Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / اردغان کو قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کا مشورہ

اردغان کو قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کا مشورہ

یوروپی یونین کا بیان،حکومت کے خلاف بغاوت کی نئی سازش کا خدشہ : رجب طیب اردغان
انقرہ ۔ 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) یورپی یونین نے کہا ہے کہ حالیہ ناکام بغاوت کے بعد ترکی کی جانب سے نظامِ تعلیم، عدلیہ اور میڈیا کے خلاف کیے جانے والے اقدامات ’ناقابلِ قبول‘ ہیں۔ یورپی یونین کی نمائندہ اعلیٰ فیدریکا موگیرینی اور کمشنر جوہانس ہان نے ایک بیان میں کہا کہ انھیں ترکی کی جانب سے ہنگامی حالت کے نفاذ پر ’تشویش‘ ہے۔ اس اقدام سے ترکی کو ’حکم ناموں کے ذریعے حکومت چلانے کے وسیع اختیارات‘ حاصل ہو گئے ہیں۔ یورپی یونین کے دو اعلیٰ حکام نے صدر رجب طیب اردوغان پر زور دیا کہ وہ قانون کی بالادستی، انسانی حقوق اور آزادی کی پاسداری کریں۔ انھوں نے ترکی کی جانب سے یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کو معطل کرنے پر خبردار کیا ہے، اور کہا ہے کہ اسے ان شرائط کی پاسداری کرنی چاہیے جن کے تحت اس کنونشن کو معطل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل جرمن وزیرِ خارجہ فرینک والٹر شٹائن مائر نے ترکی پر زور دیا تھا کہ وہ بغاوت کی کوشش کے ردِ عمل میں تناسب کا خیال رکھے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بھی ترکی کے اقدامات کو ’غیرمعمولی کریک ڈاؤن‘ قرار دیا ہے۔

ہنگامی حالت کے نفاذ سے صدر اردوغان کو تین ماہ کے لیے خصوصی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔ اب وہ اور ان کا کابینہ پارلیمان کو نظر انداز کر کے قوانین منظور کر سکیں گے جنھیں عدالت چیلنج نہیں کر سکے گی۔ اس کے علاوہ میڈیا پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی، اور لوگوں کو گرفتار کرنے کے اختیارات وسیع تر کر دیے جائیں گے۔ حکومت کا اصرار ہے کہ اس سے عام لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہیں ہو گی، اور ہنگامی حالت کے نفاذ کا مقصد صرف بغاوت کے پیچھے ’وائرس‘ کا قلع قمع کرنا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس پیرس میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد فرانس نے بھی ہنگامی حالت نافذ کی تھی۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے کہا ہے کہ گذشتہ جمعہ کو منتخب حکومت کے خلاف فوج کے ایک ٹولے کی جانب سے بغاوت کی ناکام کوشش انٹلیجنس اداروں کی ناکامی کا نتیجہ تھی کیونکہ شبہ ہے کہ انٹلیجنس اداروں کے پاس بغاوت کی سازش کے بارے میں مکمل معلومات نہیں تھیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت کے خلاف بغاوت کی ایک نئی سازش بھی ہو سکتی ہے۔

ایک انٹرویو میں ترک صدر نے کہا کہ مسلح افواج تیزی کے ساتھ اپنے ڈھانچے کی تشکیل نو کر رہی ہے۔ نیا فوجی ڈھانچہ جلد ہی تشکیل پا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خدشہ ہیکہ حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک نئی سازش بھی کی جائے مگر یہ اتنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ ہم پہلے سے زیادہ محتاط ہیں۔ ترک صدر نے تسلیم کیا کہ حکومت کے خلاف بغاوت کی سازش سیکیورٹی اداروں کی ناقص معلومات کا نتیجہ تھی۔ میں نے انٹلیجنس چیف سے کہا ہے کہ سازش کو مخفی رکھنے کی کوشش یا اس کی تردید کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ صدر نے کہا کہ 103 فوجی افسران سمیت بغاوت کے شبے میں 10ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر وہ ہنگامی حالت میں توسیع کر سکتے ہیں۔ قبل ازیں اپنے ایک دوسرے بیان میں صدر ارذعان نے کہا تھا کہ امریکہ میں جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے فتح اللہ گولن کے حامی فوجیوں نے نہتے شہریوں پر بمباری کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT