Monday , May 1 2017
Home / شہر کی خبریں / اردوکوروزگار اورجدید ٹکنالوجی سے مربوط کرنا وقت کی اہم ضرورت

اردوکوروزگار اورجدید ٹکنالوجی سے مربوط کرنا وقت کی اہم ضرورت

اردو یونیورسٹی کی سائنس کانگریس میں شریک اردو ادب کی اہم شخصیتوں کے اعزاز میں پروگرام

حیدرآباد, 19 فروری(سیاست ڈاٹ کام)نئی نسل کواردو سے جوڑنے کے لئے اردوکے ادیبوں، پروفیسرس، شاعروں، نقادوں اورصحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پرجمع ہوکر ایک مضبوط لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے تاکہ موجود دور میں اردوزبان کودرپیش مسائل اورچیلنجس کاحل نکالاجاسکے ۔ ان خیالات کا اظہار شام یاراں کے عنو ان سے نوبل ہال مصطفی ٹاورز حیدرآباد میں منعقدہ تقریب میں شریک مقررین نے کیا۔ مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں منعقدہ قومی اردو سائنس کانگریس میں ملک کے کونے کونے سے حیدرآباد تشریف لائے اردوادب سے تعلق رکھنے والوں کے اعزاز میں اورحیدرآبادکے اردودوست احباب سے ملاقات کیلئے اس پروگرام کاانعقاد کنوینراردوسائنس کلب ارشدحسین نے عمل میں لایاتھا۔ارشد حسین نے اس پروگرام کے انعقاد سے متعلق کہاکہ سوشل میڈیا اور دیگر ذائع سے دنیابھرسے لوگ ایک دوسرے سے رابطہ میں رہتے ہیں اردویونیورسٹی میں سائنس کانگریس میں اپنا مقالہ پیش کرنے کے لئے سب لوگ حیدآباد تشریف لائے تھے انہیں ایک جمع کرنے اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والوں سے متعارف کروانے کیلئے انہوں نے اس پروگرام کاانعقاد عمل میں لایاہے ۔کولکتہ سے تشریف لائے جاوید نیہال ہاشمی نے کہاکہ شہرحیدرآباد میں اس طرح کی ادبی محفل میں شرکت کرتے ہوئے انہیں بہت فخر محسوس ہورہا ہے ۔ حیدرآباد نے ہمیشہ سے اردودانوں کی قدر کی ہے ۔وہ یہاں کی تہذیب اورمہمان نوازی سے بہت متاثرہوئے ہیں۔ ڈاکٹرعابدمعز نے اردوکوسائنس وٹکنالوجی سے جوڑنے کے لئے ادب کے ساتھ ساتھ سائنسی مضامین لکھنے پربھی توجہ دینے کی اپیل کی۔پروفیسر مصطفی سروری نے کہاکہ اردومیڈیم اسکولس کو سائنس وٹکنالوجی سے جوڑنا ضروری ہے اس کے لئے ہمیں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہئے ۔ مقررین نے اعجاز عبید جنہوں نے یونی کوڈ سے متعلق بہت اہم کیا ہے جس کی بدولت ہم آسانی سے اردوکا مواد حاصل کرسکتے ہیں۔ان کی تیار کردہ ویب سائیٹ بز م اردو لائبریری میں دوہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں اوربزم اردو ایپ کے ذریعہ ہم فون پربھی کتابیں پڑھ سکتے ہیں ان کے اس کارنامہ پر مباررک باد پیش کی۔مقررین نے درخواست کی کہ اردو کاایک اخبار ہر حال میں ہمیں اپنے گھرمانگوانا ہے اس سے ایک طرف جہاں اردو اخبار کوفائدہ ہوگا وہیں گھرمیں موجود بچے جوانگریزی میڈیم میں پڑھ رہے ہیں وہ بھی اردو پڑھنے کی طرف راغب ہوں گے اس لئے ہمیں اردو اخبار جو بہت کم قیمت پرہوتا ہے اس کوخریدنا چاہئے اورایک ادبی رسالہ بھی منگوانا چاہئے تاکہ لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوسکے ۔ کینیڈا سے تشریف لائے علی نثار نے کہاکہ حیدرآباد جیسا ادبی ماحول پوری دنیا میں نہیں ہے ۔ اردو کی ہرمحفل یہاں کامیاب ہوتی ہے اور اردوجیسی میٹھی زبان جیسی دنیا میں کوئی دوسری زبان نہیں ہے ۔ریسرچ اسکالرمحسن خان نے کہاکہ اردوکوبنیادی سطح پرمضبوط کرنے کے لئے ہمیں اسکولس کے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔ ان کے لئے تحریری اورتقریری مقابلے منعقد کرتے ہوئے انعامات دینا چاہئے تاکہ وہ دلچسپی لیں۔ اس پروگرام میں صادق حسین اسسٹنٹ رجسٹرار سنٹرل یونیورسٹی ، ڈاکٹر عابد معز ، مصطفی علی سروری، ڈاکٹرجاوید نیہال ہاشمی (کولکتہ) ، علی نثار(کینیڈا)،معظم راز، ولی اللہ قادری(اے ایس آئی ایف)، عبید اعجاز، ریحان انصاری، ،مظہر صدیقی، ابوالخیر صدیقی، الیاس شمسی اوردیگرموموجود تھے ۔پروگرام کنوینر ارشد حسین کے شکریہ پرپروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT