Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / اردن کے اسلام مخالف مصنف کا عدالت کے باہر قتل

اردن کے اسلام مخالف مصنف کا عدالت کے باہر قتل

امان ۔26 ستمبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) اردن کے دارالحکومت امان میں اسلام مخالف مصنف ناہض حتر کو گولیاں مارتے ہوئے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ اس مصنف پر اسلام مخالف اور توہین آمیز کارٹون شائع کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ہلاک ہونے والے مصنف اور صحافی کی عمر 56 برس تھی اور ایک مسلح شخص نے عدالت کے سامنے انہیں تین گولیاں مارتے ہوئے ہلاک کر دیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ناہض حتر کو کیوں قتل کیا گیا ہے؟اردن کی مشہور آن لائن ویب سائٹ الغد کے مطابق حملہ آور کا تعلق اس ملک سے نہیں ہے اور وہ اس کارروائی سے ایک روز پہلے ایک ہمسایہ ملک سے اردن میں داخل ہوا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ جس وقت ملزم کو گرفتار کیا گیا، اس وقت اس نے اردن کا روایتی لباس پہن رکھا تھا۔ایک ماہ پہلے مقتول مصنف نے فیس بک پر ایک متنازعہ کارٹون شائع کیا تھا، جس کے بعد اردن بھر میں اس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اردن کے زیادہ تر مسلمانون کا اعتراض کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حتر نے توہین مذہب کی ہے۔اس احتجاج کے بعد حتر نے اپنی پوسٹ تلف کر دی تھی تاہم ان کا کہنا تھا، ’’یہ کارٹون دہشت گردوں، ان کے خدا اور جنت کا مذاق اڑاتا ہے۔ تاہم اس میں خدا کی واحدانیت کا قانون نہیں توڑا گیا‘‘۔ اس کے بعد حکومت نے حتر کو گرفتار کر لیا تھا اور ان پر فرقہ واریت کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا گیا۔ رواں ماہ کے آغاز پر ایک عدالت نے ان کو ضمانت پر جیل سے رہا کر دیا تھا لیکن ان کے خلاف مقدمہ جاری رکھا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق حتر پیشی کے لیے عدالت جا رہا تھا کہ اسے ہلاک کر دیا گیا۔ مقتول صحافی اسلام پسندی پر متعدد ناقدانہ مضامین لکھ چکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT