Saturday , May 27 2017
Home / Top Stories / اراکین اسمبلی کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا

اراکین اسمبلی کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا

دونوں تلگو ریاستوں کے چیف منسٹرس کو ایک اور جھٹکہ
حیدرآباد /24 نومبر ( سیاست نیوز ) پرانے نوٹوں کی منسوخی کے بعد پریشان دونوں تلگو ریاستوں کے وزراء اعلی کو شدید ایک اور جھٹکہ نے پریشان کردیا ہے ۔ نوٹوں کی منسوخی کے بعد پریشان ان چیف منسٹرس کے نئے منصوبوں اور دیرینہ خواہشات پر پانی پھر گیا ہے ۔ مالی اعتبار سے الجھن کا شکار ان چیف منسٹرس کو اب نئی مشکل آن پڑی ہے ۔ ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر مسٹر کے چندرا شیکھر راؤ نے حالیہ دنوں ریاست میں 21 نئے اضلاع کی تشکیل کی تھی اور دوسری سیاسی جماعتوں سے اراکین اسمبلی اور اراکین کونسل کو اپنی پارٹی میں شامل کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک پرسکون اور طاقتور سیاسی قائد کے طور پر پیش کیا تھا ۔ اب انہیں وزیر اعظم کے اعلان کے بعد مالی پریشانیوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف پارلیمینٹ میں مرکزی حکومت کی اس وضاحت کے بعد مزید ایک اور جھٹکا لگا ۔ جبکہ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ مسٹر ہنس راج گنگارام نے یہ اعلان کیا کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش ریاستوں کے اسمبلیوں میں اراکین کی تعداد میں فی الحال کوئی اضافہ نہیں ہوگا ۔ مرکزی وزیر ہنس راج گنگارام نے کہا کہ دونوں ریاستوں میں اراکین کی تعداد میں اضافہ کے فیصلے کو لے کر جب مسئلہ کو وزرات قانون سے رجوع کیا گیا تو وضاحت کی گئی کہ فی الحال توقعات ممکن نہیں ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ دستور کی دفعہ 170(3) کے تحت کسی بھی ریاست کی اسمبلی میں اراکین کی تعداد میں اس وقت تک اضافہ ممکن نہیں جب تک کہ ترمیم نہ کی جائے ۔ ترمیم سے قبل سینسس رپورٹ کی طباعت جوکہ 2026 کے بعد ہوگئی اس وقت تک اضافہ نہیں ہوسکتا ۔ اٹارنی جنرل نے یہ بھی کہا کہ سیکشن 26 آف اے پی اسٹیٹ رای آرگنائزیشن ایکٹ 2014 کو نظر میں رکھتے ہوئے دستور کی دفعہ 170 کو تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ تو ہی یہ ممکن ہوسکتا ہے ۔ فی الحال اس میں ترمیم کے کوئی امکانات نہیں ہیں ۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرا شیکھر راؤ نے ریاست میں 119 اراکین کی موجودہ تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے اس تعداد کو 153 تک کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ اسی طرح ریاست آندھراپردیش کے چیف منسٹر مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے بھی اے پی اسمبلی میں اراکین کی تعداد میں اضافہ کا اعلان کیا تھا اور موجودہ 175 اراکین اسمبلی کی تعداد میں 225 تک اضافہ کا اعلان کیا تھا اور دونوں چیف منسٹرس ایک طرف چندرا بابو نائیڈو نے جگن کی پارٹی سے اور دوسری طرف کے سی آر نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپنی پارٹی میں اراکین کا استقبال کیا تھا ۔ جو ہر طرح سے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT