طرح مبتدی کے لئے توبہ۔
انبیائے کرام ادب کے بارے میں بڑے حساس ہوتے ہیں ۔ وہ ادب کی نزاکتوں کو خوب ملحوظ رکھتے ہیں۔ دیکھیں حضرت ایوب علیہ السلام نے دعا فرمائی تو کہا :
انی مسنی
(مجھ پر رحم فرما) نہیں کہا کیوں کہ پاس ادب کا تقاضا یہی تھا کہ … کہا جائے ۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے …… گزارش کی اور پاس ادب کو ملحوظ رکھا ۔
… کہا ، لم … نہیں کہا کیوں کہ اس میں بے ادبی کا شائبہ تھا۔
ایک مرتبہ حضورﷺ حضرات شیخین ابوکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تشریف فرما تھے، اسی وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آگئے تو آپ ﷺ نے تہمد کو پنڈلیوں پر درست فرمالیا اور فرمایا : میں اُس شخص سے حیا کیوں نہ کرو جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT